Loading
دنیا بھر میں لاکھوں ایسے شادی شدہ جوڑے موجود ہیں جو اولاد جیسی عظیم نعمت سے محروم ہیں۔جدید میڈیکل سائنس نے اس مسئلے کے حل کے لیے بے شمار ریسرچ کیں اور مصنوعی حمل کے جدید طریقہ علاج متعارف کرائے ۔ ان طریقوں کی مدد سے دنیا بھر میں لاکھوں خاندان اولاد کی نعمت پا چکے ہیں ۔ پاکستان میں نوے کی دہائے کے آخر تک یہ سہولت محدود اور صرف لاہور ہی میں دستیاب تھی۔ چنانچہ پاکستان کی پروفیسر لیول کی تین گائنا کالوجسٹ ڈاکٹروں نے اس جدید ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور ملک میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تا کہ بے اولاد جوڑوں کو بیرون ملک جانے کی ضرورت نہ پڑے ۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر جمال ناصر کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ ٹیوب بے بی ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے مغربی اور یورپی ملکوں سے رابطہ کیا تو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انسانی حقوق ، ترقی اور علم کی آزادی کے دعوے کرنے والی مغربی دنیا اس جدید ٹیکنالوجی کو مسلم ملکوں میں منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی ۔ وجہ اس کی بالکل واضح تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ممالک سائنسی میدان میں خود کفیل ہوں اور ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جائیں ۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے ترقی یافتہ دنیا اکثر تحقیق کا تحفظ یا پروفیشنل پالیسی کا نام دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ علم اور ٹیکنالوجی پر اجارہ داری قائم رکھنے کی ایک شکل ہے ۔
اسی تلاش کے دوران معلوم ہوا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس شعبے میں غیر معمولی ترقی کر چکا ہے۔ ایران نہ صرف ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے میدان میں کامیاب تجربات کر رہا تھا بلکہ یزد یونیورسٹی جیسے ادارے مسلم ممالک خصوصاً پاکستانی ڈاکٹروں کو ’’بلا معاوضہ‘‘تربیت دینے کے لیے بھی تیار تھے ۔ یہ یونیورسٹی دنیا میں اعلیٰ رینکنگ رکھتی ہے ۔ ڈاکٹر موصوف کہتے ہیں کہ یہ خبر بلاشبہ ہمارے لیے حیران کن تھی ۔ کیونکہ ہمارے ہاں اور عمومی طور پر مسلم دنیا میں ایران کے متعلق وہی تصور پایا جاتا ہے جو مغربی میڈیا’ مسلسل‘ پیش کرتا رہتا ہے ۔
ایران روانگی سے قبل ڈاکٹر جمال ناصر کہتے ہیں کہ میری ٹیم کے ذہن میں بھی یہی تاثر موجود تھا کہ ایران ایک انتہائی سخت گیر معاشرہ ہو گا ۔ خواتین کو گھروں تک محدود رکھا جاتا ہو گا اور انھیں سماجی زندگی میں کوئی آزادی حاصل نہیں ہو گی ۔ لیکن جیسے ہی ہم نے ایران ایئر لائن میں قدم رکھا تو ہمارے تمام منفی تصورات ٹوٹنے شروع ہو گئے۔ جہاز کے عملے میں بڑی تعداد خواتین کی تھی جو باوقار انداز میں حجاب کے ساتھ نہایت پیشہ ورانہ مہارت اور اعتماد سے اپنے فرائض انجام دے رہی تھی ۔
تہران ایئرپورٹ پر پہنچ کر یہ حیرت مزید بڑھ گئی ۔ وہاں خواتین مختلف شعبوں میں سرگرم عمل دکھائی دیں۔ کوئی انتظامی امور سنبھال رہی تھی تو کوئی سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہی تھی اور کوئی مسافروں کی رہنمائی میں مصروف تھی ۔ یہ منظر مغربی میڈیاکے اس پروپیگنڈے کے بالکل برخلاف تھا جس میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ایران میں خواتین کو سانس لینے تک کی آزادی حاصل نہیں ۔ یزد یونیورسٹی میں قیام کے دوران بھی ہم نے دیکھا کہ ایران میں خواتین تعلیم ،طب اور دیگر شعبوں میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں ۔ حیرت انگریز بات یہ تھی کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی جیسے جدید اور حساس شعبے میں ایران نے اس قدر ترقی حاصل کر لی تھی کہ وہاں دنیا بھر سے لوگ تربیت حاصل کرنے آتے تھے۔
ایران جس کے بارے میں ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ تنگ نظر ملک ہے جب کہ وہاں زیادہ تر مرد حضرات ہی گائناکالوجسٹ ہیں اور دنیا میں ان کا بڑا نام ہے ۔اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرہ جدید سائنسی تحقیق اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا ۔ بلکہ اصل مسئلہ ہماری اپنی کمزوریاں ، نا اہلیاں اور مغربی بیانیے سے مرعوبیت ہے۔ ایرانی معاشرے میں سادگی ، نظم و ضبط اور دیانتداری کا بہترین نظام موجود ہے ۔ ایران نے عراق جنگ کے بعد شدید مشکلات کا سامنا کیا ۔ بدترین اقتصادی پابندیاں بھی برداشت کی ۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے محنت ، تحقیق اور خود انحصاری کو نہیں چھوڑا ۔ کیا یہ معجزہ نہیں ہے ۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مغربی دنیا ہمیشہ سے مسلم ممالک کے بارے میں ایک مخصوص بیانیہ قائم رکھنا چاہتی ہے ۔اگر کوئی اسلامی ملک تعلیم ، تحقیق یا ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے لگے تو اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے ۔ کبھی انسانی حقوق کا نعرہ لگایا جاتا ہے ۔ کبھی خواتین کے حقوق کا مسئلہ اُٹھایا جاتا ہے اور کبھی مذہبی آزادی کے نام پر شور مچایا جاتا ہے ۔
اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ دنیا کی توجہ اصل ترقیاتی حقائق سے ہٹا دی جائے ۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی ہے کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود جس انداز میں میڈیکل سائنس میں ترقی کی ہے وہ مسلم دنیا کے لیے ایک مثال ہے ۔ ڈاکٹر جمال ناصر کہتے ہے کہ میری ٹیم کے مشاہدات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کسی بھی ملک یا قوم کو صرف میڈیا کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر نہیں پرکھنا چاہے۔ کیونکہ زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس ہوتے ہیں ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہم نے ایران میں ایک ایسا معاشرہ دیکھا جہاں مذہب بھی موجود تھا ، جدید سائنس بھی ۔ خواتین کی عملی شرکت بھی اور ترقی کی جستجو بھی‘‘ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک علمی اور سائنسی تعاون کو فروغ دیں کیونکہ جو قومیں علم و تحقیق، سادگی اور خود انحصاری کو اپناتی ہیں دنیا میں عزت اور ترقی بھی ان کا مقدر بنتی ہے۔ آج ماشاء اللہ سے پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی سہولیات میسر ہیں۔
کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو امریکی سامراج کی خوشنودی کے لیے ایران کے خلاف وہ زبان استعمال کرتے ہیں جو اسرائیل اور امریکا استعمال کر رہے ہیں ۔ اس روئیے پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل