Loading
مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایسی ہنگامہ خیز کیفیت کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غیر ذمے دارانہ عسکری اقدام یا ایک غیر متوازن سیاسی حکمت عملی پوری دنیا کو ایک نئے بحرانی دور میں دھکیل سکتی ہے۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایران کا دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کا واضح اظہار ہے۔
تہران میں ہونے والی ملاقاتیں، ایران کے محتاط مگر مثبت بیانات، چین اور روس کی متحرک سفارت کاری، یورپی یونین کی بے چینی اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں کا اچانک بلند ہونا، یہ سب اس امر کی نشان دہی کررہے ہیں کہ دنیا جنگ نہیں چاہتی۔ عالمی طاقتوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ میں تبدیل ہوئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت، سلامتی کے نظام اور سیاسی استحکام سب شدید متاثر ہوں گے۔
پاکستان نے اس ساری صورتحال میں جس تحمل، توازن اور سفارتی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابل توجہ ہے۔ اسلام آباد نے نہ صرف یہ کوشش کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے منقطع نہ ہوں بلکہ اس نے مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ امریکی رویے کے باعث مشکلات کا شکار ہے، دراصل پاکستان کی سفارتی ساکھ کا اعتراف ہے، ایران کا پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرنا پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔ اس بیان سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوتی ہے کہ تہران ابھی دروازے بند نہیں کرنا چاہتا، وہ مذاکرات کے امکانات کو زندہ رکھنا چاہتا ہے، اگرچہ اس کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ایران کا مسئلہ صرف ایک جوہری تنازع نہیں رہا۔ اب یہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، جغرافیائی سیاست، توانائی کے مفادات، اسرائیل کے علاقائی کردار اور امریکی بالادستی کے سوال سے جڑ چکا ہے۔ تہران کی قیادت کو یہ احساس ہے کہ اسرائیل مسلسل امریکا کو اس سمت دھکیل رہا ہے جہاں سفارت کاری کمزور اور عسکریت مضبوط ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ایران بار بار یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ بھرپور مزاحمت کرے گا۔
اس مؤقف میں جذباتیت سے زیادہ حقیقت پسندی نظر آتی ہے، کیونکہ ایران جانتا ہے کہ براہِ راست جنگ اس کی معیشت، داخلی استحکام اور علاقائی اثرورسوخ کے لیے بھی خطرناک ہوگی، تاہم وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ مکمل پسپائی اسے مزید دباؤ کا شکار بنا سکتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بحران کی پیچیدگی کو مزید واضح کرتے ہیں۔
ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ جنگ بندی پاکستان کے کہنے پر ایک’’ فیور‘‘کے طور پر کی گئی، دوسری جانب وہ ایران کو دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اب مزید صبر نہیں کیا جائے گا۔ اسی گفتگو میں وہ چین کے ساتھ تعلقات، تائیوان کے مسئلے، ایرانی تیل پر پابندیوں اور اسرائیلی مفادات کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یہ متضاد طرز بیان اس تذبذب کی عکاسی کرتا ہے جو امریکی پالیسی کے اندر موجود ہے۔ واشنگٹن بیک وقت کئی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کو مطمئن رکھنا، ایران کو محدود کرنا، چین کو قابو میں رکھنا، خلیجی ریاستوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا اور عالمی منڈی کو مکمل بحران سے بھی بچانا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام مقاصد ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ امریکا کے اندر خود اس حوالے سے یکسوئی موجود نہیں۔ عسکری ادارے، خفیہ حلقے، اسرائیل نواز لابیاں، تیل کی سیاست، انتخابی ضروریات اور عالمی دباؤ سب مختلف سمتوں میں کھینچ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، کبھی حملوں کی تیاریوں کی خبریں سامنے آتی ہیں اور کبھی پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دیا جاتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ اگر درست ہے اور امریکا و اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہے ہیں تو یہ نہایت خطرناک پیش رفت ہے۔
خارگ آئی لینڈ جیسے حساس توانائی مرکز کو نشانہ بنانے یا ایرانی سرزمین پر کمانڈو کارروائیوں کے امکانات صرف عسکری مہمات نہیں بلکہ پورے خطے کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہوں گے۔ ایران ایسی کسی کارروائی کا جواب ضرور دے گا اور اس کے بعد جنگ کا دائرہ محدود نہیں رہ سکے گا۔
دنیا کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ایران کوئی کمزور یا تنہا ملک نہیں۔ اس کے علاقائی اتحادی موجود ہیں، اس کے پاس غیر روایتی ردعمل کی صلاحیت ہے اور سب سے بڑھ کر وہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی کشیدگی بڑھتی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان کی طرف دوڑ پڑتی ہیں۔ ڈبلیو ٹی آئی اور برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف اقتصادی خبر نہیں بلکہ عالمی خوف کا اظہار ہے۔
سرمایہ کار جانتے ہیں کہ اگر ہرمز میں عدم استحکام پیدا ہوا تو نہ صرف تیل بلکہ عالمی تجارت کا پورا نظام متاثر ہوگا۔ ایشیائی معیشتیں، یورپ کی صنعتی سرگرمیاں اور ترقی پذیر ممالک کی پہلے سے کمزور معیشتیں شدید دباؤ میں آجائیں گی۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بحران دہرا خطرہ رکھتا ہے۔ ایک طرف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل کو ناقابلِ برداشت بنا سکتا ہے، دوسری طرف خطے میں بدامنی سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی بحالی کے امکانات کو متاثر کرے گی۔ پاکستان پہلے ہی مالیاتی دباؤ، مہنگائی اور بیرونی قرضوں جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے، اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بھڑک اٹھی تو اس کے اثرات پاکستانی معیشت پر فوری طور پر مرتب ہوں گے۔ تیل مہنگا ہوگا، ترسیلاتِ زر متاثر ہوسکتی ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قیادت اس بحران کو صرف خارجی معاملہ نہیں بلکہ اپنی داخلی اقتصادی سلامتی سے جڑا مسئلہ سمجھتی ہے۔
چین کا کردار اس بحران میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ بیجنگ نے واضح طور پر کہا ہے کہ تنازعات مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں اور جنگ دوبارہ نہیں ہونی چاہیے۔ چین کے یہ بیانات محض اخلاقی اپیل نہیں بلکہ اس کی اقتصادی مجبوری بھی ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی درآمد کنندہ ہے اور مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کا براہِ راست اثر اس کی معیشت پر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چین ایران کے ساتھ بھی روابط رکھتا ہے اور امریکا کے ساتھ بھی کشیدگی کو مکمل تصادم میں بدلنے سے گریز کرتا ہے۔ روس بھی اسی وجہ سے متحرک ہے۔ یورپی یونین کی تشویش بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ یورپ پہلے ہی یوکرین جنگ کے باعث توانائی بحران اور اقتصادی دباؤ کا شکار ہے، وہ کسی نئے محاذ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اس پورے بحران میں اسرائیل کا کردار بھی گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔
اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اس بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ، اقتصادی خطرات اور سفارتی امکانات کو سمجھنے کے لیے تیار ہے؟ اگر امریکا واقعی امن چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کے ہر مطالبے کو اپنی پالیسی نہیں بنانا چاہیے۔ اسرائیل کی سلامتی یقیناً اہم ہے، مگر دنیا کا امن اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ کسی بھی خطے میں مستقل استحکام طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور سفارت کاری سے پیدا ہوتا ہے۔
ایران کے ساتھ اگر کوئی معاہدہ ہونا ہے تو وہ دھمکیوں اور بمباری کے سائے میں پائیدار نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی برادری کے خدشات کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ پاکستان کی سفارت کاری کی کامیابی کا انحصار صرف بیانات پر نہیں بلکہ اعتماد سازی پر ہوگا۔ اسلام آباد کو تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوگا، کیونکہ موجودہ حالات میں رابطے کا منقطع ہونا ہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر اس وقت شروع ہوتی ہیں جب سفارتی دروازے بند ہوجاتے ہیں اور غلط فہمیاں پالیسی کی جگہ لے لیتی ہیں۔ پاکستان اگر ایک پل کا کردار ادا کرسکے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم خدمت ہوگی۔
دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ کی آگ صرف بارود سے نہیں بلکہ غلط فہمیوں، سیاسی ضد، داخلی دباؤ اور طاقت کے زعم سے بھڑک سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں۔ ایران کو سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنا چاہیے، امریکا کو طاقت کے استعمال سے پہلے نتائج کا ادراک کرنا چاہیے، اور اسرائیل کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلسل عسکری برتری امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
اسی طرح عالمی طاقتوں کو بھی محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی سفارتی اقدامات کرنا ہوں گے،اگر آج بھی عقل و تدبر غالب نہ آئے تو کل شاید بہت دیر ہوچکی ہوگی۔ مشرق وسطیٰ کی ایک نئی جنگ صرف ایک خطے کی تباہی نہیں ہوگی بلکہ پوری دنیا کے سیاسی و اقتصادی نظام کو ہلا کر رکھ دے گی۔ ایسے میں پاکستان کی امن کوششیں امید کی ایک اہم کرن ہیں اور یہ امید باقی رہنی چاہیے کہ مذاکرات، تحمل اور سفارت کاری آخرکار جنگ، نفرت اور تباہی پر غالب آئیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل