Loading
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں اور نئی جنگ کا فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا باب ابھی بند نہیں ہوا۔ ایران کو نمایاں طور پر کمزور کیا جا چکا ہے تاہم خطے کی صورتحال بدستور حساس ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ امریکی اور اسرائیلی افواج تیار ہیں بس ایک اشارے کا انتظار ہے۔
نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی تنازع کو کم اہم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے ہدف پر متفق ہیں تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن قائم ہو سکے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی تنازع کو کم اہم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے ہدف پر متفق ہیں تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن قائم ہو سکے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ دو دن قبل ان کی نیتن یاہو کے ساتھ ایک سخت گفتگو ہوئی تھی جس میں انھوں نے مبینہ طور پر اپنے قریبی اتحادی کو سخت اور نامناسب الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے تقریباً ہر دو دن بعد بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات دونوں رہنماؤں کے درمیان حکمتِ عملی کے بعض پہلوؤں پر اختلافِ رائے بھی ہوتا ہے لیکن بالآخر مشترکہ حل نکال لیا جاتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کشیدگی میں اضافے کی ضرورت ہے یا نہیں، اور آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ فوجی اقدام کا فیصلہ صدر ٹرمپ ہی کریں گے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ صدر ٹرمپ نے ایک سفارتی گفتگو کے دوران نیتن یاہو کو بیروت پر حملے کی دھمکیوں کے معاملے پر سخت الفاظ میں تنبیہ کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل