Thursday, June 04, 2026
 

کہاوتوں کی کہانیاں

 



اردو زبان کی کہاوتیں یا ضرب الامثال، صرف جملے نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات کا دلچسپ نچوڑ ہیں۔ یہ کہاوتیں اکثر کسی خاص واقعے یا کردار کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہاں چند حکایات پیش خدمت ہیں: چور کی داڑھی میں تنکا: ایک شخص کے گھر چوری ہو گئی، وہ سیدھا قاضی کے پاس پہنچا اور مال جانے کی شکایت کی، قاضی نے شہر کے تمام مشکوک لوگوں کو بلایا اور قطار میں کھڑا کر دیا، اس کے بعد قاضی صاحب نے متعلقہ شخص سے کہا کہ چور پکڑا گیا ہے، اس کی داڑھی میں تنکا ہے۔ یہ سنتے ہی چور نے فوراً اپنی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ تنکا ہٹا دے، قاضی نے اسے فوراً تاڑ لیا کہ یہی چور ہے۔ اس طرح اس شخص کا مال قاضی صاحب کی دانش مندی کی وجہ سے بازیاب ہو گیا۔ اس کہاوت کا مطلب ہے کہ مجرم خود اپنے جرم کی وجہ سے ڈرا ہوا ہوتا ہے، اس لیے وہ کوئی نہ کوئی مشتبہ حرکت کر دیتا ہے اور پکڑا جاتا ہے۔ آ بیل مجھے مار ۔۔۔۔ یعنی خود مصیبت کو دعوت دینا۔ ایک بار ایک شخص غصے میں اپنی حماقت کی وجہ سے بیل کے سامنے جا کھڑا ہوا اور بیل سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی، بیل غصے میں آ گیا اور اس شخص کو مار مار کر زخمی کر دیا، جب سے یہ کہاوت مشہور ہے کہ آ بیل مجھے مار۔ وہی مرغے کی ایک ٹانگ۔۔۔۔ یعنی اپنی غلط بات پہ اڑ جانا۔ ایک امیر شخص نے اپنے باورچی کو مرغ پکا کر لانے کو کہا، باورچی نے مرغ پکا کر ایک ٹانگ کھا لی، جب دستر خوان پر مرغ آیا تو اس میں ایک ٹانگ تھی۔ مالک نے پوچھا کہ دوسری ٹانگ کہاں ہے، تو باورچی بولا کہ حضور! یہ مرغا ایک ہی ٹانگ کا تھا، جب اس نے باہر جا کر دیکھا تو ایک مرغا ایک ٹانگ پر کھڑا تھا۔ باورچی بولا دیکھیے حضور! یہ مرغا بھی ایک ہی ٹانگ کا ہے، مالک نے فوراً ایک ڈنڈا مرغ کو مارا، وہ فوراً دونوں ٹانگوں سے بھاگ گیا۔ باورچی عیاری سے بولا کہ حضور! اگر آپ اس مرغ کے بھی لکڑی مار دیتے تو اس کی بھی دونوں ٹانگیں باہر آ جاتیں۔ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔۔۔۔ شیخی بگھارنا، اپنے منہ میاں مٹھو بننا۔ ایک ناچنے والی اپنے ناچ کا بڑا ذکر کرتی تھی، جب کہ اسے ناچ بالکل نہ آتا تھا، لیکن وہ دعوے بڑے بڑے کرتی تھی، ایک دن کسی امیر نے اپنی بیٹی کی شادی میں ناچنے کے لیے بلایا اور کھلے صحن میں ناچ کا انتظام کیا، سب مہمان اس کا ناچ دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ رقاصہ نے ناچنا شروع کیا، لیکن اسے ناچ تو آتا نہیں تھا لہٰذا دو چار ٹھمکے لگا کر بولی ’’میں یہاں نہیں ناچ سکتی کیوں کہ آپ کا آنگن ٹیڑھا ہے۔‘‘ اسی وقت کسی مہمان نے کہا ’’واہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔‘‘ تبھی سے یہ کہاوت مقبول ہو گئی۔ یہ ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب کوئی شخص دعوے تو بڑے بڑے کرے لیکن اسے آتا کچھ نہ ہو۔ ابھی دلّی دور ہے۔۔۔۔یعنی کل نہ جانے کیا ہو۔ دلی میں حضرت نظام الدین اولیا رہا کرتے تھے۔ لوگ ان کی جانب راغب ہوتے تھے، ان کے زمانے میں ہندوستان پر غیاث الدین تغلق کی حکومت تھی۔ بادشاہ حضرت نظام الدین اولیا کو ناپسند کرتا تھا، ایک دفعہ بادشاہ بنگال گیا، وہاں سے اس نے حضرت کو پیغام بھجوایا کہ میں آ رہا ہوں، میرے آنے سے پہلے آپ دلّی چھوڑ کر چلے جائیں۔ حضرت نے یہ پیغام سن کر کہا ’’ہنوز دلی دور است‘‘ یعنی ابھی دلی دور ہے۔ مریدین پریشان ہو گئے کہ نہ جانے بادشاہ واپس آ کر حضرت کے ساتھ کیسا سلوک کرے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جب بادشاہ بنگال سے واپس آ رہا تھا تو راستے میں اس کے بیٹے نے لکڑی کا ایک محل بنوایا اور باپ کو وہاں آنے کو کہا۔ بادشاہ جب اس محل میں پہنچا تو ابھی اس نے محل میں قدم ہی رکھا تھا کہ محل کی چھت گر پڑی، جس کے نیچے دب کر وہ مر گیا اور اسے صحیح سلامت دلی پہنچنا نصیب نہ ہوا۔ اس طرح اللہ نے حضرت نظام الدین اولیا کی بات سچ کروا دی اور لوگوں میں یہ کہاوت مشہور ہو گئی۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد یہ کہاوت فارسی میں ہے، اس کا لفظی مطلب یہ ہے کہ زمین ہل گئی لیکن گل محمد نہ ہلا۔ یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص اپنی بات پر اڑ جائے اور اس کی ضد کے سامنے سب لوگ ہار مان لیں۔ اس کہاوت کا پس منظر یہ ہے کہ ایک راجہ اکھاڑے میں پہلوانوں کو کشتی لڑتے دیکھ رہا تھا، اتفاق سے اکھاڑے میں گھومتا گھامتا ایک طاقت ور پٹھان آ گیا، جس کا نام گل محمد تھا، اس نے راجہ کے پہلوانوں کو دعوت دی کہ وہ اس سے کشتی لڑیں۔ ایک ایک کرکے سارے پہلوان اس سے لڑے لیکن کوئی اسے پچھاڑ نہ سکا۔ اب تو گل محمد کی واہ واہ ہو گئی، آخر اس نے راجہ سے کہا کہ وہ اپنے پہلوانوں سے کہیں کہ وہ مجھ پر زور آزمائیں اور مجھے ہلا کر دکھائیں۔ یہ کہہ کر گل محمد اپنی جگہ پر قدم جما کر کھڑا ہو گیا۔ راجہ کے پہلوان اس پر پل پڑے لیکن گل محمد کو اپنی جگہ سے ہلا نہ سکے۔ آخر سارے پہلوان تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ جب گل محمد اپنی جگہ سے ہٹا تو لوگوں نے دیکھا کہ جہاں وہ کھڑا تھا وہاں کی زمین ہل گئی تھی۔ تب لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ زمین ہل گئی لیکن گل محمد نہ ہلا، یعنی زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ جب کوئی شخص اپنی بات پر اڑ جائے اور ڈٹا رہے کسی کی نہ سنے تو یہ کہاوت بولی جاتی ہے۔ اندھیر نگری چوپٹ راجا، ٹکے سیر بھاجی، ٹکے سیر کھاجا۔ یہ کہاوت عام طور پر ایسے وقت بولی جاتی ہے جب کسی ملک کے بارے میں یہ بتانا ہو کہ وہاں اچھے برے کی تمیز نہیں، بدنظمی ہے، لوٹ مار ہے اور کسی کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ کہانی یوں ہے کہ ایک گرو اور اس کا چیلا سفر کے لیے نکلے تو ان کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جس کا نام اندھیر نگری تھا جہاں کا حاکم چوپٹ راجہ کہلاتا تھا۔ اندھیر نگری میں ہر چیز ٹکے سیر بک رہی تھی۔ ٹکے سیر بھاجی یعنی پکی ہوئی ترکاری اور ٹکے سیر کھاجا یعنی مٹھائی۔ چیزوں کی ارزانی دیکھ کر چیلے کا دل للچایا اور وہیں رہنے کا ارادہ کیا، سمجھ دار گرو نے منع کیا لیکن چیلا نہ مانا۔ جلد ہی وہ کھا پی کر موٹا تازہ ہو گیا، ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک مکان کی دیوار گر گئی، راجہ کو پتا چلا تو اس نے راج کو پھانسی کا حکم دے دیا۔ راج نے راجہ سے کہا کہ اصل قصور وار وہ بھتتی ہے جس نے گارے میں پانی زیادہ ڈال دیا جس سے دیوار کمزور ہو گئی۔ راجہ کی سمجھ میں بات آگئی، اس نے بھتتی کو پھانسی کا حکم دیا، لیکن بھتتی ایک دبلا پتلا انسان تھا، اس نے راجہ سے کہا کہ پھانسی کا پھندا بہت بڑا ہے اور میری گردن بہت پتلی ہے اس لیے پھانسی ایسے شخص کو دی جائے جس کی گردن موٹی ہو اور وہ موٹا تازہ ہو، چوپٹ راجہ نے فوراً کسی موٹے آدمی کی تلاش کروائی۔ اتفاق سے شہر میں وہی چیلا موٹا تازہ تھا، کوتوال نے اسے پکڑ کر پھانسی گھاٹ پہنچا دیا۔ اتفاق سے گرو جی اپنے چیلے کی خبر لینے اس بستی میں آ گئے تو دیکھا اسے پھانسی ہونے والی ہے، گرو جی نے معلومات کیں اور کوتوال سے بولے میری گردن بھی موٹی ہے اس لیے اس کے بجائے مجھے پھانسی دے دو، کوتوال نے حیرت سے پوچھا ’’گروجی! آپ کیوں پھانسی چڑھنا چاہتے ہیں؟‘‘، ’’آج کا دن بڑا مبارک ہے جو پھانسی چڑھے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا‘‘ کوتوال نے کہا اگر ایسا ہے تو میں پھانسی چڑھوں گا۔ راجہ کا وزیر وہیں کھڑا تھا وہ کوتوال سے بولا ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھ سے پہلے تم پھانسی چڑھ جاؤ، پھانسی میں چڑھوں گا۔ راجہ کو جب یہ بات پتا چلی تو وہ غصے سے بولا ’’یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم جنت میں جاؤ، اب پھانسی میں چڑھوں گا۔‘‘ چنانچہ چوپٹ راجہ کو پھانسی دے دی گئی، ادھر جلدی سے گروجی چیلے کو لے کر بستی سے نکل گئے اور چیلے سے کہا ’’دیکھ لیا میری بات نہ ماننے کا نتیجہ، اگر وقت پر میں نہ آتا تو تم پھانسی چڑھ جاتے، مجھے پہلی ہی کھٹکا ہوا تھا کہ جس بستی میں کھاجا یعنی قیمتی مٹھائی اور ترکاری ٹکے سیر بک رہی ہو وہاں کا نظام کیسا چوپٹ ہوگا۔‘‘ یہ کہاوت ایسے موقعوں پر بولی جاتی ہے، ایسی جگہ جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو، ایسی حکومت جہاں ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے، جہاں کا حاکم وقت نااہل ہو اور کارندے نالائق ہوں۔ قابل لوگوں اور ان پڑھ لوگوں سے یکساں سلوک کیا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل