Thursday, June 04, 2026
 

ایک دریا ۔ دودھارے

 



آپ اٹک کے پل پر سے تو یقیناً گزرے ہوں گے لیکن نیچے بہنے والے دریا کو آپ نے نہیں دیکھا ہوگا اوراگر دیکھا بھی ہوگا تو غورسے نہیں دیکھا ہوگا،خاص طورپر وہ مقام جہاں دریائے سندھ اور دریائے کابل کا سنگم ہوتا ہے ،وہاں دونوں دریاؤں کے دھارے آکر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں لیکن مل کر بھی نہیں ملتے، کافی دورتک ایک دوسرے کے ساتھ الگ الگ چلتے ہیں ۔ دریائے سندھ کا نیلا اورشفاف دھارا الگ اوردریائے کابل کا مٹیالا اورگدلادھارا الگ ہوکرچلتے ہیں یا بہتے ہیں ، دونوں دھاروں کا نہ صرف رنگ مختلف ہوتا ہے بلکہ درجہ حرارت بھی مختلف ہوتا ہے اورکافی دورتک یہ یکجانی جمع علیحدگی قائم رہتی ہے ،ایک ہی دریا میں دوالگ الگ دھارے ؟  اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ ہم آپ کو صرف ایک دریا اوردودھاروں کی سیر کراناچاہتے ہیں تو آپ صحیح بھی سوچ رہے ہیں اورغلط بھی ، صحیح اس لیے کہ واقعی ہم آپ کو ایک ہی دریا میں دوالگ الگ دھارے دکھاتے ہیں اورغلط اس لیے کہ ہم اصل میں دریائے اٹک اوراس کے دوالگ الگ دھاروں کے ذریعے ایک ’’اوردریا‘‘ دکھاناچاہتے ہیں جودریا نہیں ہے لیکن پھر بھی دریائے اٹک کی طرح دوالگ الگ دھارے بہہ رہے ہیں ۔ یہ ایک اوردریا منیرنیازی کاوہ دریا بھی نہیںجس کے پار اتر کر اس نے ایک اوردریا کو سامنے دیکھا۔  اک اوردریا کاسامنا تھا منیر مجھ کو  میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا  کیوں کہ جس دریا کاذکر ہم کر رہے ہیں اسے کوئی بھی آج تک ’’پار‘‘ نہیں کرسکا ہے ، درمیان میں غوطے کھاتا رہتا ہے ،کنارے کے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتا رہتا ہے بلکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ کنارے کے لوگ بہرے ہیں ۔ بلکہ یہ وہ دریا بھی نہیں جس کاذکرجگر مراد آبادی نے کیا ہے کہ  یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیئجے  اک آگ کادریا ہے اورڈوب کے جاناہے  بلکہ یہ قراۃ العین حیدر کے آگ کادریا بھی نہیں بلکہ یہ وہ دریا ہے جس کے بارے میں کہاگیا ہے کہ گدلا پانی اوراندھی مچھلیاں اورجس میں اس وقت ہم خود تیر رہے ہیں بلکہ ڈوب رہے ہیں ۔ جس میں ایک طرف نیلا شفاف اورٹھنڈا میٹھا دھارا بہہ رہا ہے اوردوسری طرف گندہ گدلا اپنے اوپر جھاگ اورخس وخاشاک لیے بہہ رہا ہے ۔چلئے نام بھی بتائے دیتے ہیں اس دریا کانام پاکستان ہے جس میں باقاعدہ ایک سلیکٹڈ شفاف دھارا الگ اورریجکٹڈ دھارا الگ بہہ رہا ہے ۔ ایک وہ دھارا جو حکومت کررہا ہے اوردوسرا وہ دھارا جو حکومت ’’سہہ‘‘ رہا ہے بھگت رہاہے ۔ایک وہ جو صبح اٹھ کر سوچتا ہے کہ آج کیا کھائیں گے اوردوسرا وہ جو سوچتا ہے کہ آج کیا کیا کھائیں گے ، ایک وہ جسے کبھی کسی چیز کے نرخوں کے بارے میں نہیں پوچھنا پڑتا اوردوسرا وہ جسے ہرچیز یہاں تک کہ خود اپنے نرخ کے بارے ہر وقت اورہرجگہ پوچھنا پڑتا ہے ، ایک وہ جو کشتیوں میں سوار گانے گا رہا ہے اوردوسرا وہ جنھیں تختے سے باندھ کرپھینکا گیا ہے درمیاں قعر دریا تختہ بندم کردہ ای بازمی گوئی کہ دامن ترمکن پھسنا دریا اس کااردوتو نہیں پشتو ترجمہ یوں ہے  مینز کے دہ دریاب ئے پہ تختے پورے تڑلے یم  بیا ہم راتہ وائی چہ لمن درنہ لمدہ نہ شی  دیکھئے تو دو الگ الگ دھارے ہیں جو اس دریا میں بہہ رہے ہیں ۔ایک وہ دھارا جو صاف وشفاف ہے میٹھاہے ٹھنڈا ہے جس میں لگژری بنگلے بہہ رہے ہیں نئے ماڈلوں کی ہائی فائی اوروہی وی آئی پی کاریں ہیں، اعلیٰ درجے کی مارکیٹ ہیں شاپنگ مالز ہیں طرح طرح کے اسٹور ہیں فوڈسٹریٹس ہیں ،فائیو اسٹار ، بریک فاسٹ ہیں، لنچ ہیں ڈنرہیں ، ہائی کلاس کی کرسیاں صوفے ہیں لمبی لمبی جہازی میزیں ہیں ، لمبی چوڑی تنخواہیں ، مرغن رشوتیں ہیں فنڈز ہیں ہوائی جہازوں کے لگژری اسفار ہیں دورے ہیں، ٹورہیں وفد ہیں کمیٹیاں ہیں، ٹریبونل ہیں،ایکڑوں کے حساب سے لگژری بنگلے ہیں باغ ہیں پارک ہیں سوئمنگ پول ہیں ۔ موٹی موٹی تنخواہیں ،فربہ فربہ کرپشن ہیں ، ہرہرکمرے میں الگ الگ اے سی اورٹی وی فریج ہیں بھرپور قسم کے فنڈز اورپنشن ہیں ۔ اوردوسرا دھارا جو گدلا ہے گندہ ہے مٹیالا ہے اس میں غربت ہے ، بیروزگاری ہے بھیک ، بھکاری ہیں ٹوٹے مکاں اورشکستہ جھونپڑیاں ہیں میلے کچیلے ننگے بچے ہیں جن کے جسم کی ساری ہڈیاں اورپسلیاں بغیر ایکسرے کے صاف صاف دکھائی دیتی ہیں اوروہ لوگ جو خود کو انسان سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں حالانکہ انھیں انسان بننے میں ایک دوصدیاں اورلگیں گی ، فی الحال جانوروں سے صرف اس قدر الگ ہیں کہ جانور ووٹ نہیں ڈال سکتے ، نعرے نہیں لگا سکتے ، دھرنے نہیں دے سکتے اور’’یہ ‘‘ کرسکتے ہیں اور کررہے ہیں ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل