Loading
خیبرپختونخوا کے علاقے کوہستان میں پولیس، ضلعی انتظامیہ اور واپڈا حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد مظاہرین نے شاہراہ قراقرم کو عارضی طور پر صبح 10 بجے تک ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ تاہم مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ سڑک بند کی جا سکتی ہے۔
مظاہرین کے رہنما مولانا کریم داد کے مطابق شاہراہ قراقرم پر پھنسے ہوئے سیاحوں، خواتین، بچوں اور بیمار افراد کی سہولت کے پیش نظر محدود وقت کے لیے راستہ کھولا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
ادھر واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں واپڈا حکام نے ضلع پٹن کو 15 روز کے اندر 132 کے وی پاور سپلائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تاہم مظاہرین نے حکومتی وعدوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو صبح 10 بجے کے بعد دوبارہ شاہراہ قراقرم بند کر دی جائے گی۔
دوسری جانب مسلسل آٹھ گھنٹے تک سڑک بند رہنے کے باعث علاقے میں پھنسے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دشوار گزار راستوں اور طویل انتظار کی وجہ سے متعدد گاڑیوں کی روانی متاثر ہوئی۔
پولیس کے مطابق ٹریفک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے شاہراہ پر یک طرفہ ٹریفک کا نظام نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ آمدورفت جزوی طور پر جاری رکھی جا سکے۔
واضح رہے کہ کوہستان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف مقامی رہنما حبیب اللہ خان کی قیادت میں شاہراہ قراقرم پر پٹن کے شہری احتجاج کر رہے تھے۔
پٹن میں مشتعل مظاہرین نے گزشتہ روز دن دو بجے سے شاہراہ بند کر رکھی تھی جس کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی ہیں اور ہزاروں مسافر محصور ہو کر رہ گئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل