Thursday, June 04, 2026
 

متکبر و متلون مزاج ڈونلڈ ٹرمپ( دوسری و آخری قسط)

 



امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کے موجودہ اور پچھلے صدارتی کردار کا جائزہ لیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ دوستوں اور مخالفین پر سنگین تنقید کرتے ہُوئے وہ ہر احتیاط کو بالائے طاق رکھ لیتے ہیں۔ کیا یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے یا اقتدار کا غرور یا دُنیا کی اکلوتی سُپر پاور کی سربراہی کا نشہ یا صرف اپنی متکبرانہ و متلون جبلّت کا اظہار ؟ پچھلی بار (2017تا2020) جب وہ اقتدار میں آئے تھے، تب بھی اُنھوں نے ایک عرب ملک کے بارے میں غیر محتاط اور قابلِ گرفت زبان استعمال کی تھی ، اور اِس بار بھی وہ اِس رویئے سے باز نہیں آئے۔ مثال کے طور پر : مارچ2026کے آخری ہفتے ٹرمپ امریکی ریاست ( میامی) میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس میں شریک تھے۔ ٹرمپ کو اِس تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔اپنے خطاب کے دوران موصوف نے اچانک نامناسب جملے ادا کر دیے۔ یہ جملے اُن کے منصب اور سعودی، امریکا تعلقات کے حوالے سے نہائت غیر مناسب تھے۔پاکستان سمیت کئی ممالک میں اِن جملوں بارے ردِ عمل آیا ۔ یوں لگتا ہے جیسے مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی زبان پر قابو نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر : 29مارچ2026 کو معرف برطانوی اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے معروف صحافی (Edward Luce، جو اخبار مذکور کے واشنگٹن میں بیورو چیف بھی ہیں)کو انٹرویو دیتے ہُوئے دیگر کئی متضاد باتوں کے ٹرمپ نے اپنے ہموطنوں بارے جو سخت الفاظ کہے ، اِن سے کئی امریکی اُن سے مزید ناراض ہو گئے۔ مذکورہ انٹرویومیں ٹرمپ نے کہا:’’ ایران نے ہم سے معاہدہ نہ کیا تو سبق سکھانے کے لیے مَیں ایرانی جزائر پر بھی قبضہ کروں گا اور ایرانی تیل بھی ہتھیا لوں گا۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ میرے بعض ہموطن میری اِس خواہش اور اسٹریٹجک کوشش کے خلاف ہیں۔ مَیں اِن سب امریکیوں کو عقل سے پیدل سمجھتا ہُوں ۔‘‘اِن الفاظ کے جواب میں امریکی اخبار ’’نیویارک پوسٹ‘‘ نے ٹرمپ بارے جو دندان شکن کالم شائع کیا ہے ، وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اور 2اپریل2026کو ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر (میکرون)پر ذاتی حملہ کرتے ہُوئے کہا: ’’اُسے چھوڑئیے ، وہ تو اپنی بیوی سے مار کھاتا ہے ۔‘‘ ٹرمپ نے یہ الفاظ اس لیے کہے تھے کہ فرانسیسی صدر نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہونے اور ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کر دیا تھا۔لیکن ٹرمپ کو برابر کا جواب دینے کی بجائے مہذب فرانسیسی صدر بیچارے بَل کھا کر رہ گئے ۔ جماعتِ اسلامی کے سابق امیر ،سراج الحق، کا کہنا ہے کہ ’’ڈونلڈ ٹرمپ کے محتاط رویے سے صرف مسلمان ہی نہیں ، دُنیا بھر کے تمام انسان متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘ٹرمپ کے سنگین اور سفاک الفاظ کا جائزہ لیا جائے تو بجا طور پر یہی کہا جائے گا کہ اِن میں کسی نہ کسی سطح پر ذاتی حوالے سے مذکورہ عنصر پایا جاتا ہے ۔پچھلی بار جب ٹرمپ صدرِ امریکا بنے تو اُنھوں نے عراقی دَورے پر گئے ایران کے نامور فوجی افسر، جنرل قاسم سلیمانی، کو شہید کروا دیا تھا ۔یہ شہادت (جو جنوری 2020 میں ہُوئی) ایرانی حکومت اور ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا سانحہ اور دھچکا تھا ۔ ایران نے دعویٰ اور وعدہ بھی کیا تھا کہ اِس کا بدلہ لیا جائے گا۔ اب پانچ سال بعد ٹرمپ نے ایک امریکی فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے اُس واقعہ کو یاد کرتے ہُوئے اپنے سامعین کو ہنستے اور قہقہے لگاتے ہُوئے بتایا :’’جنرل قاسم سلیمانی ایک عظیم ایرانی فوجی تھا۔ مَیں نے اُسے بھی مار ڈالا ۔‘‘ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ قتل کی اِس واردات کے اعتراف پر امریکی سامعین نے تالیاں بھی بجائیں ۔ٹرمپ کے اِس بے حس اعتراف پر پاکستان کی نامور دانشور اور سابق سفارتکار، محترمہ ملیحہ لودھی، نے ’’ایکس‘‘ پر یوں ردِ عمل دیا:’’تصور کیجئے اگر کسی دوسرے عالمی رہنما نے ایسے الفاظ کہے ہوتے تو ۔۔۔۔‘‘ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے ، مخالفین بارے زبان درازی کرتے ہُوئے ٹرمپ کسی چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں کرتے۔ اِس ضمن میں ایک تاریخی مثال:  جون2018 کو ٹرمپ ’’صاحب‘‘ شمالی کوریا کے تاریخی دَورے پر گئے اور شمالی کوریا کے مطلق سربراہ (کم جنگ اُن) سے ملاقات کی ۔ وہیں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے ٹرمپ نے ایک صحافی کے سوال پر کینیڈا کے وزیر اعظم ( جسٹن ٹروڈو)کو بھی رگڑ دیا ۔ کہا:’’جسٹن ٹروڈو بد دیانت بھی ہے، دوغلا بھی اور نہائت کمزور بھی ۔‘‘اپنے ہمسایہ ملک کے وزیر اعظم بارے یہ الفاظ سبھی کو حیران کر گئے ؛ چنانچہ ٹروڈو نے جواباًکہا:’’ہم کینیڈا والوں نے ہمیشہ امریکا کا ساتھ دیا ہے ۔ کینیڈا کی افواج نے امریکی فوجیوں کے کندھے سے کندھا ملا کر دُور دراز کی زمینوں میں جنگی خدمات انجام دی ہیں ۔جنگِ عظیم اوّل سے لے کر اب تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔ افسوس مگر یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے میری ہی نہیں ، پورے کینیڈا کی توہین کی ہے ۔‘‘مگر اپنے ہی الفاظ سے یُو ٹرن لینا بھی کوئی ٹرمپ سے سیکھے۔ جسٹن ٹروڈو کے الفاظ جب ٹرمپ تک پہنچے تو ٹرمپ نے امریکی ٹی ویABCکے چیف اینکرپرسن ( جارج اسٹیفن پولس) کو انٹرویو دیتے ہُوئے کہا: ’’ٹروڈو اچھا آدمی ہے ۔ مَیں اُسے بے حد پسند کرتا ہُوں ۔‘‘ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، کی یہ کہہ مکرنیاں اور یُو ٹرنز شائد اُن کی متنوع ذہنی کیفیات کا دوسرا نام ہے۔ وہ پَل میں ماشہ ، پَل میں تولہ کی عملی مثال کہے جا سکتے ہیں۔ پچھلی بار جب وہ صدر بنے تھے تو اُنھوں نے پاکستان کے بارے میں بھی طنزیہ الفاظ کہے تھے۔ اور پھر دس گھنٹے بعد یہ کہا:’’پاکستان نے میرے اور امریکا کے ساتھ جن کئی محاذوں پر شاندار تعاون کیا ہے ، مَیں پاکستان کا شکر گزار ہُوں ۔‘‘سبق یہ ہے کہ ٹرمپ آج جن الفاظ میں ہمارے حکمرانوں کی تعریف کررہے ہیں، اِن سے وہ کسی بھی وقت پلٹ سکتے ہیں۔ پچھلی صدارت میں ٹرمپ شمالی کوریا گئے تو وہاںکے سربراہ کی بے حد تعریف کی ، مگر امریکا واپس پہنچتے ہی کہا: ’’شمالی کوریا بارے کیا پوچھتے ہو؟ وہ تو ایک چھوٹے سے ، موٹے سے، پاگل شخص اور راکٹ مَین کے سائے میں سانس لے رہا ہے ۔‘‘ غیراقوام پر تہمت لگاتے اور پھبتی کستے ہُوئے بھی ٹرمپ قطعی نہیں شرماتے ۔ ہیٹی پر سفاک تبصرہ کرتے ہُوئے کہہ ڈالا:’’ ہیٹی سے جتنے بھی لوگ امریکا آرہے ہیں ، سب ایڈز کے مارے ہُوئے ہیں ۔‘‘جنوبی افریقہ بارے فرمایا: ’’یہ ملک جرائم کا گڑھ ہے ۔‘‘میکسیکو بارے کہا: ’’محتاج اور عسرت زدہ ملک! لگتا ہے دُنیا کے سارے مجرم اِسی ملک میں اکٹھے ہو گئے ہیں ۔‘‘ ایسے شخص سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے ؟ وہ کسی وقت بھی بدل سکتا ہے ۔اُس کی دوستی اچھی نہ دشمنی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے کئی برسوں سے ، خواہ مخواہ، لندن کے پہلے اور مسلسل تیسری بار منتخب ہوکر مسلمان میئر کا اعزاز حاصل کرنے والے سر صادق خان سے دشمنی مول لے رکھی ہے ۔ پچھلی بار جب ٹرمپ صدر منتخب ہُوئے تو آتے ہی کئی مسلمان ممالک پر امریکی ویزوں کی پابندیاں عائد کر دی تھیں ۔ لندن کی لیبر پارٹی کے صادق خان نے پارٹی سطح پر اِس کی سخت مخالفت کی تھی۔ تب سے اب تک ٹرمپ نے صادق خان (جواَب بھی لندن کے میئر ہیں اور اِس مرتبہ ماشاء اللہ فریضہ حج بھی ادا کیا ہے) کی ہر ہر سطح پر مخالفت کرنا اپنا فرضِ اوّلین قرار دے رکھا ہے ۔ مختلف اوقات میں ٹرمپ یوں کیچڑ اچھال چکے ہیں : ’’صادق خان لندن میں شرعی قوانین کو نافذ کرنے کے درپے ہیں ۔‘‘پچھلے سال ٹرمپ سرکاری دَورے پر لندن آئے تو برطانوی حکومت سے کہا:’’ اِس شخص کو میری تقریبات میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔‘‘جواباً صادق خان کہہ چکے ہیں :’’ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرست بھی ہیںاور اسلامو فوبیا کے مارے ہُوئے بھی ۔‘‘

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل