Loading
بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے علاقے پلابی میں 8 سالہ بچی کے بہیمانہ قتل کے واقعے نے پورے ملک کو غم و غصے میں مبتلا کردیا۔
پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم سہیل رانا کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات میں بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتولہ رمیزا اختر دوسری جماعت کی طالبہ تھی اور پاپولر ماڈل ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھی۔ واقعہ ڈھاکا کے علاقے پلابی سیکشن 11 میں پیش آیا جہاں بچی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھی۔
رپورٹس کے مطابق بچی صبح ناشتے کے بعد اچانک لاپتہ ہوگئی، والدہ پروین بیگم نے تلاش شروع کی تو پڑوسی کے فلیٹ کے قریب بچی کی سینڈل ملی۔
اہل محلہ نے کئی بار دروازہ کھٹکھٹایا لیکن جواب نہ ملنے پر دروازہ توڑ دیا گیا، اندر داخل ہونے پر بچی کی لاش بستر کے نیچے سے برآمد ہوئی جبکہ جسم کے اعضا الگ حالت میں ملے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم سہیل رانا واردات کے بعد فرار ہوگیا تھا، تاہم اسے بعد میں نارائن گنج کے علاقے فتح اللہ سے گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے ملزم کی اہلیہ کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق فرانزک شواہد اکٹھے کرلیے گئے ہیں جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد زیادتی اور قتل سے متعلق مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سوشل میڈیا پر بھی عوام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ کئی شہریوں نے مجرموں کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل