Loading
ڈی جی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کہا ہے کہ اداکارہ مومنہ اقبال کیس میں دونوں جانب سے جو بھی بیانات ریکارڈ ہوں گے، ایک دو دن میں کیس مکمل کر لیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ دونوں جانب سے جو بھی بیانات ریکارڈ ہوں گے، ایک دو دن میں کیس مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے کیسز این سی سی آئی اے کی اولین ترجیح ہیں۔
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ این سی سی آئی اے غریب اور امیر میں فرق نہیں کرتا۔ صحافی ہم سب کے لیے سب سے اہم ہیں اور صحافی پورے معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ریاست کے خلاف بات کرے گا تو کارروائی ہوگی۔ ڈی جی این سی سی آئی اے کے مطابق کچھ لڑکوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہہ رہے تھے کہ سوات کو افغانستان کا حصہ ہونا چاہیے۔
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ اگر این سی سی آئی اے ریاستِ پاکستان پر اعتماد نہ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کرے تو پھر کیا کرے۔ انہوں نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کے ملک بھر میں 480 اہلکار ہیں اور ادارہ اپنی اندرونی استعداد کار بڑھا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل