Sunday, May 17, 2026
 

صدر شی نے ٹرمپ کی کیا مدد کی؟

 



ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ سے کیا لے کر پلٹے ہیں؟ امریکی صدر کے تاریخی دورہ کے تعلق سے اس سوال کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ امریکا ایران جنگ نے دنیا کا ناطقہ بند کر رکھا ہے، اس لیے سب سے پہلے ذہن میں یہی سوال آتا ہے کہ کیا دنیا کے دو طاقت ور ترین ملکوں کے صدور کی ملاقات اس جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گی؟ دنیا کی ایک پریشانی اور بھی ہے۔ اسے خوف ہے کہ تائیوان کے مسئلے پر کہیں ان دو طاقتوں کے درمیان جنگ کا بگل تو نہیں بج جائے گا؟ اچھا اگر جنگ نہیں ہوتی تو دنیا ستر اور اسی کی دہائی میں تو نہیں پلٹ جائے گی یعنی یہ دورہ سرد جنگ کا باعث تو نہیں بنے گا؟ سوالات کی بھیڑ تو کافی ہے لیکن یہ چند بڑے سوالات ہیں جن کے درست جواب سمجھ میں آ جائیں تو دنیا کم از کم یہ سمجھ لے گی کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے؟ معاملات چھوٹے ہوں یا بڑے، اپنے پس منظر سے سمجھ میں آتے ہیں۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ پہلی مرتبہ2017 ء میں چین گئے تھے۔ اس وقت امریکا کو چین پر اقتصادی بالادستی حاصل تھی۔ اس موقع پر چین کی جی ڈی پی 122 ٹریلین ڈالر تھی جب کہ امریکی جی ڈی پی 195 ٹریلین ڈالر تھی گویا چین امریکا کے مقابلے میں 72 ٹریلین ڈالر خسارے میں تھا۔ اب یہ فرق تقریباً 4 ٹریلین ڈالر بڑھ کر 11 ٹریلین ڈالر ہو چکا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ چین کے مقابلے میں امریکا کا پلہ بھاری ہے۔ یہ اعداد و شمار آئی ایم ایف کے ہیں۔ اس موازنے کو ایک اور زاویے سے دیکھیں تو صورت حال بالکل بدل جاتی ہے۔ 2017 میں چین کی پرچیزنگ پاور پیریٹی یعنی پی پی پی 233 ٹریلین ڈالر تھی جب کہ امریکی قوت خرید 195 تھی۔ 2026 میں یہ فرق مزید بڑھ گیا ہے۔ اس وقت امریکی قوت 292 ٹریلین ڈالر ہے جب کہ چین اس میدان میں کہیں آگے جا چکا ہے یعنی 382 ٹریلین ڈالر۔ اس میدان میں امریکا کے مقابلے میں امریکا پر چین کا پلہ 9 ٹریلین ڈالر کے ساتھ بھاری ہے۔ گویا امریکا کے مقابلے میں چین کہیں زیادہ خوش حال ہے۔ یہ موازنہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ اس کا اندازہ امریکی وفد کی نوعیت جان کر ہوتا ہے۔ صدر ٹرمپ اپنے ساتھ 20 ٹریلین ڈالر کا سرمایہ رکھنے والے صنعت کار لے کر گئے تھے۔ سیاسی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنا تمام اسباب بلکہ تمام تر پونجی صدر شی جن پنگ کے سامنے ڈھیر کر دی تھی۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اس دورے کے موقع پر امریکا نے چین کی بالادستی تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ٹھیک ہے، یہ بھی ہوا لیکن امریکا نے اس کے ذریعے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی؟ اس کا اندازہ ان وعدوں سے ہوتا ہے جو چین نے امریکا سے کیے ہیں۔ اب تک کی معلومات کے مطابق چین نے امریکا سے گوشت، سویا بین اور دیگر زرعی اجناس کے علاوہ دو سو جہاز خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔ اندازہ ہے کہ آئندہ دو تین برسوں کے دوران میں چین امریکا سے 30 سے 50 بلین ڈالر تک کی خریداری کرے گا۔ اس کے علاوہ چین امریکا میں صنعتوں کے قیام کی صورت میں سرمایہ کاری کرے گا جس میں چینیوں ہی نہیں امریکیوں کو بھی روزگار کے بے شمار مواقع دست یاب ہوں گے۔ یہ سوچ کیا ظاہر کرتی ہیں؟ اس تجزیے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان اس ڈیل کا مطلب یہ ہے کہ صدر شی جن پنگ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بیل آٹ کر دیا ہے۔ کیسے؟ صدر شی نے صدر ٹرمپ کو ایسے بیل آؤٹ کیا کہ اس وقت امریکی معیشت کی حالت پتلی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس بار اقتدار میں آنے کے بعد عاجلانہ انداز میں جو اقدامات کیے، ان کی وجہ سے امریکا میں کساد بازاری کی سی کیفیت پیدا ہو چکی تھی پھر جنگ شروع ہو گئی، اس کے اثرات نے معاشی بحران کو مزید گہرا کر دیا۔ اس بحران کی شدت کا اندازہ امریکی سیاست سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ آئندہ چند مہینوں کے دوران میں امریکا میں جو سب سے بڑا واقعہ رونما ہونے جا رہا ہے، وہ ہے وسط مدتی انتخاب۔ عمومی تاثر یہی ہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں میں جو اکھاڑ پچھاڑ کی ہے، اس کے نتیجے میں وہ غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ یوں وہ وسط مدتی انتخابات ہی ہارتے دکھائی نہیں دیتے بلکہ انھیں مواخذے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چین کے ساتھ یہ ڈیل صدر ٹرمپ کو سہارا دے سکتی ہے۔ یہ سہارا معمولی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے سب کچھ کے جواب میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کو کیا پیش کیا ہے؟ یہ اس جائزے کا ایک اور اہم سوال یہ ہے۔اس ڈیل میں چین کو ایک اہم سبقت یہ حاصل ہوئی کہ امریکا نے معیشت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کی بالادستی بڑی حد تک تسلیم کر لی۔ ٹیسلا سمیت بہت بڑے ٹیکنالوجی جوائنٹس اور تجارتی اداروں کے سربراہوں کو صدر شی کے سامنے پیش کرنے کا مطلب یہی ہے۔ چین کو اس موقع پر جو دوسرا فائدہ حاصل ہوا ہے، یہ ہے کہ امریکا نے تائیوان کے معاملے میں چینی مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے۔ کیسے؟ یہ بھی دل چسپ ماجرا ہے۔ چینی ترجمان نے اپنے بیانات میں واضح کر دیا کہ تائیوان اس کی ریڈ لائن ہے جب کہ صدر ٹرمپ نے اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کی۔ فریق مخالف کا مؤقف تسلیم کرنے کا یہی سفارتی انداز ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تائیوان کے معاملے میں جنگ یا سرد جنگ کے خدشات اب نہیں رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کا مستقبل کیا ہے؟اس دورے کے بعد اس جنگ کا مستقبل بھی تاریک ہو چکا۔ چین نے اس موقع پر کھل کر ایک بات کہی۔ چین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنی چاہیے اور اس جگہ سے گزرنے کے لیے کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔ یہی بنیادی نکتہ ہے۔ اس کا مطلب اگر یہ ہے کہ چین اگر آبنائے ہرمز کے ضمن میں ایرانی مؤقف کی تائید نہیں کرتا تو وہ امریکی محاصرے کو بھی غلط سمجھتا ہے۔ چین کے اس مؤقف پر امریکی مؤقف امید کے دیے روشن کرتا ہے۔ اس ضمن میں مارکو روبیو کا بیان اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی تھی اور اسلام آباد ٹاکس کے بعد بھی بہترین پیش رفت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان بیانات نے جنگ کا مستقبل بھی طے کر دیا ہے یعنی جنگ ختم ہو رہی ہے۔ صرف جنگ ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ اس معاملے میں پاکستان کو جو اہمیت ملی ہے، وہ بھی برقرار ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے امریکا ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کی جگہ کسی اور کو لانے کی سازش بھی دم توڑ چکی۔ ٹرمپ کے دورہ امریکا کے ثمرات یہی ہیں۔ ان ثمرات کو نیو ورلڈ آرڈر کہہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل