Loading
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27کے بجٹ کی تیاری کیلیے امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ 290 روپے مقرر کر دی ہے، جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 3.5 فیصد یا 10 روپے کی معمولی قدر میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
اس فیصلے سے حکومت کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کو ایک دفتری مراسلہ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے بجٹ تخمینوں میں ایک ڈالر کے مقابلے میں 290 روپے کی شرح کو مدنظر رکھیں۔
یہ شرح غیر ملکی قرضوں، گرانٹس، قرضوں کی ادائیگی اور ترقیاتی منصوبوں کے مالی تخمینوں کے لیے استعمال کی جائے گی، جبکہ پاکستان باضابطہ طور پر ’’لچکدار شرح مبادلہ‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
حکومت نے بجٹ تقریر کے لیے 10 جون کی تاریخ تجویز کی ہے، تاہم اس کی حتمی منظوری وزیراعظم شہباز شریف دیں گے۔
یہ شرح دفاعی بجٹ کے اس حصے کے تعین کے لیے بھی استعمال ہوگی جو بیرونِ ملک سے دفاعی سازوسامان کی خریداری اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے متعلق ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئندہ مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ کا تخمینہ 2.66 کھرب روپے لگایا ہے، تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق سرحدی کشیدگی کے باعث حکومت اس سے زیادہ رقم مختص کر سکتی ہے۔
اسی شرح کو پاکستان کے بیرونِ ملک سفارتی مشنز اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے بجٹ تعین کے لیے بھی بنیاد بنایا جائے گا۔
آئندہ مالی سال کے دوران وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3.2 ارب ڈالر، یعنی تقریباً 927 ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یہ رقم قومی ترقیاتی بجٹ 4.3 کھرب روپے کا تقریباً 22 فیصد بنتی ہے، جو ترقیاتی اخراجات کے لیے بیرونی قرض دہندگان پر نمایاں انحصار کی نشاندہی کرتی ہے۔
موجودہ مالی سال کا بجٹ بھی 290 روپے فی ڈالر کی شرح کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا تھا، تاہم روپے کی قدر مجموعی طور پر مستحکم رہی۔
ذرائع کے مطابق حکومت رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینے 280 روپے فی ڈالر کی بنیاد پر مرتب کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
جمعرات کو بینکوں کے درمیان ڈالر کی شرح 278 روپے 42 پیسے رہی، جس میں تین پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026-27میں پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات 21.2 ارب ڈالر جبکہ مالی سال 2027-28 میں 30 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں یہ جائزہ لیا گیا کہ بیرونی مالیاتی ضروریات کا درست اندازہ لگایا گیا ہے یا نہیں اور آیا حکومت 2027-28میں 30 ارب ڈالر کے ممکنہ تقاضے پورے کرنے کی پوزیشن میں ہوگی یا نہیں۔
وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم آفس کو یقین دلایا کہ ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات مکمل طور پر پوری کی جا سکتی ہیں اور 2027-28کے لیے 30 ارب ڈالر کا تخمینہ محض آئی ایم ایف کی پیش گوئی ہے۔
آئندہ مالی سال میں حکومت نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.7 فیصد، یعنی 3.6 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔
ذرائع کے مطابق حال ہی میں برآمد کنندگان نے وزیراعظم شہباز شریف سے روپے کی قدر میں مزید لچک پیدا کرنے اور شرح مبادلہ کو مزید آزاد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ اسٹاف لیول رپورٹ میں زور دیا ہے کہ پاکستان کے لیے شرح مبادلہ میں لچک بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کا بنیادی ذریعہ ہونی چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے ڈالر خریدنا بند کر دے تو روپے کی قدر مزید مستحکم ہو کر تقریباً 260 روپے فی ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل