Loading
یہ کالم 7جون2026ء ، اتوار کی صبح تحریر کیا جارہا ہے ۔اتوار کو پاکستان کے بلند ترین خطّے، گلگت بلتستان ، میں اسمبلی انتخابات کا یُدھ پڑ رہا ہے ۔ شیڈول کے مطابق، یہ انتخابات 4ماہ قبل منعقد ہونے چاہئیں تھے مگر مقامی طور پر شدید سرد موسم نے اِن انتخابات کو چار ماہ آگے دھکیل دیا ۔موسم تو اب بھی گلگت بلتستان میں سرد ہے ، مگر قابلِ برداشت اور خوشگوار ۔ اسمبلی انتخابات کی چہل پہل کے کارن مقامی موسم خاصا گرم ہو چکا ہے ۔
گلگت بلتستان (GB) میں اسمبلی انتخابات کے دوران بھارت کو مگر تکلیف ہو رہی ہے ۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے(6جون کو) جی بی انتخابات اور پورے جی بی بارے ایک غیر سفارتی ، غیر حقیقی اور غیر اخلاقی بیان دیا ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ، طاہر اندرابی، نے بھارت کو اس کا ترنت اور دندان شکن جواب دیا ہے ۔اُنہوں نے پاکستانی اور جی بی معاملات میں ملعون بھارتی دخل اندازی کو سختی سے مسترد کیا ہے ۔
طاہر اندرابی صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ اب جب کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں متعدد قیامتیں برپا کررکھی ہیں اور اُس نے پچھلے7 سال سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو بھی غصب کررکھا ہے ، وہ جی بی بارے غیر حقیقی اور لغو بیانات دے کر دراصل عالمی برادری کی توجہ کو مقبوضہ کشمیر کے بد ترین حالات سے موڑنا چاہتا ہے ۔
بھارت کی ڈھٹائی اور بے شرمی مگر اپنی جگہ قائم ہے ۔اگر پاکستان کے نامور مورّخ ، احمد حسن دانی ، کی کتاب Gilgit Baltistan :An Overviewاور نوشین علی کی کتاب Delusional Statesکا بالتفصیل مطالعہ کریں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیہ طور پر پورا کشمیر اور گلگت بلتستان ، ہر لحاظ سے ، پاکستان کا ناگزیر حصہ ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے ہندو صحافی ، بنسی لال کاک، نےThe Fall of Gilgitلکھ کر (بھارتی نکتہ نظرسے) مذکورہ دونوں کتابوں کا جواب دینے کی کوشش تو کی ہے ، مگر بات نہیں بنی ۔
جب یہ کالم شائع ہوگا، جی بی کے الیکشن مکمل ہو چکے ہوں گے ۔یہ کہنا مگر بجا ہے کہ جی بی کے انتخابات عجب تناؤ کے ماحول میں ہو رہے ہیں ۔ تناؤ کی ایک بڑی وجہ اِس خطّے کی حساسیت اور انفرادیت ہے۔ پاکستان بھر کے سیاسی حالات بھی ہیں۔ 7جون کو جی بی کے الیکشن ہو رہے ہیں تو 9جون کو آزاد کشمیر میں ( پاکستان بھر میں پھیلے مہاجر کشمیریوں کی12سیٹوں کے خلاف) آزاد کشمیر کی ’’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘‘ احتجاج پر جارہی ہے ۔
پچھلے سال بھی اِنہی لوگوں نے اِس مطالبے اور کئی دیگر مطالبات کے ساتھ سخت احتجاجی( بلکہ خونریز ) مظاہرے کیے تھے ۔ اِس بار بھی اِس احتجاج بارے تشویشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ 27 جولائی 2026 کو آزاد کشمیر اسمبلی کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں (اور اب تو خبر آ گئی ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے ڈالا ہے )۔یعنی بانس ہوگا نہ بانسری بجے گی ! 10جون کو پاکستان کا سالانہ بجٹ بھی پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں اور اسی تاریخ کو پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی صاحب ، قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں ۔
دھرنا دینے کا مرکزی نکتہ یہ بیان کیا جارہا ہے کہ ’’ زندانی بانی پی ٹی آئی سے پارٹی رہنماؤں ، سہیل آفریدی اور بانی کی ہمشیرگان کی ملاقاتیں کروائی جائیں جو کئی ماہ سے معطل ہیں ۔‘‘ مذکورہ دھرنے کا اصل مقصد مگر بانی صاحب کو رہا کروانے کی سبیل پیدا کرنا ہے ۔ضد پر اَڑی پی ٹی آئی اور اس کے قائدین ، مگر اپنی غلطیوں اور غیر حقیقی اسٹریٹجی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں نہ اِس میں تبدیلی و ترمیم کرنے پر راضی۔
ایسے سیاسی تناؤ کے ماحول میں جی بی کے الیکشنوں کا میدان سجا ہے ۔ جی بی کا بلند و بالا خطّہ تقریباً73ہزار مربع کلومیٹر کو محیط ہے ۔2009ء میں پہلی بار یہاں قانون ساز اسمبلی کے الیکشن ہُوئے تھے ۔ جی بی میں7جون کے الیکشن چوتھے ہیں ۔ آبادی اِس کی تقریباً18 لاکھ ہے ، مگر ووٹروں کے بارے کہا جاتا ہے کہ تقریباً ایک ملین ہیں ۔ ایسے مشکل اور دشوار گزار علاقے میں اِن ووٹروں کا وجود بھی غنیمت ہے ۔ جی بی اسمبلی33 سیٹوں پر مشتمل ہے ، مگر الیکشن24نشستوں پر ہو رہے ہیں۔
9سیٹیں مخصوص ہیں۔جی بی الیکشن کمیشن کے مطابق 665اُمیدواروں نے میدانِ انتخاب میں قدم رکھا۔گلگت شہر، نگر، ہنزہ، اسکردو، کھرمنگ، گانچھے، استور، دیامر، غذر، اِس کے بڑے اور معروف انتخابی حلقے ہیں۔ کئی انتخابی حلقوں میں ذیلی حلقے بھی ہیں ۔ جی بی میں(آزاد کشمیر کی طرح) پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں، نون لیگ کے بھی اور پی ٹی آئی کے بھی ۔ پہلے وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کے مہدی شاہ تھے ، دوسرے نون لیگ کے حافظ حفیظ الرحمان ، تیسرے وزیر اعلیٰ پی ٹی آئی کے خالد خورشید تھے ۔
خالد خورشید مگر مبینہ طور پر جعلی ڈگری کیس کی سزا میں اپنی مدتِ وزارتِ اعلیٰ پوری نہ کر سکے ؛ چنانچہ عبوری طور پر گلبر خان کو (ایک اجنبی گروپ کے تحت) جی بی کا چوتھا وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے 18لاکھ افراد پچھلے17برسوں کے دوران پاکستان کی سبھی بڑی سیاسی جماعتوں کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی بھی ملاحظہ کر چکے ہیں اور جی بی عوام سے کیے گئے وعدوں کے مزے بھی چکھ چکے ہیں ۔ یہ ’’ مزے‘‘ مگر اتنے خوشگوار نہیں ہیں۔
جی بی کے مذکورہ الیکشن کا سب سے ’’ حسین‘‘ پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ نون لیگ کے مرکزی قائد اور صدر ، جناب محمد نواز شریف ، سیاسی پردے سے پوری طرح باہر نکل آئے ۔ سوال مگر یہ ہے کہ آیا نواز شریف کا باہر نکلنا سیاسی دباؤ کے کارن تھا یا اپنی کھوئی اور بتدریج مدہم ہوتی قائدانہ اہمیت کو پھر سے اُجاگر کرنے کی ضرورت ؟ اِسے جو بھی نام دیا جائے ، بہرحال کہا جا سکتا ہے کہ جی بی میں نون لیگی الیکشن کمپین جلسوں میں نواز شریف کو موجود پا کر ، اُن کا چمکتا دمکتا چہرہ دیکھ کر اور اُن کی خوشگوار جلسائی گفتگو سُن کو نون لیگی وابستگان خوش ضرور ہُوئے ہیں ۔ نواز شریف نے جی بی کے الیکشن جلسوں میں کئی گلے شکوے بھی کیے ۔
اُنہوں نے سپریم کورٹ کے ایک سابقہ جج( المعروف بابا ڈیم) کا ذکر بھی کیا اور خوب کیا۔’’بابا ڈیم‘‘ بارے نواز شریف کے دل میں کسک ، کڑتن اور تلخی ہنوذ باقی ہے ۔ یہ تلخی اور شکوے اُن کا حق بنتا ہے ، مگر بعض لوگوں کو یہ کہتے پایا گیا ہے کہ یہ شکوے بے جا اور موضوعی تھے ۔ بے وقت اور غیر حقیقی ! یہ مگر عجب بات ہُوئی ہے کہ جب جی بی میں الیکشن کا رَن پڑنے لگا، نواز شریف صاحب چپکے سے ، 5جون کو، جنیوا پدھار گئے ۔
آج بروز سوموار جب کہ یہ کالم شائع ہوگا، ممکن ہے جی بی الیکشن کے حتمی نتائج بھی سامنے آ چکے ہوں ۔ کہنے کو تواِن انتخابات میں نون لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کا مقابلہ تھا ، مگر واقعہ یہ ہے کہ میدان میں پی پی پی اور نون لیگ ہی تھیں ۔ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت تو احتجاج کرتی اور کرلاتی پائی گئی کہ اُنہیں نہ تو جی بی میں داخل ہونے دیا گیا اور نہ ہی کھل کر جلسے جلوس کرنے کی اجازت دی گئی ۔ پی ٹی آئی کو اپنا معروف انتخابی نشان بھی نہ دیا گیا ۔
اِن مبینہ غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری اقدامات کی اساس پر جی بی الیکشن کے مخالفین کو انگشت نمائی کا موقع ملا ہے ۔ مگر پیپلز پارٹی اور نون لیگی قیادت نے بھی جی بی الیکشن کمپین میں ایک دوسرے پر جو لفظی گولہ باری کی ہے ، یہ محض انتخابی مخالفانہ الفاط نہیں تھے ، بلکہ اِن الفاظ نے مرکزی حکومت میں مبینہ اتحاد کی متعدد دراڑوں کو بھی عیاں اور واضح کر دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں اب کس پارٹی کا وزیر اعلیٰ منتخب ہوتا ہے ؟ ایک نئی مبینہ آئینی ترمیم کا جو غلغلہ فضا میں معلّق ہے ، اگر اِس کی منظوری کے لیے نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں کوئی لین دین ہُوا تو ہو سکتا ہے جی بی کی وزارتِ اعلیٰ پیپلز پارٹی کا مقدر بن جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل