Loading
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس نہیں لیں گے البتہ سیکیورٹی اور دیگر خدمات کی فیس لی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ملک کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر سے گفتگو میں کیا۔
انھوں نے ایک سوال کے جواب میں دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے بدلے کوئی راہداری فیس، ٹرانزٹ ڈیوٹی یا حقِ گزر وصول نہیں کرنا چاہتا۔
تاہم یہ بھی واضح کیا کہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں جن میں بحری رہنمائی (نیویگیشن سپورٹ)، تلاش اور امدادی کارروائیاں، سمندری تحفظ و سلامتی اور ماحولیاتی آلودگی کی صورت میں صفائی کے اقدامات شامل ہیں۔ ان خدمات کے بدلے مناسب معاوضہ لینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے دائرے میں واقع ہے اور بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت دونوں ممالک اس پر خودمختار حقوق رکھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ ایران اور عمان اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی حفاظت، رہنمائی اور ہنگامی امداد جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان خدمات کی قیمت وصول کرنا بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور اسے دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں فروخت ہونے والے خام تیل اور ایل این جی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
یہ آبی راستہ اپنے تنگ جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری طور پر مرتب ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز بند کر رکھی ہے اور دنیا میں تیل کی قلت پیدا ہوگئی جس سے قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل