Loading
سینئر سول جج وسطی کی عدالت نے بارش میں کرنٹ لگنے سے شہری کی ہلاکت پر کے الیکٹرک کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ شیخ سعد احمد 2019 میں بارش کے دوران بچے کو بجلی کے کھمبے سے کرنٹ لگنے سے بچاتے ہوئے جاں بحق ہوا، جو اپنے خاندان کا کفیل تھا۔ اس سے قبل علاقہ مکینوں کی شکایات کے باوجود کے الیکٹرک نے موثر کارروائی نہیں کی۔
دوران سماعت کے الیکٹرک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ پول ان کی ملکیت نہیں ہے۔ پول پر پرائیویٹ جنریٹر، ٹیلی فون، کیبل کی تاریں لگی تھیں۔ کرنٹ جنریٹر کی تاروں سے خارج ہوا۔ کے الیکٹرک کی تنصیبات محفوظ ہیں۔ متوفی نے خطرناک مقام کے قریب جاکر اپنی جان خطرے میں ڈالی۔
عدالت نے قرار دیا کہ بجلی کے ادارے پر عوام کے تحفظ کی غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کھمبے پر دیگر اداروں کی تاروں کی موجودگی سے کے الیکٹرک ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔عوامی مقام پر نصب پول میں کرنٹ ہونا بذات خود غفلت کا ثبوت ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ انسانی جان بچانے کی کوشش کو قانون نرم نظر سے دیکھتا ہے۔ متوفی کی بچے کو بچانے کی کوشش کو مکمل غفلت نہیں قرار دیا جاسکتا۔ عدالت نے کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت ہرجانے کی رقم 90 دن میں اہلخانہ کو ادا کی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل