Loading
یورپی یونین نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں پر ‘انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں’ سے منسلک 4 اداروں اور 3 افراد پر پابندی عائد کردی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے انتہاپسندوں کے 4 اداروں اور دیگر افراد پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاپسند اسرائیلی آباد کار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سنگین اور منظم انداز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین کونسل نے اسرائیلی آباد کاروں اور ان سے منسلک اداروں پر پابندی کی منظوری دی ہے۔
یورپی یونین نے نچالا سیٹلمنٹ موومنٹ اور اس کی ڈائریکٹر ڈینیلا ویز پر فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی کے لیے جبری اقدامات کی حوصلہ افزائی اور سہولت کاری کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
اسرائیلی این جی او ویگاوم اور اس کے ڈائریکٹر میئرڈیوش بھی یورپی یونین کی پابندی کی زد میں آگئے ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ پورے مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کی توسیع کے لیے فلسطینیوں کی جائیدادیں گرانے اور تباہ کرنے کے لیے سہولت کاری کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے فلسطینی پرائمری اسکول گرانے کا الزام بھی ہے۔
یورپی یونین نے ایک اور این جی او ہاشومر یوش اور اس کی صدر ایویشی سوئسا پر کم ازکم 28 پرتشدد واقعات اور آباد کاری پر پابندی عائد کردی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی آباد کاروں کی دی آمانا کوآپریٹیو ایسوسی ایشن گوچ ایمونیم پر بھی پابندی لگائی گئی ہے، جو کم ازکم 30 پرتشدد واقعات اور آبادکاری کے لیے بنیادی کردار ادا کرنے، مالی تعاون اور سہولت کاری میں ملوث ہے۔
قبل ازیں اقوام متحدہ نے جنگ زدہ علاقے میں جنسی تشدد کے واقعات پر اسرائیل کو بلیک لسٹ قرار دیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل