Saturday, May 16, 2026
 

پنکی عدالت میں پھٹ پڑی، بنی گالہ سمیت کئی اہم  باتوں پر لب کھول دیے

 



منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کردیا گیا، جہاں ملزمہ نے اپنے بیان میں عدالت کو اہم باتیں بتائیں۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیش کردیا۔ دوران سماعت ملزمہ انمول عرف پنکی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ جج  نے ملزمہ سے نام پوچھتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں، پانی پئیں، یہ سٹی کورٹ ہے، یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔ ملزمہ نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ میرا نام انمول ہے، مجھے 20دن سے اٹھایا ہوا ہے۔    مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی۔ 6 آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لے کر آئے۔ 15دن بعد مجھے پولیس کے حوالے کیا گیا ۔  مجھ پر  زور زبردستی سے لوگوں کے نام کہلوائے جارہے ہیں۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے انمول عرف پنکی نے بتایا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جو ہم نام بتارہے ہیں، ان سب کا نام لو۔ عدالت نے کہا کہ آپ کا اقبالی بیان نہیں ہو رہا ہے ابھی۔ عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے۔ملزمہ سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ ملزمہ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ  کی فیملی کو اٹھا کر لیں جائیں گے۔ اسی طرح بنی گالہ کے ایک بندے کا نام لیا جارہا ہے، کہا جارہا ہے کہ اس کا نام لو۔ پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے، انہوں نے کہا تھا ایسے آپ نے چلنا ہے۔ میری گرفتاری جہاں سے ڈالی گئی، وہ گھر میرا نہیں ہے۔ عدالت نے  حکم دیا کہ نظر ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کیے جائیں۔ دوران سماعت بغدادی تھانہ پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے قتل کیس میں تفتیش کے لیے مزید ریمانڈ طلب کیا گیا۔ عدالت نے آئی او سے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمہ سے کیا تفتیش کی؟، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے معائنہ کیا، مزید 11مقدمات درج کیے گئے ۔ ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ۔ تینوں کیسز میں پہلی دفعہ ملزمہ کو جیل بھیجا گیا ۔ ملزمہ بہت عرصے بعد پکڑی گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل