Loading
امریکا کی وفاقی عدالت نے ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کے اوپن اے آئی کے خلاف دعووں کو مسترد کرتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔
پیر کے روز ہونے والی سماعت میں نو رکنی جیوری کے فیصلے مطابق ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت زیادہ تاخیر کی اور اسٹیچوٹ آف لمیٹیشن کے تحت انہوں نے ڈیڈ لائن مِس کردی۔
جج یوون گونزالیز راجرز نے جیوری کی رائے کو باضابطہ عدالتی فیصلہ مانتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا۔ جیوری نے تقریباً دو گھنٹے غور و فکر کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔
یہ مقدمہ 27 اپریل کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں شروع ہوا تھا، جس سے ایلون مسک اور اوپن اے آئی کی موجودہ قیادت کے درمیان شدید اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہوگئے۔
ایلون مسک نے 2015 میں اوپن اے آئی کی مشترکہ بنیاد رکھی تھی اور ابتدائی برسوں میں تقریباً 3 کروڑ 80لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی۔ تاہم، وہ 2018 میں کمپنی سے الگ ہو گئے تھے۔
ایلون مسک کا مؤقف تھا کہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹمن اور صدر گریگ بروکمن نے اس اصل وژن سے انحراف کیا جس کے تحت اوپن اے آئی کو انسانیت کے فائدے کے لیے ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔
ان کا الزام تھا کہ کمپنی نے خفیہ طور پر منافع کمانے والا ماڈل اپنایا اور سیم آلٹمن اور گریگ بروکمن نے اوپن اے آئی کی بڑھتی ہوئی مالیت سے غیر منصفانہ فائدہ اٹھایا۔
مسک نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہرجانے کی رقم اوپن اے آئی کے فلاحی شعبے کو دی جائے اور سیم آلٹمن کو کمپنی کے بورڈ سے ہٹایا جائے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی اور سیم آلٹمن نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو ہمیشہ کے لیے غیر منافع بخش رکھنے کا کبھی کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایلون مسک کمپنی کی سمت سے مکمل طور پر آگاہ تھے، لیکن بعد میں جب وہ اوپن اے آئی پر یک طرفہ کنٹرول حاصل نہ کر سکے تو انہوں نے مقدمہ دائر کر دیا۔
تین ہفتوں تک جاری رہنے والے اس ہائی پروفائل ٹرائل میں مائیکرو سافٹ کے سی ای او سمیت کئی اہم شخصیات نے گواہی دی جبکہ گریگ بروکمن نے عدالت کو بتایا کہ اوپن اے آئی میں ان کا حصہ تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل