Loading
برطانوی عدالت نے 54 سالہ عبدالحلیم خان کو 2004 سے 2015 کے درمیان 7 لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں عمر قید سنادی گئی جس میں کم از کم 20 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے جن 7 لڑکیوں اور خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اُن میں ایک 12 سالہ بچی بھی شامل تھی۔
عبد الحلیم خان اہلِ خانہ کو یقین دلاتا تھا کہ متاثرہ لڑکیاں جن، بدروحوں یا کالے جادو کے اثر میں ہیں اور انھیں روحانی علاج کی اشد ضرورت ہے۔
استغاثہ نے مزید بتایا کہ ملزم اپنے مذہبی اثر و رسوخ، خوف اور جھوٹے روحانی دعوؤں کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو خاموش رکھتا تھا۔
وہ یہ دعویٰ بھی کرتا تھا کہ اگر کسی نے اس کے بارے میں بات کی تو متاثرہ افراد اور ان کے خاندان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق متاثرین میں سے کئی لڑکیاں برسوں خوف اور سماجی دباؤ کی وجہ سے خاموش رہیں۔
پولیس کو 2018 میں پہلے کیس کا علم ہوا جس کے بعد تحقیقات کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے مذہبی اعتماد کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کم عمر اور کمزور لڑکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے ان کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل