Wednesday, June 03, 2026
 

آئی پی ایل میں چوٹ کے بعد ممبئی انڈینز نے آدھی تنخواہ ادا کی، مچل سینٹنر کا انکشاف

 



نیوزی لینڈ کے وائٹ بال کپتان مچل سینٹنر نے انکشاف کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے دوران چوٹ لگنے کے بعد ممبئی انڈینز کی جانب سے آدھی تنخواہ ادا کی گئی۔ 34 سالہ آل راؤنڈر کو آئی پی ایل 2025 کے میگا آکشن میں ممبئی انڈینز نے 20 ملین بھارتی روپے میں خریدا تھا اور بعد ازاں انہیں رواں سیزن کے لیے بھی برقرار رکھا گیا۔ آئی پی ایل 2026 میں سینٹنر کی مہم مایوس کن رہی جہاں وہ چند میچوں تک ہی حصہ لے سکے اور پھر انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔ ابتدا میں ان کو انجری کی وجہ سے آٹھ ہفتوں تک آرام کا مشورہ دیا گیا تھا، تاہم بعد میں وہ جلد صحتیاب ہو کر نیوزی لینڈ اسکواڈ میں بھی شامل ہو گئے۔ ان کی فٹنس اور آئی پی ایل چھوڑنے سے متعلق مختلف الزامات بھی سامنے آئے، جن میں بعض حلقوں نے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے ٹورنامنٹ چھوڑنے کے لیے انجری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مچل سینٹنر نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں مکمل تنخواہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق فرنچائز نے صرف آدھی رقم ادا کی۔ سینٹنر نے وضاحت کی کہ انہیں دو مختلف انجریز کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث وہ مکمل طور پر بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ان کے مطابق وہ ابتدائی میچ سے محروم رہے کیونکہ ان کے دوسرے بچے کی پیدائش بھی اسی دوران ہوئی،اور بعد میں دہلی کے خلاف میچ میں شرکت کے دوران کندھے کی انجری کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ میچز کے بعد واپسی پر انہیں دوسرے کندھے کی بھی چوٹ لگ گئی جس کے بعد انہیں واپس جانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دو ہفتوں کے اندر دونوں کندھوں کی انجری برداشت کی اور وہ فرنچائز کے لیے پوری کوشش کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں مختلف تنازعات بھی سامنے آئے، جن میں کھلاڑیوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے بعد بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے سخت اقدامات کیے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل