Thursday, May 21, 2026
 

ایران نے آبنائے ہرمز میں کنٹرول زون قائم کر دیا، بحری جہازوں کیلیے پیشگی اجازت لازمی قرار

 



ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر نگرانی مزید سخت کرتے ہوئے ایک نیا کنٹرولڈ میری ٹائم زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کیلئے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ایران کی خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مخصوص حصے کو باضابطہ طور پر کنٹرول زون میں شامل کر لیا گیا ہے۔ 1/ جمهورى اسلامى ايران محدودهٔ نظارتى مديریت تنگه هرمز را به این شرح تعيین کرده است: «خط اتصال كوه مبارك درايران وجنوب فجيره درامارات در شرق تنگه تاخط اتصال انتهاى جزيره قشم درايران و ام القيوین امارات درغرب تنگه.» pic.twitter.com/3ELSwYx5Bp — PGSA | نهاد مدیریت آبراه خلیج فارس (@PGSA_IRAN) May 20, 2026 بیان کے مطابق ام القوین سے قشم جزیرے تک سمندری حدود کی نئی لائن متعین کی گئی ہے جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والی تمام بحری ٹریفک کو متعلقہ حکام سے اجازت اور رابطہ کرنا ہوگا۔ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت اس آبی راستے کی نگرانی اور کنٹرول کا اعلان کیا جا چکا ہے جس میں بحری ٹریفک کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی نگرانی اور فیس کے نظام کی بات بھی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق اس راستے سے دنیا کے بڑے مالیاتی اور ڈیٹا نیٹ ورکس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی نئی پابندی یا کنٹرول کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل