Thursday, June 04, 2026
 

ایلون مسک کی موٹر وے ریپ کیس کا فیصلے پر پاکستان کو شاباش؛ مغربی ممالک بھی ایسا کریں

 



دنیا کے امیر ترین شخصیات میں سے ایک اور ٹیک جائنٹ ایلون مسک نے پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے اور مغربی ممالک کو مشورہ دے ڈالا۔ موٹر وے ریپ کیس میں مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھنے پر ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ردعمل میں لکھا کہ شاباش پاکستان! مغرب میں بھی ہمیں ایسے ہی کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ شامل تھے، نے مجرم عابد ملہی اور شفقت بگا کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائیں برقرار رکھیں۔ عدالت نے زیادتی کے جرم میں دی گئی سزائے موت کے علاوہ ڈکیتی، اغوا اور دیگر جرائم میں سنائی گئی قید اور جرمانے کی سزاؤں کو بھی برقرار رکھا۔ سماعت کے دوران مجرموں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، تاہم سرکاری وکیل راحیلہ شاہد نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کا فیصلہ مضبوط اور ناقابلِ تردید شواہد کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ عدالت نے استغاثہ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے اپیلیں خارج کر دیں۔ موٹروے کیس کیا تھا؟ 9 ستمبر 2020 کو لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ایک فرانسیسی نژاد خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ سفر کر رہی تھیں کہ رات کے وقت ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہوگیا۔ خاتون نے مدد کے لیے کال کی اور گاڑی سڑک کنارے کھڑی کر دی۔ اسی دوران دو مسلح افراد خاتون اور ان کے بچوں کو قریبی کھیتوں میں لے گئے جہاں خاتون کو بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ نقدی اور دیگر سامان بھی لوٹ لیا گیا۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خواتین کے تحفظ، پولیس کے نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر شدید بحث چھڑ گئی تھی۔ تحقیقات اور شواہد پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے جدید فرانزک اور تکنیکی شواہد کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ استغاثہ کے مطابق متاثرہ خاتون کی شناخت، ڈی این اے شواہد اور موبائل فون ریکارڈز نے مقدمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تحقیقات کے نتیجے میں عابد ملہی اور شفقت بگا کو گرفتار کیا گیا اور مارچ 2021 میں لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمان کو زیادتی کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ دیگر سزائیں عدالت نے دونوں مجرموں کو ڈکیتی کے جرم میں 14، 14 سال قید اور ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اس کے علاوہ بچوں کے اغوا کے جرم میں عمر قید جبکہ گاڑی کو نقصان پہنچانے پر پانچ، پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔ مقدمہ اہم کیوں سمجھا جاتا ہے؟ پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل فرہاد علی شاہ کے مطابق موٹروے زیادتی کیس پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی افسران، فرانزک ماہرین اور استغاثہ کی مشترکہ کوششوں کے باعث مضبوط شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے گئے، جس کے نتیجے میں مجرموں کو سزا دلوانا ممکن ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کے مزید قریب پہنچ گیا ہے تاہم قانون کے تحت مجرموں کے پاس اب بھی اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق موجود ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل