Sunday, May 17, 2026
 

نہ سوویت یونین کا خاتمہ ہوتا نہ یہ دن دیکھنے پڑتے

 



امریکی ڈیموکریٹس نے ایران جنگ روکنے کے لیے نئی قرارداد لانے کا اعلان کردیا ہے ۔ اب تک ٹرمپ کے خلاف مارچ ۔اپریل میں چھ قرار دادیں لائی گئیں جو ناکام ہوئیں ۔ آخری قرار داد پر ووٹنگ کا فیصلہ 47-50سے رہا ۔ یعنی صرف تین ووٹوں کی کسر رہ گئی تھی۔ امریکا اور یورپ کے میڈیا تھینک ٹینکس اور ماہرین کے جائزوں کے مطابق یہ اتفاق رائے دکھائی دیتا ہے کہ امریکا اپنی منظم عالمی قیادت سے محروم ہو چکا ہے ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 28فروری کو امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے کی وجہ سے دنیا پھرسے Multi Polarہونے جارہی ہے ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا دنیا کی واحد عالمی طاقت بن کر سامنے آیا ۔ افغانستان میں امریکا سویت یونین جنگ بظاہر 1989میں ختم ہوئی لیکن حقیقت میں اس کا آغاز دوسال پہلے ہی سے شروع ہو گیا تھا یعنی 1987 ء میں ۔یہ تقریباً چالیس سالہ امریکی عذاب تھا جو دنیا پر مسلسل مسلط رہا۔ جس نے ظلم وستم کے ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک طویل منصوبہ بندی کے تحت عراق ، لیبیا ، شام، یمن اور اب ایران کو چن چن کر تباہ وبرباد کردیا ۔ اور اب اس ایجنڈے کا آخری مرحلہ گریٹر اسرائیل کا قیام ہے ۔ پاکستان کے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل حمید گل نے اپنی زندگی میں مسلم ملکوں کی اس تباہی کو دیکھ کر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کاش ہم سوویت یونین کے خاتمے میں شریک نہ ہوتے ۔ اُس دور کی اسٹیبلشمنٹ اس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھی کہ سوویت یونین سے پاکستان اور دوسرے اسلامی ملکوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن سامراجی ایجنڈے کے تحت امریکا کو دنیا کی واحد سپر طاقت بنانے کے لیے یہ سب کرنا لازم ٹھہرا۔ یہ امریکی عذاب مسلط کرنے کا سہرا بھی کچھ اپنوں کو جاتا ہے ۔ امریکی عذاب سے پاکستان سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور فرقہ وارانہ طور پر ایسا تباہ وبرباد ہوا ہے جس کی بحالی میں اگلی کئی دہائیاں چاہیے ۔ ایک حالیہ جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت مسلسل کم ہورہی ہے ۔ ایک حالیہ سروے میں 60فیصد امریکیوں کو اب اپنے صدر پر اعتماد نہیں رہا۔ 61فیصد کا کہنا ہے کہ 79سالہ ٹرمپ جو اگلے مہینے جون میں 80سال کے ہوجائینگے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی عمر جیسے جیسے بڑھ رہی ہے اس کا اثر ان کی گفتگو اور افعال پر بڑھ رہا ہے ۔ جب کہ 53فیصد امریکی سوچتے ہیں کہ ان کی ذاتی مالیاتی منصوبہ بندی سخت خطرے میں ہے ۔ جب کہ امریکا کے لیے انتہائی "الارمنگ بات یہ ہے کہ امریکا کے 24اتحادی ملکوں کی اکثریت یعنی 19نے کہا ہے کہ اب ٹرمپ کی عالمی قیادت کی صلاحیت بھروسے کے قابل نہیں رہی"۔ دوسرا اس کے ساتھ امریکا دنیا پر اپنا اخلاقی اعتبار بھی کھو چکا ہے ۔ جب کہ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کرنے نے اس عالمی سیاسی اقتصادی صورت حال پر کیا آنکھیں کھول دینے والا تبصرہ کیا ہے کہ " ہم اس وقت شکست وریخت کے مرحلے سے گزر رہے ہیں ، کسی منتقلی کے عمل سے نہیں "۔ دنیا کو اس وقت جس انتہائی پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے کینیڈین وزیر اعظم کو اس کا گہرا ادراک ہے ۔ کہنے کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ عالمی نظام شکست وریخت کے مرحلے سے گذر رہا ہے ۔ جب یہ پراسس 2027 میں اپنی تکمیل کے مرحلے کو پہنچے گا تومیرے حساب کتاب کے مطابق دنیا اس نئے عالمی نظام سے روشناس ہو گی۔ ویسے بھی یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی تنظیم کا زور توڑنے کے لیے حماس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ موساد نے حماس میں اپنے بندے خفیہ طورپر پلانٹ کرکے 07اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کروایا۔ ایران اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنٹ کتنے بڑے پیمانے پر فوج سمیت ایرانی انتہائی حساس اداروں میں کس درجہ اثرونفوذ کر گئے تھے ۔ یہاں تک کہ ایک اسرائیلی خاتون خفیہ ایجنٹ نے ایرانی مذہبی حلقوں میں گھریلو سطح پر رسائی حاصل کر لی تھی۔ اسرائیل نے اپنے قیام سے پہلے اور قیام کے بعد میں جو بے دریغ فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا اس کے مقابلے میں 7اکتوبر کا حملہ تو محض ایک بہانہ بن گیا فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے جو ڈیڑھ سال سے مسلسل جاری ہے، غزہ پر قبضہ کرنے کے لیے ۔ یہی کام لبنان میں بھی ہورہا ہے یہ سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ۔ گریٹر اسرائیل کی پیش بندی کے لیے پہلے عراق ، لیبیا، شام اور یمن کو تباہ وبرباد اور ان کے تیل پر قبضہ کیا گیا۔ عراق کی آزادی اور خود مختاری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ حال ہی میں کچھ دن پہلے یہ انکشاف ہوا کہ عراق کے اندر اسرائیل کا فوجی اڈہ ہے ۔ یہاں سے ایران پر حملے کیے جاتے رہے ۔ لیکن عراقی حکومت ریاست اور تمام خفیہ ادارے اس سے بے خبر تھے ۔ لیکن اس تمام بدترین صورت حال کا آغاز سوویت یونین کے خاتمے سے ہوتا ہے ۔ نہ سوویت یونین کا خاتمہ ہوتا نہ مسلم ملکوں کو یہ دن دیکھنے پڑتے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل