Loading
16مئی 2026ء کویہ خبر دُکھ اور افسوس کے ساتھ سُنی گئی ہے کہ ماہنامہ’’ اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر و بانی اور وطنِ عزیز کے معروف دانشور جناب الطاف حسن قریشی نے دُنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے : بے شک ہر انسان کو اپنے خالق و مالک، اللہ، ہی کی جانب لَوٹ کر جانا ہے ۔
مرحوم معروف ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کے بھی بانی تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نہیں گزرے، ایک نظریاتی عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے ۔ ایک شخصیت میں پنہاں ایک مکمل ادارہ انجام سے ہمکنار ہُوا ہے ۔ بِلاشبہ الطاف صاحب کا انتقال قومی صحافت کا نقصان ہے ۔ آپ 6 عشروں سے زائد عرصے تک ہماری قومی صحافت و سیاست پر چھائے رہے ۔ ایک زمانے میں الطاف صاحب نے ایک قومی روزنامے کا اجرا بھی کیا تھا ۔
یہ روزنامہ اب بھی کراچی سے شائع ہوتا ہے ، مگر جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام و ملکیت ۔ الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم جماعتِ اسلامی و بانیِ جماعتِ اسلامی کے چاہنے والوں میں بھی سرِ فہرست تھے ۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ سے اُن کی عقیدت و محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔ اُنہوں نے مودودی صاحب علیہ رحمہ کے انٹرویوز بھی کیے اور اُن کی شخصیت اور وسیع دینی خدمات پر ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے خاص نمبرز بھی شائع کرکے اپنی محبتوں کا عملی ثبوت دیا ۔ پاکستان بھر کی ماہنامہ صحافت میں سسپنس ڈائجسٹ، سب رنگ ڈائجسٹ ، قومی ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ نے بڑی شہرت حاصل کی ، مگر اُردو ڈائجسٹ کی شہرت اِن سب میں ممتاز و منفرد تھی ۔ الطاف صاحب سے لاتعداد یادیں وابستہ ہیں۔
الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم محض ایک شخصیت اور فرد ہی نہیں تھے ، بلکہ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ اور انجمن کہلائے جانے کے بجا طور پر مستحق تھے ۔ نہائت فعّال شخصیت !!جس وقت اُنہوں نے امریکی جریدے (ریڈرز ڈائجسٹ) کے تتبع میں اُردو ڈائجسٹ کی بنیادیں رکھیں، ہماری قومی صحافت کے اُفق پر بڑے بڑے نام تھے ، لیکن اِن سب کی موجودگی میں الطاف صاحب نے اپنی شخصیت ، فکر اور قلم کا لوہا منوایا۔ اُردو ڈائجسٹ کی صورت میں ایک نظریاتی چراغ روشن ہُوا تو اِس کے فکری اُجالے کا دائرہ روز افزوں تھا ۔ یہ معمولی بات نہیں، نصف صدی کا شاندار قصّہ ہے ۔
اِسے پیہم جلائے رکھنا کارِ دشوار تھا ، مگر الطاف حسن قریشی صاحب کا پُر وقار اور پُر عزم قلم اِسے آگے بڑھنے کا راستہ دیتا اور حوصلہ بخشتا رہا ۔ الطاف حسن قریشی کی صحافتی شخصیت اور اُردو ڈائجسٹ و ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کے تربیتی اداروں میں ہماری قومی صحافت کے کئی ایک قابلِ ذکر و قابلِ فخر نام وابستہ رہے ۔ مثال کے طور پر جناب مجیب الرحمن شامی ، جناب ضیاء شاہد ، جناب اسد اللہ غالب ، جناب آباد شاہ پوری ، جناب ارشاد عارف، جناب منیر احمد منیر۔ اِن میں سے کئی افراد نے اُردو ڈائجسٹ و ہفت روزہ زندگی کے چراغ سے اپنے چراغ بھی جلائے ۔ اپنے صحافتی ادارے قائم کیے جو اَب تک لَو دے رہے ہیں اور جن سے سیکڑوں صحافیوں کا روزگار وابستہ ہُوا۔الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم قومی اُمور بارے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔
چاہتے تھے کہ نظریہ پاکستان کے تحت جملہ پاکستانی امور، حکمران ، بیوروکریسی ، سیاستدان ، تعلیمی ادارے ، قومی صحافت آگے بڑھے اور پاکستان کے نظریاتی ، سیاسی اور معاشی استحکام میں اضافہ ہو ۔ اِس ضمن میں نظریاتی اور فکری محاذ پر اُن سے جو بن پڑا، کیا۔ مثال کے طور پرPINAکا قیام ! جنرل ضیاء الحق کا دَور تھا اور وزیر اعظم تھے محمد خان جونیجو ۔ اُردو ڈائجسٹ کے زیر اہتمام لاہور کے مشہور کلچرل سینیٹر ( الحمرا آرٹ سینیٹر)میں ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی اورالطاف حسن قریشی صاحبان کی مساعی سے تین روزہ کانفرنس منعقد ہُوئی ۔ یہ کانفرنس دراصل اُردو ڈائجسٹ کی ’’سلور جوبلی‘‘ تھی ۔
مَیں بھی اُردو ڈائجسٹ کی اِس سہ روزہ تاریخی کانفرنس میں شریک تھا ۔تینوں روز مذکورہ سینیٹر کا بڑا ہال سامعین کرام سے بھرا پڑا تھا۔ یہ دراصل اُردو ڈائجسٹ کی عوامی مقبولیت ومعروفیت کا اظہار بھی تھا۔ بڑے بڑے صحافیوں، دانشوروں اور سیاستدانوں نے اِس میں شرکت کی تھی۔ کانفرنس کے ایک سیشن کی صدارت وزیر اعظم محمد خان جونیجو اور دوسرے سیشن کی صدارت قریشی برادران کے مہربان جنرل ضیاء الحق نے کی تھی ۔مشہور دانشور اور مصنف ، سراج منیر صاحب، اِس کانفرنس کی نظامت کررہے تھے ۔ اِسی کانفرنس میں الطاف حسن قریشی صاحب نے PINA (ادارئہ امورِ پاکستان )کی بنیادیں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ ایک منفرد تھنک ٹینک اور این جی او کے معرضِ عمل میں آنے کا اعلان تھا ۔ چونکہ قریشی برادران کی ضیائی حکومت سے بے حد اچھی نبھ رہی تھی ، اس لیے اِس چراغ کو جلائے رکھنے اور اِس میں تیل ڈالنے کا اہتمام پنجاب اور وفاقی حکومتیں مسلسل شفقتیں کرتی رہی ہیں ۔اِس کا دفتر گارڈن ٹاؤن ( لاہور) میں ہُوا کرتا تھا۔ اب یہ کہاں ہے اور کیا کررہا ہے ، معلوم نہیں ہے، لیکن شروع شروع میں اِس کی اُڑان نہائت بلند تھی ۔ مختلف موضوعات پر وقتاً فوقتاً مذاکرے اور کانفرنسیں بھی کرواتی تھی ، مگر دھیرے دھیرے اِس کی شہرت اور موجودگی مدہم پڑتی گئی ۔مجھے خود اُردو ڈائجسٹ سے وابستگی کا اعزاز و فخر حاصل ہے ۔
اگرچہ یہ وابستگی ایک مختصر عرصے کے لیے تھی ، لیکن اُردو ڈائجسٹ اور الطاف حسن قریشی صاحب سے مقدور بھر صحافتی اسرارو رموز سیکھنے کے متعدد مواقع ملے ۔ اِسی تربیتی عرصے کے دوران مجھے الطاف حسن قریشی صاحب کو قریب سے جاننے پہچاننے کے مواقع میسر آئے ۔ اُن کی صحافتی عظمت کا خود مشاہدہ کیا ۔ بے حد محنتی اور کڑی نظر رکھنے والے مدیر تھے ۔ مہینے کے آخری ایام میں اُردو ڈائجسٹ کی کاپیاں پریس جا رہی ہوتیں تو کئی اہم مضامین ، افسانوں اور تجزیوں کو خود دیکھتے ۔ مضمون کے انٹرویو پر خاص نظر رکھتے ۔ ضروری محسوس ہوتا تو اُن میں اضافہ و ترمیم کرتے ۔ ڈانٹتے بھی تھے ۔ اُن کی ڈانٹ میں اُردو زبان کی اصلاح ہوتی تھی ۔ اپنے لکھے اداریئے اور اپنے تحریر کردہ ماہانہ سیاسی تجزیئے ’’ہم کہاں کھڑے ہیں‘‘ جب کتابت کے مراحل سے گزر جاتے تو بالعموم خود بھی اِن کی پروف ریڈنگ کرتے تھے ۔ مَیں نے کئی بار اُن کے کمرے میں جا کر ملاحظہ کیا کہ ’’ہم کہاں کھڑے ہیں‘‘ لکھنے کے دوران وہ پیٹ کے بَل لیٹ کر خامہ فرسائی فرما رہے ہیں ۔ لاریب اُن کے اداریوں اور ماہانہ تجزیوں کو حکومتی ایوانوں میں خاصی اہمیت دی جاتی تھی ۔ ماہنامہ جریدے کے مدیر ہونے کے باوصف الطاف حسن قریشی صاحب نے کئی روزنامہ اخبارات کے ایڈیٹروں سے زیادہ شہرت و اہمیت حاصل کی ۔ بِلا شبہ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی ۔
الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم سے وابستہ کئی یادیں ہیں جو ذہن پر یلغار کیے آ رہی ہیں ۔ سب کو اِس کالم کی مختصر سی جگہ میں جگہ دینا ممکن نہیں ہے۔ اپنی شاندار اور پُر اثر صحافت و قلم سے اُنہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ۔ یہ اُن کے قلم کے استحکام اور مضبوطی ہی کا شاخسانہ تھا کہ وہ مملکتِ خداداد کے کئی حکمرانوں کا قرب اور اعتماد حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ جنرل ضیاء الحق اور نواز شریف اِن میں نمایاں ترین ہیں اگرچہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جنرل ضیاء الحق ( جو پاکستانی عوام کی گردن پر بندوق اور جبر کے زور پر ایک عشرہ سوار رہے )کی آمریت سے اُن کی دوستی اور محبت جمہوریت نواز صحافت کے لیے مفید نہیں تھی ۔ مگر ضیائی آمریت کے جبریہ دَور اور جنرل ضیاء سے قرب کے باوجود الطاف حسن قریشی صاحب ، بین السطور ، عوامی و قومی مفاد میں اپنی آوازبلند کرتے رہے۔یہ اچھا ہُوا کہ الطاف صاحب نے اپنی حیات ہی میں اپنی تحریروں کو کئی کتابی شکل میں دیکھ لیا۔ اُن کے قریبی احباب نے یہ کتابیں یکجا اور مرتّب کرکے ایک شاندار علمی کارنامہ انجام دیا ہے ۔
یہ ہماری صحافتی جدوجہد کا ایک چھوٹا سا انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے ۔ الطاف صاحب کی اِن یکجا کی گئی سیکڑوں تحریروں میں ہم اپنے وطنِ عزیز کی سابقہ سیاست و صحافت اور حکمرانوں کی کارکردگی کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ الطاف صاحب نے انٹرویو نگاری کے فن کو جو انوکھی اور منفرد جہت عطا کی ، یہ اُنہی سے خاص تھی ۔ ہم نے بھی ہفت روزہ ، ماہنامہ اور روزنامہ صحافتی زندگی میں الطاف حسن قریشی صاحب کے اِس انٹرویوئی صحافت کی نقل کرنے کی کوشش کی ، مگر کامیابی نہ مل سکی ۔ الطاف صاحب ہی اِس فن کے امام و موجد تھے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل