Sunday, June 07, 2026
 

پی ڈی ایم اے نے آئندہ ہفتے پنجاب میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کردیا

 



پی ڈی ایم اے نے آئندہ ہفتے پنجاب میں ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کردیا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 8 سے 12 جون کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بالائی پنجاب میں درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب اور میدانی علاقوں میں پارہ 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، قصور اور فیصل آباد سمیت متعدد اضلاع میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، پاکپتن، رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، بہاولنگر، بھکر، لیہ، کوٹ ادو، سرگودھا، جھنگ، خوشاب، میانوالی، نور پور تھل اور ساہیوال میں بھی شدید گرمی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ ریلیف کمشنر پنجاب Nabeel Javed نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب Maryam Nawaz کی ہدایات کے پیش نظر تمام انتظامیہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے Umar Javed کے مطابق رات کے اوقات میں بھی موسم معمول سے زیادہ گرم رہنے کی توقع ہے، جبکہ گرمی کی شدت کے باعث گرد آلود ہواؤں اور طوفان کا خطرہ بھی موجود ہے۔ پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک براہ راست دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں اور جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھیں۔ بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو خصوصی احتیاط برتنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ نے کاشتکاروں کو فصلوں اور مویشیوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ ریسکیو 1122 کو ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے الرٹ رہنے کا کہا گیا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق شہری علاقوں میں امدادی کیمپ، صاف پانی، او آر ایس اور ابتدائی طبی امداد کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ موبائل ہیلتھ ٹیمیں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے کیسز سے نمٹنے کے لیے متحرک رہیں گی۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار بھی بڑھ سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل