Loading
دنیا کی فکری تاریخ میں بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے وقت سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی کتابیں وقتی بحث نہیں بلکہ مستقل سوال بن جاتی ہیں۔ فرانسیسی فلسفی اور سماجی نقاد Guy Debord کی کتاب The Society of the Spectacleبھی انھی نادر کتب میں شمار ہوتی ہے جس نے بیسویں صدی کے وسط میں جو خطرہ محسوس کیا تھا، اکیسویں صدی میں وہ ہماری روزمرہ زندگی میں ظاہر ہو چکا ہے۔ اس کتاب کے مصنف فلسفی، انقلابی مفکر اور فلم ساز بھی تھے۔
یہ کتاب محض میڈیا پر تنقید نہیں، بلکہ جدید تہذیب کے پورے فکری ڈھانچے پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ مصنف Debord ہمیں بتاتا ہے کہ جدید معاشرہ اصل حقیقت سے ہٹ کر’’ تصویر‘‘اور’’ نمائش‘‘کی دنیا میں داخل ہو چکا ہے۔ یوں زندگی اب جینے کا نام نہیں رہی بلکہ دیکھنے اور دکھانے کا عمل بن چکی ہے۔Debord کے نزدیک Spectacle کوئی محدود اصطلاح نہیں۔ یہ صرف میڈیا یا اشتہارات یا فلم یا ٹی وی نہیں ، بلکہ یہ ایک مکمل سماجی نظام ہے جو حقیقت کوبدل دیتا ہے۔یہ وہ حالت ہے یا ایک ایسا عمل ہے جہاں زندگی،تصویر بن جاتی ہے اور تجربہ، نمائندگی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جب کہ انسان ناظر (spectator) بن جاتا ہے۔
مصنف کے مطابق یہ محض فلسفیانہ خیال نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے۔ آج کا انسان زندگی کو براہ راست نہیں جیتا بلکہ اس کے’’ پیش کردہ ورژن‘‘کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم حقیقت سے زیادہ اس کی’’ اسکرین امیج‘‘سے متاثر ہوتے ہیں۔Debord کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں اصل حقیقت آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتی جا رہی ہے۔ اس کی جگہ ایک مصنوعی حقیقت لے رہی ہے جسے ہم میڈیا، اشتہارات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دیکھتے ہیں۔مثال کے طور پر خوشی اب ایک اندرونی کیفیت نہیں بلکہ ایک’’ انسٹاگرام لمحہ‘‘ ہے اور کامیابی اب محنت نہیں بلکہ اس کی public display ہے جب کہ تعلقات اب احساس نہیں بلکہcontent بن چکے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں اصل اور نقل کے درمیان لکیر دھندلی ہو جاتی ہے اور جب یہ لکیر مٹ جائے تو پھر حقیقت کا تصور بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔Debord کے مطابق یہ سب کچھ اتفاقیہ نہیں۔ تماشے کے پیچھے ایک مضبوط معاشی اور سیاسی ڈھانچہ ہے یعنی سرمایہ دارانہ نظام۔یہ نظام انسان کو صرف مزدور نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک مسلسل صارف (consumer) میں تبدیل کر دیتا ہے۔
میڈیا اس تبدیلی کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔اشتہارات ہمیں یہ نہیں بتاتے کہ ہمیں کیا چاہیے، بلکہ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں کیا’محسوس‘‘کرنا چاہیے۔ یوں خواہشات مصنوعی طور پر پیدا کی جاتی ہیں اور پھر انھی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے لوگوں کو مسلسل خریداری کے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں سوچ، کمزور اور خواہش، مضبوط جب کہ خریداری مسلسل ہوتی ہے۔ مصنف کے مطابق یہی وہ معاشی جال ہے جوSpectacle economyکی بنیاد ہے۔مصنف کے مطابق سب سے بڑی تبدیلی انسان کے کردار میں آئی ہے۔ ماضی کا انسان تاریخ بناتا تھا، آج کا انسان تاریخ دیکھتا ہے۔ وہ شریک ہوتا تھا، اب وہ ناظر ہے بس۔یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ وجودی (existential) ہے۔ یوں آج کا انسان فیصلے کم کرتا ہے لیکن رائے زیادہ دیتا ہے اور عمل کم کرتا ہے جب کہ ردعمل زیادہ دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں شور تو بہت ہے مگر تبدیلی کم ہے۔
ہر شخص بول رہا ہے مگر کوئی چیز بدل نہیں رہی۔دیکھا جائے تو Debord جس کیفیت کو Alienationکہتا ہے، وہ آج کے انسان کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ بظاہر انسان دنیا سے جڑا ہوا ہے، مگر اندر سے مکمل طور پر الگ ہے۔آج کا فرد معلومات سے بھرا ہوا ہے مگر سمجھ سے خالی ہے ہزاروں لوگوں سے جڑا ہوا یعنی connected ہے مگر تنہا ہے اور اسی طرح وہ ہر وقت online ہے مگر حقیقت میں غیر حاضر ہے۔یہ paradox ہی جدید معاشرے کی سب سے بڑی علامت ہے۔
یہی تصویر آج ہماے ہاں بھی ہے اور بطور ایک استاد جب میں کلاس روم میں طلبہ سے مخاطب ہوتا ہوں تو یہی سوچتا ہوں ہماری اس نئی نسل کا کیا بنے گا؟ ہم میں سے کتنے لوگ اس تبدیلی کو سمجھ رہے ہیں؟ اور تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ جو صاحب علم اس حقیقت کو جانتے ہیں، ان کو معاشرے میں کوئی اہمیت نہیں دیتا۔بہر کیف مصنف یہ بھی لکھتا ہے کہ تماشے کے معاشرے میں ایک حیران کن تبدیلی یہ ہوتی ہے کہ تصویر اصل پر غالب آ جاتی ہے چنانچہ اب خبر کا مواد نہیں، اس کی presentation اہم ہے اور علم کا معیار نہیں، اس کی popularity اہم ہے اسی طرح سچائی نہیں، اس کا viral ہونا اہم ہے۔یوں حقیقت اپنی سادگی کھو کر ایک’’پرفارمنس‘‘بن جاتی ہے۔
Debord نے ایک نہایت قیمتی اور ہلا دینے والی بات یہ کی ہے کہ جدید طاقت اب براہ راست جبر کے ذریعے کام نہیں کرتی۔ اب ریاست، میڈیا اور کارپوریٹ ادارے ایک مشترکہ نظام کے طور پر کام کرتے ہیں۔یہ نظام انسان کو مجبور نہیں کرتا بلکہ persuade کرتا ہے۔ وہ یہ احساس دلاتا ہے کہ’’ تم آزاد ہو، مگر تمہاری آزادی پہلے سے design کی گئی ہے۔‘‘ یہی نرم کنٹرول (soft control) جدید دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ماضی میں انسان وقت کو ایک تسلسل کے طور پر دیکھتا تھا، مگر اب وقت ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے۔
ہر لمحہ ایک نئی تصویر ہے، ایک نئی خبر ہے، ایک نیا اسکرول ہے۔یوں ماضی، یادگار مواد اور حال فوری اسکرین جب کہ مستقبل غیر یقینی توقع ہے بس۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس تماشے سے باہر آ سکتے ہیں؟ بس اصل سوال یہی ہے کہ کیا Debord کا بیان کردہ یہ نظام ناقابلِ واپسی ہے؟ اس کا جواب سادہ نہیں، مگر Debord ہمیں ایک فکری دروازہ ضرور دکھاتا ہے یعنی شعور کا دروازہ۔اگر انسان یہ سمجھ لے کہ وہ صرف ناظر نہیں بلکہ شریک بھی ہو سکتا ہے، اگر وہ اسکرین کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچان لے، تو شاید وہ دوبارہ’’زندگی‘‘کی طرف لوٹ سکتا ہے کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ تماشہ موجود ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسے حقیقت سمجھ لیا ہے۔Guy Debord کی یہ کتاب ہمیں ایک آئینہ دکھاتی ہے۔ایک ایسا آئینہ جس میں ہم اپنی ہی مسخ شدہ تصویر دیکھتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں ڈرانے کے لیے نہیں بلکہ جگانے کے لیے لکھی گئی تھی اور شاید آج کے دور میں سب سے بڑا سوال یہی ہے’’کیا ہم حقیقت میں جی رہے ہیں یا صرف حقیقت کا بنایا ہوا تماشہ دیکھ رہے ہیں؟ آئیے !غور کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل