Monday, May 18, 2026
 

اصلاحات سے انکار پر مبنی نظام

 



پاکستان کی حکمرانی اور ادارہ جاتی نظام پر اعتراضات کی وجہ مختلف شعبہ جات میں اصلاحات سے انکار ہے ۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں اصلاحات اول تو کرنی نہیں ہیں اور اگر کسی دباؤ کی بنیاد پر کرنا پڑے تو اس میں طاقت ور طبقات اپنے ذاتی سیاسی اور معاشی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں ۔حالانکہ دنیا میں جمہوریت سے جڑ ے نظام کبھی کسی بڑے انقلاب کا پیش خیمہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی خوبی ووٹ اور منصفانہ انتخابات کی بنیاد پر تبدیلی اور پہلے سے مروجہ نظام میں خرابیوں کو نئی اصلاحات کی مدد سے دور کرنا ہوتا ہے ،اسی سے نظام میں شفافیت اور لوگوںکا نظام پر اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں سابق وزیر خارجہ، قومی سیاست کا معتبر نام خورشید محمود قصوری کی سربراہی میں قائم ’’ پاکستان فورم ‘‘ کے اجلاس کا بنیادی نقطہ بھی اسی بحث سے جڑا ہوا تھا کہ موجودہ پاکستان کے داخلی حالات سے نمٹنے کا  حکومت کے پاس کیا بہتر راستہ ہوسکتا ہے۔اسی بحث میں اس نقطہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑی سیاسی مہم جوئی کی بجائے سیاسی نظام کو نئی اور بہتر اصلاحات کی بنیاد پر چلایا جائے ۔اگر نظام میں تسلسل ہوگا اور اصلاحات کا عمل بھی ساتھ ساتھ چلے گا تو بہتری کی گنجائش قائم رہے گی۔لیکن اس کے مقابلے میں سیاسی مہم جوئی کا راستہ حالات کو بہتر بنانے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کی طرف دھکیلے گا۔ بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد جس طرح سے وفاق نے صوبوں کو سیاسی ،انتظامی اور مالی اختیارات دیے اور توقع تھی اس اقدام کے بعد صوبائی حکومتوں کا نظام گورننس کی بہتری اور عام آدمی کی سیاسی اور معاشی مشکلات یا اچھی حکمرانی میں زیادہ موثر انداز میں کام کرے گا۔بالخصوص صوبائی حکومتیں 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی خود مختاری کی بنیاد پر ضلعی خود مختاری کو بنیاد بنا کر صوبوں میں مضبوط اور مقامی حکومتوں کو سیاسی،انتظامی اور مالی طور پرخود مختار کرکے مقامی دہلیز پر گورننس کے نظام کو موثر اور شفاف بنائیں گی۔ اسی مجلس کی اہم بات عام آدمی کی مشکلات اور اس کے حل سے جڑی ہوئی تھی اور سب متفق تھے کہ عام آدمی کے معاشی حالات بہت زیادہ بگاڑ کا شکار ہوئے ہیں۔اسی بنیاد پر عوام کے اعتماد کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں اصلاحات کو بنیاد بنا کر بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ ان اصلاحات میں تعلیم ،صحت ، معیشت ،سیاست، بیوروکریسی ،انتخابی نظام ،عدلیہ اور انصاف،پولیس،گورننس،حکمرانی کے بڑھتے ہوئے سائز،مقامی حکومت، نظام کی شفافیت،احتساب، پارلیمانی نظام جیسے اداروں کی سطح پر بہت کچھ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ان اصلاحات کے لیے ہمیں دنیا میں ہونے والے بہتر تجربات اور مشاہدات سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ انھوں نے اپنے نظام میں کیسے بہتری پیدا کی اور کیسے ان کا نظام لوگوں میں اپنی افادیت کو قائم کرسکا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں ایسے پڑھے لکھے اور تجربہ کار لوگوں کی کمی ہے جو اصلاحات کے کام کا ہنر نہیں رکھتے یا ہمارے پاس پہلے سے جو اصلاحات کی بنیاد پر مسودے ہیں ان کی کمی ہے ۔لیکں اس تناظر میں ہمیں دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔اول تجربہ کار یا پڑھے لکھے افراد یا اصلاحات کے ماہرین کی رسائی حکمرانی کے نظام یا حکمرانوں تک موجود نہیں ۔ حکومت کا نظام روائتی اصلاحات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتا ہے یا ان کے ذاتی مفادات کے برعکس اصلاحات کا نظام انھیں قبول نہیں ہوگا اور وہ اس پر مزاحمت کرتے یا اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہیں ۔ دوئم، اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ مجموعی طور پر عوام کے مفادات کے برعکس کام کرتی ہے اور ذاتی یا خاندانی مفادات ان کی ترجیحات کا بڑا حصہ ہوتا ہے ۔پاکستان میں اصلاحات کو بنیاد بنا کر آئی ایم ایف جیسے اہم سیاسی اور مالیاتی عالمی ادارے اور پالیسی سازی سے جڑے ملکی اور عالمی تھنک ٹینک مسلسل پاکستان کو خبردار کررہے ہیں کہ اس نے اگر اپنے نظام کے مختلف اہم شعبوں میں فوری طور پر اصلاحات کا راستہ اختیار نہ کیا تو ان کا سیاسی ،معاشی بحران بڑھے گا اور عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ممکن نہیں ہوسکے گا۔ ایک بحران یہ بھی ہے کہ ہم اصلاحات کے حامی نہیں ہیں اور اگر ہمیں کسی سیاسی یا عالمی دباؤ پر کچھ اصلاحات کا ناٹک کرنا بھی پڑے تو اس میں بناوٹی عمل سمیت عملدرآمد کا نظام ناقص ہوتا ہے اور ان اصلاحات کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔اس سے بھی زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ طاقت ور طبقہ کو جب اپنے ذاتی یا جماعتی مفاد کی بنیاد پر اصلاحات یا قانون سازی درکار ہو تو وہ نہ صرف فوری طور پر ہوجاتی ہے بلکہ بہت کچھ تو رات کے اندھیروں میں پارلیمنٹ کو نظرانداز کر کے بھی کیا جاتا ہے جو حکمرانی کے نظام کی شفافیت کے برعکس ہوتا ہے ۔  اصلاحات کا عمل وہیں آگے بڑھتا ہے جہاں سیاست،جمہوریت،آئین اور قانون اور شہری مفادات کی اہمیت ہوتی ہے۔جس ملک میں آئین ، قانون یا جمہوریت کمزور ہوگی یا سیاسی جماعتیں کسی خاندان کی سیاسی جاگیریں ہوں وہاں اصلاحات کا عمل نہ صرف کمزور ہوتا ہے بلکہ یہ عمل عوامی مفاد کے برعکس بھی ہوتا ہے ۔اصلاحات کا مقصد پورے نظام کو ایک دوسرے کے سامنے جوابدہ بنانا ہوتا ہے لیکن ہم جوابدہی پر کوئی یقین نہیں رکھتے اور اب تو یہ احساس بھی بڑھ گیا ہے کہ یہاں منصفانہ بنیاد پر نہ تو انتخابات ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومتیں تشکیل دی جاتی ہیں ۔ عدالتی اصلاحات کے نام پر جو کھیل اسی ملک کی سیاسی طاقتوں نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے 26اور 27ویں ترمیم کی مدد سے کھیلا اس نے عدلیہ کو کمزور کیا ہے اور جب جس انداز پر 28ویں ترمیم کا سیاسی دربار سجایا جارہا ہے وہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے جیسے نظام میں اصلاحات کسے کہتے ہیں اور کیسے ہم اس عمل کو اپنے مفادات کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ہماری حالت تو یہ ہے کہ ہم ا س ملک میں دو بڑی اصلاحات میں نہ صرف ناکام ہوئے ہیں بلکہ ایک سوچ سمجھی اسکیم کے تحت اسے ناکامی میں بدلا گیا ہے۔ ان میں ایک انتخابی اصلاحات اور منصفانہ انتخابات کا راستہ اور دوسرا عدلیہ کی خود مختاری اور شفافیت۔اصولی طور پر حکمران طبقات کو چیلنج کرنے کے لیے یہ ہی دو میکنزم موجود ہیں جس میں طاقت ور طبقات کو یا سیاسی نظام میں ہونے والے ناانصافی پر مبنی فیصلوں کو چیلنج کیا جاتا ہے۔لیکن ہم نے اصلاحات پر بڑے بڑے تالے لگا کر نظام میں سیاسی اور آئینی تبدیلی کے راستوں کو بند کردیا ہے۔ یہ جو اہل دانش خود اپنے مفادات کو تقویت دینا چاہتے ہیں وہ خود بھی اصلاحات کے نظام میں تبدیلیوں میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔وہ اور ان کے خیالات بھی روائتی طرز کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ، یہ جو منطق دی جاتی ہے کہ نظام کو چلنے دیا جائے یہ بات ایک حد تک درست ہے ۔لیکن اول یہ نظام جو چلایا جارہا ہے وہ کسی اصول یا شفافیت کے بغیر چلایا جارہا ہے اور دوئم، جب نظام کی گرفت ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی جن کے سامنے حکومت اور عوامی مفادات کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اور ان کا اپنا نظام کرپشن اور بدعنوانی سمیت اقربا پروری پر مبنی ہو توان سے بہتر اصلاحات کی توقع کرنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اب سیاسی جماعتوں ، میڈیا اور سول سوسائٹی میں بھی وہ دم خم نہیں کہ وہ کسی بھی سطح پر بہتر اصلاحات کے لیے کوئی بڑی مزاحمت کرسکیں۔اس لیے پاکستان میں بہتر اور عوامی مفادات سمیت ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے کی بحث تو موجود ہے مگر اس پرعمل ہونے کے امکانات کا پہلو کمزور نظر آتا ہے اور یہ کام بغیر کسی بڑے دباؤ کی سیاست کے ممکن نہیں ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل