Thursday, June 04, 2026
 

بیچارے بجلی صارفین

 



ملک بھر میں سرکاری محکموں کے افسروں اور اہلکاروں کی من مانیوں اور بدعنوانیوںکے بارے میں کوئی نہ کوئی خبر یا اطلاع میڈیا میں آتی رہتی ہے۔ چند روز پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف کا ٹویٹ بھی یہ بات واضح کرتا ہے کہ سرکاری ملازمین کیا گل کھلا رہے ہیں، میڈیا کے مطابق ان کی شکایت پر محکمہ بجلی کے پانچ افسران معطل کر دیے گئے ہیں۔ خواجہ آصف نے اپنے ٹویٹ میں یہ بھی بتایا کہ ان کے حلقہ انتخاب میں ایک گاؤں کا ٹرانسفارمر جل گیا تھا جس کی تبدیلی کے لیے انھوں نے اسی محکمے کے اپنے پرانے مہربان سے سفارش کی کہ سخت گرمی میں لوگ بجلی نہ ملنے سے پریشان ہیں اس لیے وہ مہربانی فرمائیں جس پر لگتا ہے کہ مذکورہ مہربان کی بھی نہیں چلی اور ذمے داروں نے ٹرانسفارمر تبدیلی کے لیے 80 ہزار روپے طلب کیے جس پر گاؤں والوں نے آپس میں چندہ جمع کرکے یہ رقم دی اور جلے ہوئے ٹرانسفارمر کی جگہ نیا ٹرانسفارمر لگ گیا مگر اسی ہزار روپے وصولی کی کوئی رسید نہیں دی کیونکہ وہ رشوت تھی جس کی کوئی رسید نہیں ہوتی۔  وزیر دفاع کے اس ٹویٹ پر لاہور کے ایک صحافی صاحب نے اپنے وی لاگ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے انھیں ایسا ٹویٹ نہیں کرنا چاہیے تھا کہ جس سے حکومت کی بدنامی ہو لیکن غور کیا جائے تو وزیردفاع کا یہ ٹویٹ حق اور سچ کی ایسی آواز ہے جسے بلند کرنے کی جرأت کم ہی وزراء کو ہوتی ہے۔رشوت وصولی کا کوئی نیا انکشاف نہیں کیا ، دہائیوں سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ملک کے کسی بھی حکمران نے یہ کہنے کی جرات نہیں کی کہ ان کی حکومت میں بدعنوانی نہیں ہو رہی یا ملک سے کرپشن ختم ہو گئی ہے۔ بعض محکمے تو ایسے ہیں جن کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، ان کے بارے میں خبریں بھی کم ہی آتی ہیں لیکن پبلک ڈیلنگ والے سرکاری محکموں کے بارے میں خبریں بھی آتی ہیں اور عوام بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف خود بھی بجلی و پانی کے وزیر رہ چکے ہیں، انھیں اس وزارت اور اس کے ماتحت جو بھی محکمے ہیں، ان کے بارے میں حقائق کا اچھی طرح علم ہے۔ اسی لیے انھوں نے اسی محکمے کے اپنے مہربان افسر کو فون کیا تھا لیکن اس کے باوجود مفت میں ٹرانسفارمر تبدیل نہیں ہوا بلکہ گاؤں والوں کو 80 ہزار روپے دے کر ٹرانسفارمر مرمت یا تبدیل کرانا پڑا ہے۔ اب ملازمین کا اس حوالے سے موقف کیاہے، وہ سامنے نہیں آیا ، ممکن ہے محکمے کے پاس فوری مرمت کے اخراجات ادا کرنے کے لیے پیسے نہ ہوں، انھوں نے کام بھی فوری کرنا تھا، لہذا مرمت یا تبدیلی کے اخراجات گاؤں والوں کو اٹھانے پڑے ہوں۔ موجودہ وزیر توانائی اویس لغاری کو اس صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہیے،کہ ان کے محکمے میں کیا چل رہا ہے ، دور دراز دیہات میں ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لیے محکمے کے پاس فوری مالی وسائل بھی موجود ہوتے ہیں کہ نہیں۔ مگر حکومت کی توجہ اپنے محکمے کی کارکردگی اورنچلی سطح پر فوری مالی وسائل کی فراہمی پر نہیں بلکہ بجلی صارفین سے زیادہ سے زیادہ بلوں کے ذریعے رقم وصولی پر ہے۔ حکومت ایک طرف بجلی کی قلت کو غلط جواز بنا کر ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے اور بجلی اب ہر شخص کی ضرورت نہیں مجبوری بن چکی ہے اور لوگوں نے اپنی مالی حیثیت کے مطابق سولر سسٹم لگا کر اپنی بجلی پیدا کرکے اپنی ضرورت پوری کرنے کا طریقہ اپنا کر کوئی غلط نہیں کیا بلکہ حکومت کی مدد کی تھی تاکہ حکومت کو لوڈ شیڈنگ نہ کرنی پڑے اور انھیں حکومت سے وہ مہنگی بجلی نہ خریدنی پڑے جس پر ٹیکس کی بھرمار ہے۔ اب ان پر ٹیکس عائد ہورہے ہیں۔حکومت نے عوام کا کوئی خیال نہیں کیا اور صارفین پر سوئی گیس کی طرح فکسڈ چارجز عائد کر دیے ہیں تاکہ حکومت کی آمدنی بڑھے۔ وزیر اعظم نے صارفین بجلی کو 35 روپے ٹی وی فیس سے نجات دلائی مگر محکمہ توانائی نے صارفین پر سو یونٹ سے کم بجلی کے استعمال پر چار سو روپے اور دو سو یونٹ تک کے استعمال پر نو سو روپے فکسڈ چارجز تھوپ دیے ہیں اور دو سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی تو ملتی رہے گی مگر ان صارفین کو اپنے میٹر بجلی بل پر موجود کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے ہوں گے اور ان کا محکمہ ان کا ڈیٹا خود مرتب کرے گا کہ اس سبسڈی کا کون حق دار ہے کون نہیں ہے اسی لیے ان سے تفصیل مانگی گئی ہے۔ حکومت بڑے سولر سسٹم لگانے والوں کا احسان ماننے کی بجائے انھیں بوجھ قرار دے رہی ہے کہ وہ اپنی بجلی کیوں بنا کر استعمال کر رہے ہیں اور سرکاری مہنگی بجلی کیوں نہیں خرید رہے اور دو سو یونٹ بجلی سے کم بجلی استعمال کرکے سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔ موجودہ اور تمام سابقہ حکومتوں کو بجلی صارفین سے زیادہ آئی پی پیز معاہدوں کا بہت زیادہ خیال ہے جو عشروں سے بجلی مہنگی فروخت کرکے کپسیٹی چارجز بھی وصول کررہی ہیں۔ حکومت بجلی فراہمی کے بغیر بھی ہر ماہ بھاری رقوم اس لیے دے رہی تھی کہ وہ معاہدوں میں جکڑی ہوئی ہے۔ حکومت کے نزدیک مزید ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے صرف بجلی صارفین ہی رہ گئے ہیں جنھیں حکومت معمولی رعایت دے کر فکسڈ چارجز میں پھنسا لیتی ہے اور اب نشانہ دو سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین ہیں جن کے گھروں پر جو میٹر لگے ہیں وہ پہلے ہی تیز چل کر محکمے کی آمدنی اور صارفین پر بوجھ بڑھاتے آ رہے ہیں جن کی شکایت بھی الٹا صارفین کے گلے پڑ جاتی ہے اور صارفین پر میٹر سلو سے بجلی چوری کا الزام عائد کردیا جاتا ہے جب کہ تیز میٹر شکایات چیک بھی ان کی اپنی لیبارٹریز کرتی ہیں۔ سخت گرمی میں دو سو یونٹ صرف پنکھوں کے چلنے سے بن جاتے ہیں۔ اس معمولی سبسڈی پر بھی حکومت مخلص نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل