Thursday, May 21, 2026
 

میری اننگ اب اختتام کو پہنچی!

 



میری اننگ اب اختتام کو پہنچی۔ دیکھنے اور پڑھنے میں بظاہر یہ ایک عام سا جملہ ہے لیکن اس کو بولنا بہت مشکل اور اس پر عمل کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ عموماً لوگ اس بات کا فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کب انھیں اپنی اننگ کا اختتام کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ یا تو وقت سے بہت پہلے اس کا اختتام کر دیتے ہیں، ہرچند کے ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں یا پھر وہ اپنی اننگ کو اتنا طول دے دیتے ہیں جب وہ اپنے سفر کا اختتام کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے وہ اپنی عزت کو کہیں راستے میں گنوا بیٹھے ہیں۔ ایک طویل اننگ کے بعد بھی اگر کوئی شخص عزت سے محروم ہے تو پھر ایسے لوگوں سے غریب کوئی نہیں ہوتا کیونکہ ایک طویل کیرئیر کے بعد بھی ان کے پاس بتانے کےلیے پیسے کے سوا کچھ نہیں ہوتا، اور ایسا بھی ہر ایک کے ساتھ نہیں ہوتا کیونکہ زیادہ تر لوگ تو ہر طرح سے تہی دامن ہوتے ہیں۔ اننگ ختم کرنے کا صحیح وقت کب ہے اس بات کا کوئی عالمگیر جواب تو نہیں ہے لیکن اس پر کچھ گزارشات ضرور ہیں اور یہ ہی ہماری آج کی تحریر کا مرکزی خیال ہے۔ ہمارے یہاں عام طور پر ایک محاورہ یا اصطلاح بہت استعمال کی جاتی ہے کہ ’بھریا میلہ چھوڑنا‘۔ اس کے معنی یہ ہے کہ آپ اپنے عروج کے دنوں میں ہی اپنی اننگ کو ختم کر دیں۔ جیسا کہ ہم نے لکھا ہے کہ اگر یہ ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ بعض اوقات لوگ، حالات اور واقعات یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ آپ نے جلدی کردی۔ اس کی ایک بہترین مثال کرکٹر یونس خان ہے کہ جنہوں نے 22 جون 2009 کو سری لنکا کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں ہرا کر ورلڈ کپ جیتا اور پھر اس تاریخی کامیابی کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں اس فارمیٹ سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ سنایا۔ اس کو کہتے ہیں ’بھریا میلہ چھوڑنا‘ لیکن بعد میں وقت نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کرنے میں جلدی کردی تھی۔ اس کی دوسری انتہا بھی ایک کرکٹر اور سابق کپتان ہے کہ انہوں نے اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑا کہ جب تک کل کے بچوں نے ان کو آؤٹ کرنا شروع نہیں کر دیا۔ ایک دفعہ تو انتہائی دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب ایک بولر نے انھیں آؤٹ کرنے کے بعد ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی۔ یہ پتہ نہیں ہے کہ انھوں نے آؤٹ کرنے پر معافی مانگی یا پھر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ اللہ کے واسطے اب ہمارا اور کرکٹ کا پیچھا چھوڑ دو۔ میرے خیال سے انھوں نے دوسرا والا پیغام لے لیا لیکن اس کے بعد بھی لیگ کرکٹ میں چند گیند کے مہمان کے طور پر نمودار ہوتے رہے تاوقتیکہ کہ ان کی کمر نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ یہ بھریا میلہ چھوڑنے کی دوسری انتہا ہے۔ ہم چونکہ مینجمنٹ کے آدمی ہے تو ہم اس کو (PLC) پروڈکٹ لائف سائیکل یا پروڈکٹ کی زندگی کے دورانیے کے ذریعے سمجھتے ہیں۔ پہلا درجہ تعارفی ہے کہ جس میں آپ اپنی اننگ کا آغاز کرتے ہیں۔ دوسرا درجہ گروتھ کا ہے کہ جس میں آپ اپنے عروج پر پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد مزید گروتھ یا ترقی نہیں ہوتی اور آپ اسی درجے پر برقرار رہتے ہیں، اس کو اسٹیشنری یا پلیٹو بھی کہتے ہیں۔ پلیٹو آپ سمجھیے کہ سطح مرتفع کہ جہاں اب اس سے اوپر جانا ممکن نہیں ہے۔ اس درجے کے بعد ڈیکلائن یا زوال نے ہی آنا ہوتا ہے۔ ویسے بھی ہر عروج کو زوال ہے ماسوائے اللہ تعالٰی کی ذات کے۔ تو زوال ایک اٹل حقیقت ہے کہ جس کو تھوڑے عرصے کےلیے روکا تو جاسکتا ہے لیکن مکمل ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ ایک اور بات بھی ہوتی ہے کہ آدمی کبھی کبھی برے وقت سے بھی گزر رہا ہوتا ہے تو اس کو اننگ کا خاتمہ نہیں کہہ سکتے ہیں اور اس دوران مکمل محنت سے یا تو آپ اس برے وقت سے باہر آجائیں گے یا آپ کو پتہ چل جائے گا کہ اب وقت ختم ہونے والا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا ہے کہ اس سوال یا بات کا کوئی عالمگیر جواب نہیں ہے۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ جب آپ کی کارکردگی کا معیار منفی پانچ سے پندرہ فیصد کے درمیان ہوں تو سمجھ لیجیے کہ فیصلے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔ آج کی اس تحریر کا اختتام ایک مشہور انگریزی فلم ’دی ڈارک نائٹ‘ کے ایک ڈائیلاگ پر کرنا چاہوں گا۔ پہلے اصل ڈائیلاگ انگریزی میں اور پھر اس کا ترجمہ: You either die a hero or live long enough to see yourself become the villain اس کا ترجمہ یہ ہے یا تو آپ ہیرو رہتے ہوئے ہی مرجائیں یا پھر زندہ رہیں اور خود کو ہی ولن بنتے دیکھیں۔ آج کل ہندوستان کے ایک وکٹ کیپر بیٹسمین اور سابق کپتان اس کی عملی تصویر بننے ہوئے ہیں۔ یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ میری اننگ اب اختتام کو پہنچی کہنا آسان نہیں ہے اور اس بات کو صحیح وقت پر کہنے والا ہی اصل ہیرو ہوتا ہے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل