Monday, May 18, 2026
 

یہودی سے پہلے فلسطینی کو گولی مارو

 



اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ میجر جنرل ایوی بلتھ کے دائرہِ اختیار میں مقبوضہ مغربی کنارہ بھی شامل ہے۔ایوی بلتھ نے ایک بند کمرے کے فورم میں مغربی کنارے پر ’’ امن و امان ‘‘ برقرار رکھنے کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے فلسطینیوں پر فائرنگ کرنے کے قواعد و ضوابط میں پہلے سے زیادہ نرمی کر دی ہے۔ بالخصوص وہ فلسطینی جو تلاشِ معاش کی خاطر مقبوضہ علاقے سے اسرائیل میں بلا اجازت چوری چھپے داخل ہوتے ہیں ، انھیں غیر مسلح سویلین تصور کرنے کے بجائے ایک ممکنہ دھشت گرد سمجھ کے گھٹنے پر یا اس سے نیچے گولی مار کے حراست میں لینے کا حکم ہے۔تاکہ باقیوں کو خوف رہے کہ حد بندی والی رکاوٹیں پار کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔بقول میجر جنرل بلتھ آپ کو فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں میں ایسے سیکڑوں لنگڑاتے ہوئے لوگ ملیں گے جو ضابطے توڑنے کی سزا کا چلتا پھرتا اشتہار ہیں۔ میجر جنرل بلتھ نے بتایا کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے ہم نے مغربی کنارے پر ڈیڑھ ہزار سے زائد ’’ دھشت گرد ‘‘ مارے۔ان میں سے صرف چار فیصد بے گناہ تھے۔ستر فیصد مسلح تھے۔لہذا یہ تاثر درست نہیں کہ فلسطینی کوئی غیر مسلح تحریک چلا رہے ہیں۔ورنہ وہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہوتے۔ بقول جنرل بلتھ مسلح لوگوں کو دیکھتے ہی گولی چلا دینا مشرقِ وسطی میں عام روائیت ہے۔یعنی اس سے پہلے کہ وہ تمہیں مارے تم اسے مار دو۔لہذا ہم اسی روائیت پر عمل کرتے ہوئے اتنے ’’ دھشت گرد ‘‘ مار چکے ہیں جتنے انیس سو سڑسٹھ کے بعد سے دو ہزار تئیس تک نہیں مارے گئے۔ان میں سن دو ہزار تا دو ہزار پانچ کے انتفادہ میں مرنے والے شامل نہیں۔ کیونکہ بقول میجر جنرل بلتھ وہ ایک غیرمعمولی پرتشدد دور تھا۔ انھوں نے وضاحت کی کہ ’’ مسلح دھشت گرد ‘‘ کی تعریف میں پتھراؤ کرنے والے بھی شامل ہیں۔گذشتہ برس ہم نے ایسے بیالیس دھشت گرد ہلاک کیے۔ تاہم اگر کوئی یہودی آبادکار سڑک پر نکل کے راہ گیروں یا گاڑیوں پر حملہ کرے یا پتھراؤ کرے تو اسے مارنے کے احکامات نہیں ہیں۔ ایسے شخص پر دیگر طریقے استعمال کر کے بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ فلسطینیوں اور آبادکاروں کے بارے میں یکساں تادیبی پالیسی اختیار کرنے سے سماجی و سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جنرل نے مثال دی کہ گذشتہ برس موسمِ گرما میں فوجیوں نے پتھراؤ کرنے والے ایک نقاب پوش آبادکار کو گولی مار کے زخمی کر دیا۔اس پر ہمیں خاصے اندرونی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ایسا ہی ایک اور واقعہ بھی ہوا مگر ’’ خوش قسمتی ‘‘ سے دونوں بار زخمی آبادکار مرنے سے بچ گئے۔ ہماری ترجیح ہوتی ہے کہ تشدد پر اتر آنے والے آبادکاروں کو منتشر کرنے کے لیے کم خطرناک طریقے استعمال کیے جائیں اور ان سے مسلح انداز میں نمٹنے کے بجائے حراستی طریقے برتے جائیں۔ اگرچہ کئی لوگوں کو فلسطینی اور یہودی تشدد پسندوں سے نمٹنے کی پالیسی امتیازی لگ سکتی ہے مگر ہم غیر معمولی حالات سے گذر رہے ہیں۔ ان حالات کو مروجہ پیمانوں پر نہیں پرکھنا چاہیے۔ میجر جنرل بلتھ نے بتایا کہ اس وقت مغربی کنارے پر نافذ فوجی قوانین کے تحت چار ہزار سے زائد فلسطینی انتظامی حراست میں ہیں ( یعنی ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں )۔جب کہ کوئی بھی یہودی آبادکار انتظامی حراست میں نہیں ( ان پر اسرائیل کا سویلین قانون لاگو ہوتا ہے )۔ میجر جنرل بلتھ نے بتایا کہ سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد اسرائیل میں کام کرنے والے چالیس ہزار سے زائد فلسطینی محنت کشوں کے پرمٹ منسوخ کر دیے گئے۔مگر آج اسرائیل میں پچاس سے ستر ہزار فلسطینی بنا اجازت کام کر رہے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ مغربی کنارے پر بے روزگاری کی شرح تیس فیصد سے زائد ہے۔اجرتوں میں بھی بہت فرق ہے۔مثلاً رملہ میں دیواروں پر پلستر کرنے والا ایک کارکن ماہانہ پانچ سو ڈالر تک کماتا ہے جب کہ یہی کارکن اسرائیل میں داخل ہو کر پندرہ سو تا دو ہزار ڈالر کما سکتا ہے۔چنانچہ بے روزگار فلسطینی کارکن اپنی جان خطرے میں ڈال کر رکاوٹیں پار کرنے کی کوشش میں مرتے یا زخمی اور گرفتار ہوتے رہتے ہیں۔ ممکن ہے میجرجنرل بلتھ نے بند کمرے میں جو باتیں کہی ہیں وہ کسی غیر اسرائیلی کے لیے ذہنی جھٹکا ہوں مگر اسرائیل یا مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے کسی انسان کو حیرت نہیں ۔جس ریاست کا قومی سلامتی کا وزیر ( اتمار بن گویر ) اپنی پچاسویں سالگرہ پر اپنی اہلیہ سے ایسا کیک وصول کر رہا ہو جس پر پھانسی کے پھندے کا نشان ہو۔ جس ریاست کی پارلیمنٹ آرام سے یہ قانون منظور کر لے کہ پھانسی کی سزا بحال کی جاتی ہے مگر اس کا اطلاق اسرائیلی یہودیوں پر نہیں ہوگا۔جس حکومت کا وزیرِ خزانہ ( بیزلیل سموترخ ) کھلے عام کہے کہ یہ تصور ہی سات اکتوبر کو حماس کے دھشت گرد حملے سے زیادہ بھیانک ہے کہ اسرائیل میں کوئی ایسی حکومت تشکیل پائے جس میں عرب نمائندگی بھی ہو۔ ایسے نفرتی ماحول میں ایک حاضر سروس میجر جنرل کی جانب سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے سے متعلق دوہری ریاستی پالیسی کا معمولی اعتراف کیا معنی رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی سرکردہ اسرائیلی تنظیم بیت سلیم کے کارکن یائر دویر کے بقول اپارتھائیڈ اور دوہرا قانون اسرائیلی ریاست کی بنیاد ہے۔پہلے یہ اعترافات ڈھکے چھپے انداز میں ہوتے تھے۔جب سے یقین ہوا ہے کہ کچھ بھی کہہ دو یا کر گذرو کوئی گریبان پکڑنے والا نہیں بلکہ مغرب اور امریکا ان حرکتوں سے درگذر ہی کرتے رہیں گے۔تب سے ہر اسرائیلی سیاستداں اور جنرل کو غیر اعلانیہ لائسنس مل گیا ہے کہ نسل کشی یا اپارتھائیڈ پالیسیوں کو نہ صرف کھلے عام بیان کرے بلکہ ان پر فخر بھی کرے۔  اب جب کہ دنیا کی پوری توجہ ایران امریکا مناقشے پر ہے۔مغربی کنارے پر نسلی صفائی اور اکھاڑ پچھاڑ کا عمل اور تیز ہو گیا ہے۔گذشتہ برس یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں مغربی کنارے پر دس فلسطینیوں کی موت ہوئی جب کہ فوج نے اس عرصے میں دو سو چھبیس فلسطینیوں کو مارا۔ تاہم اس برس اٹھائیس فروری کے بعد سے اب تک کے ڈھائی ماہ میں کم ازکم بارہ فلسطینی شہری یہودی آبادکاروں کے ہاتھوں جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔چنانچہ فلسطینیوں کی نقل مکانی رفتار پکڑ گئی ہے۔فلسطینی زمینوں پر قبضے کے بعد بیسیوں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر تیز تر ہو گئی ہے۔چند ماہ بعد پارلیمانی الیکشن ہونے والے ہیں۔چنانچہ موجودہ فاشسٹ اسرائیلی حکومت اس عرصے میں جتنے بھی انسان مار یا دھکیل سکے اور ان کی املاک ہتھیا سکے۔ (وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل