Sunday, June 07, 2026
 

جواں سال انس کا نوحہ

 



جوان اولاد کا دکھ کیا ہے، عبید اللہ عابد کے چہرے پر دیکھیے۔ عبید مست مولا آدمی ہے۔ سادہ مزاج ہے، دیکھنے میں ڈھیلا ڈھالا اور لا تعلق سا لیکن اس کی لاتعلقی میں محبت کا شعلہ بھڑکتا ہے۔ اس کی محبت کا انداز جداگانہ ہے۔ وہ جن لوگوں سے محبت کرتا ہے، وہ انھیں اپنی ذمے داری بنا لیتا ہے اور انھیں ان کی ذمے داریوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔چند برس ہوتے ہیں، وہ لاہور سے اسلام آباد وارد ہوا۔ قبلہ شاہ جی(سید سعود ساحر) اسے لیے لیے میرے پاس پہنچے۔ اللہ شاہ صاحب کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کا خیال تھا کہ اس اجنبی شہر میں عبید جن مسائل سے دوچار ہے، انھیں صرف میں ہی حل کر سکتا ہوں۔ مقدور بھر کوشش میں نے کی لیکن نخل امید ہرا نہ ہو سکا۔ میں شرمندہ تو تھا لیکن خیال تھا کہ رات گئی بات گئی۔سوچا کہ آئندہ عبید سے کون سی ملاقات ہونی ہے جو آنکھیں ملانے میں مشکل ہو گی لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ عبید جس سے ہاتھ ملا لیتا ہے، اس سے تعلق بنا لیتا ہے۔ میں جب کار سرکار سے سبک دوش ہوا تو کون سی آو بھگت اور کون سی ہٹو بچو۔ اپنے بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ میں ویسے ہی سڑک پر آن کھڑا ہوا جیسا بے روزگاروں کی قسمت میں لکھا ہے۔ اس موقع پر دو ایک دوستوں نے دست گیری کی، کسی نے آنکھ نہ ملا کر اور کسی نے احسان جتا کر۔ ان تھوڑے سے لوگوں میں ایک عبید بھی تھا جس کے کتابی چہرے پر محبت اور تشویش کی کرنیں چمکتی ہوئی ہمیشہ دکھائی دیتیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص جس کے کام میں نہیں آ سکا تھا ، کیسا بے غرض انسان ہے۔ اس کے تعلق کی بنیاد دنیا داری یعنی مفاد پر استوار نہیں ہوتی بلکہ اس کے تعلق کے سوتے سینے میں دھڑکنے والے ایک عضو سے پھوٹتے ہیں اور اس کی حدت اس کے چہرے پر لو دیتی ہے۔ ملازمت پیشہ لوگوں کے دکھ ایک سے زاید ہیں۔ ان میں اس چھت کے کرائے کی ادائی ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ یہ معمول ایسا جان لیوا ہے جس کا بیان آسان نہیں۔ انسان مہینے بھر میں خون پسینہ ایک کر کے جو کچھ کماتا ہے، اس کا بڑا حصہ مالک مکان یوں وصول کر لیتا ہے جیسے کوئی سود خور قرض دار سے وصول کرتا ہے۔ میں نے اپنا یہ دکھ عبید سے کبھی بیان تو نہیں کیا لیکن عبید ان لکھے ماجرے پڑھنے کا ہنر جانتا ہے۔ ایک دن کہنے لگا کہ بھائی جان! ایک بات تو بتائیں۔ میں نے اس کے فکر مند چہرے پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالی اور پوچھا کہ ایسا کون سا سوال ہے جس کا جواب تمھارے پاس نہیں؟ عبید میرے رویوں سے الجھتا تو نہیں لیکن کبھی کبھی ان سے لطف اندوز بھی نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ہی دن تھا۔ کہنے لگا کہ میں آج لطیفے سننے نہیں آیا، مجھے بتائیں کہ آپ یوں ہی کب تک کرائے ادا کرتے رہیں گے؟ اپنا گھر بنائیں اور جو کماتے ہیں، بچوں پر خرچ کریں۔ میں نے عرض کیا کہ یار! میرے نخرے بھی کچھ کم نہیں لیکن میرے بچے کیا چاہتے ہیں، شاید تم نہیں جانتے۔ میں سوچتا ہوں کہ جو کچھ مجھے درکار ہے، وہ میرے وسائل میں ممکن نہیں۔ عبید کہنے لگا کہ ایسی کیا بات ہے، آپ ارادہ تو کریں، آپ کا دل خوشی سے بھر جائے گا۔ میں نے ہاں کی یا نہ، یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ اگلے روز عبید کی آمد ہوئی اور وہ مجھے لیے لیے سترہ میل نامی ایک جگہ پر پنجاب کالج جا پہنچا جہاں پروفیسر یوسف ابراہیم بازو پھیلائے ہمارے منتظر تھے۔ اس میں کتنا کمال پروفیسر صاحب کا تھا اور کتنا عبید کا نہیں معلوم لیکن ان لوگوں نے مجھے ایک ایسی جگہ سے متعارف کرایا جو میری امیدوں سے بھی بڑھ کر تھی۔ جب یہ طے ہو گیا کہ گھر کے لیے اتنے وسائل میں اس سے بہتر جگہ نہیں مل سکتی اور سودا بھی ہو گیا تو عبید مطمئن نہیں ہوا بلکہ اسے اس کی تعمیر کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ اس پلاٹ پر جاتا، ذہن میں اس کی تعمیر کے نقشے بناتا اور کبھی کنارے رکھے کسی پتھر پر بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا پھر مجھے فون پر آگاہ کرتا کہ بھائی جان میں نے آپ کا گھر آباد کر دیا ہے۔ یہ ہے عبید اللہ عابد۔ یوسف ابراہیم نے مجھے جب خبر دی کہ انس اب اللہ کا مہمان ہوا ہے تو عبید کا دکھ کے گرد و غبار میں اٹا ہوا چہرہ میں نے دور سے دیکھا۔ عبید نے کامل تین برس جواں سال انس کو گود میں اٹھا کر کسی شیر خواربچے کی طرح اس کی خدمت کی ہے۔ انس کا جس روز گلے کا آپریشن ہوا، اس روز میں نے دیکھا، عبید اور اس کی اہلیہ کے پاؤں سوج کر یوں پھولے ہوئے تھے کہ جوتے انھیں قبول نہ کرتے تھے۔ یہ لوگ پاؤں گھسیٹ کر چلتے تھے لیکن خوش تھے کہ آپریشن کام یاب ہو گیا ہے۔ اب ان کا بیٹا معمول کی زندگی بسر کر سکے گا پھر ایسا ہی ہوا۔ اسے بہت اچھی سرکاری ملازمت مل گئی۔ یہ ہوا تو عبید نے سوچا کہ اب اس نونہال کا گھر بھی آباد ہو جانا چاہیے۔ ادھر عبید اور بھابھی نے رشتے دیکھنے شروع کیے ادھر انس کی حالت بگڑنے لگی۔ صبح و شام اسپتال میں گزرتے یا دواؤں کی تلاش میں۔ یہ مشکل وقت عبید نے بڑے حوصلے اور وقار سے کاٹا۔ شام ڈھلے جب وہ انس کی میت پر سر جھکائے بیٹھا تھا، میں نے اس کے پاؤں کی طرف دیکھا اور کہا: ' عبید! تھکن بہت ہے۔ پاؤں اٹھا کر تپائی پر رکھ لو۔' عبید نے یہ سنا اور دھیرے سے بولا: ' آج تو تھکن ہوئی ہی نہیں۔ وہ صبح اٹھا اور اٹھتے ہی چلا گیا۔ تھکن کیسی؟' اس کے بعد کہنے کے لیے کچھ عبید کے پاس تھا اور نہ میرے پاس۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل