Loading
کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے نام ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لیے مکمل جنگ بندی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان براہِ راست ملاقات کی پیشکش بھی کی ہے۔
بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق صدر زیلنسکی نے اپنے خط میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے دونوں ممالک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے لکھا کہ بہت لڑائی ہو چکی، اب فیصلہ پیوٹن کو کرنا ہے۔
زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین مذاکراتی عمل کے دوران مکمل جنگ بندی کے لیے تیار ہے تاہم اگر روس جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوتا تو یوکرینی افواج اپنے دفاع کے لیے لڑائی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
خط میں یوکرینی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ روسی فوج رواں سال مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے پر مکمل قبضہ حاصل نہیں کر سکے گی، جبکہ یوکرین اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان نے کہا ہے کہ زیلنسکی کا خط ابھی تک صدر پیوٹن کے سامنے پیش نہیں کیا گیا، تاہم روسی قیادت یوکرین کے ساتھ رابطوں اور ممکنہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہی۔ ترجمان کے مطابق اگر زیلنسکی چاہیں تو وہ ماسکو آ کر صدر پیوٹن سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں روسی افواج نے یوکرین کے مزید علاقوں پر پیش قدمی کی ہے اور رپورٹس کے مطابق تقریباً 2440 مربع کلومیٹر اضافی علاقہ اپنے کنٹرول میں لیا ہے۔
ادھر سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ روس کا لوہانسک پر مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ ڈونباس کے مزید علاقوں پر بھی قبضہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں یوکرین مزید علاقہ کھو سکتا ہے۔
روسی صدر نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ فوجی تعاون جاری رہے گا اور روس یوکرین کے ساتھ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مذاکرات میں روس کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل