Loading
امریکا میں امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس کی متعارف کردہ متنازع ویب سائٹ Aliens.gov کے اعداد و شمار نے خود انتظامیہ کے دعووں پر سوالات کھڑے کر دیے۔
ویب سائٹ کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ملک بھر کے تقریباً 12 ہزار شہروں اور قصبوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے لگ بھگ پانچ لاکھ افراد کو گرفتار کیا، تاہم بعد ازاں سامنے آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ گرفتار شدگان میں سینکڑوں امریکی شہری بھی شامل تھے۔
یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب وائٹ ہاؤس نے ’’They Walk Among Us‘‘ کے عنوان سے ایک ویڈیو جاری کرنے کے بعد Aliens.gov ویب سائٹ لانچ کی۔ ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے نام کی وجہ سے قیاس آرائیاں کیں کہ شاید ویب سائٹ کا تعلق خلائی مخلوق یا یو ایف اوز سے ہو، لیکن بعد میں واضح کیا گیا کہ اس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں کو اجاگر کرنا ہے۔
ویب سائٹ میں شائع کردہ معلومات کے مطابق امیگریشن حکام نے ملک بھر میں وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں، مگر دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ کم از کم 715 مقامات پر گرفتار افراد میں امریکی شہری بھی شامل تھے، جبکہ 83 ایسے مقامات بھی سامنے آئے جہاں درج تمام گرفتار شدگان امریکی شہری تھے۔ اس انکشاف کے بعد ناقدین نے نہ صرف اعداد و شمار بلکہ ویب سائٹ کے ڈیٹا جمع کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
ویب سائٹ میں مختلف شہروں کے ساتھ گرفتار افراد کے مبینہ جرائم کی تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ کئی ہزار مقامات پر ’’امیگریشن خلاف ورزی‘‘ بنیادی الزام کے طور پر درج ہے، جبکہ بعض مقامات پر ’’عوامی امن میں خلل‘‘ اور دیگر نوعیت کی خلاف ورزیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔ تاہم حیران کن طور پر پانچویں حصے سے زائد اندراجات میں کسی بھی قسم کے فوجداری جرم کا ذکر موجود نہیں۔
تنازع کو مزید ہوا اس وقت ملی جب امریکی علاقے پورٹو ریکو کے حوالے سے بھی متضاد معلومات سامنے آئیں۔ بعض اندراجات میں پورٹو ریکو کو الگ دائرہ اختیار کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ایک مقام پر اسے ان غیر ملکی علاقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جہاں سے گرفتار شدگان تعلق رکھتے تھے، حالانکہ پورٹو ریکو کے رہائشی امریکی شہری شمار ہوتے ہیں۔
تنقید بڑھنے پر وائٹ ہاؤس نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ پر موجود معلومات محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی سے حاصل کی گئی تھیں اور ابتدائی مرحلے میں بعض ایسے مقدمات بھی شامل ہو گئے تھے جن کا امیگریشن سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وضاحت کے بعد ویب سائٹ میں تبدیلیاں کی گئیں جس کے نتیجے میں مجموعی گرفتاریوں کی تعداد میں 2 لاکھ 70 ہزار سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن پالیسی پر نظر رکھنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے صرف خطرناک مجرموں کے خلاف کارروائی کا مؤقف سرکاری اعداد و شمار سے مکمل طور پر ثابت نہیں ہوتا۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں ایسے افراد کی گرفتاریوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جن کے خلاف کوئی فوجداری سزا موجود نہیں تھی، جبکہ 170 سے زائد امریکی شہری بھی امیگریشن کارروائیوں کی زد میں آ چکے ہیں۔
ادھر تحقیقی جریدے WIRED نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ویب سائٹ پر موجود ’’Encounter Counter‘‘ حقیقی سرکاری اعداد و شمار کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اسے ویب سائٹ کے کوڈ کے ذریعے مصنوعی انداز میں بڑھایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں دکھائی جانے والی تعداد سرکاری ریکارڈ میں موجود اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ Aliens.gov دراصل امیگریشن کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینے اور تارکین وطن کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے، جبکہ حامی حلقے اسے عوام کو امیگریشن نفاذ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم ویب سائٹ میں سامنے آنے والے تضادات، متنازع اعداد و شمار اور امریکی شہریوں کی گرفتاریوں سے متعلق انکشافات نے اس منصوبے کی ساکھ اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل