Loading
پشاور ہائیکورٹ کے سینئر جج اور عدالتی عملے کے ساتھ نازیبا اور نامناسب رویہ اپنانے پر الطاف صمد ایڈوکیٹ کا لائسنس معطل کر دیا گیا اور صوبہ بھر کی عدالتوں میں اسکے داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی جبکہ اسے اس ضمن میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ کیوں نہ آپکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے مزید کارروائی کے لئے کیس چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کو کو ارسال کر دیا گیا۔
اس حوالے سے سینئر پیونی جج جسٹس اعجازانور نے سماعت کا تحریری حکم نامہ بھی جاری کردیا ۔تحریری حکم نامہ میں لکھا ہے کہ الطاف صمد ایڈوکیٹ کا کیس تادیبی کارروائی کے لیے پاکستان بار کونسل کو بھیج دیا جاتا ہے موصوف وکیل ایک کیس میں درخواست گزار فریق کے وکیل ہےلیکن وہ کبھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
جس پر اسے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ کیوں وہ قانونی زمہ داری پوری نہیں کررہے کیونکہ اس نے سماعت ملتوی کرنے کی استدعاء سپریم کورٹ میں پیشی کی وجہ سے کی تا ہم ریکارڈ سے پتہ چلا کہ ان کا سپریم کورٹ میں کوئی کیس نہیں تھااور یوں اس نے کیس ملتوی کرنے کے لیے عدالت کو غلط معلومات فراہم کئے۔
حکم نامہ کے مطابق پیر کے روز جب ان کا کیس سماعت کے لئے مقرر تھا تو عدالت کے ریڈر نے کیس اور شوکاز نوٹس کے بارے میں اطلاع دی جس پر وکیل نے ریڈر کے ساتھ بدتمیزی کی اور جج اور ریڈر کو نازیبا گالیاں دی۔
ریڈر نے عدالت کو بتایا تو مبینہ بدتمیزی کی تصدیق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کو منگوایا گیا، جس میں مذکورہ شکایت کو درست پایا گیا کہ وکیل نے ریڈر کے ساتھ بدتمیزی کی اور نازیبا زبان استعمال کیاجس پر عدالت نے اسکا لائسنس معطل کرتے ہوئے کیس چیف جسٹس کو بھیج دیا۔
فیصلے کے مطابق چیف جسٹس وکیل کے خلاف کارروائی کے لئے کیس کسی دوسرے جج کے سامنے مقرر کریں اور تا حکم ثانی الطاف صمد ایڈوکیٹ کا لائسنس معطل کیا جاتا ہے اور وہ ہائیکورٹ اور کسی بھی عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے جبکہ اسے شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل