Loading
عشروں سے سنتے آئے کہ کراچی میں ایک سسٹم تھا جس کو سالوں سے رائج ایک نئے سسٹم نے تباہ کر دیا اور اب وہی سسٹم راج کر رہا ہے جو بہت زیادہ مضبوط اور بااختیار ہے اور موجودہ حکومت میں پروان چڑھا اور اب اتنا طاقتور ہو چکا کہ طاقتور طبقات بھی اس خراب سسٹم سے باخبر ہیں مگر یہ سسٹم کمزور نہیں پڑ رہا جو کراچی کو اپنے مکمل کنٹرول میں لیے ہوئے ہے اور اندرون سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔
چند سال قبل کراچی میں اس سسٹم کی بازگشت سنی گئی تھی جب کراچی کے صنعتی علاقوں خصوصاً سپرہائی وے اور نیشنل ہائی وے پر زمینی قبضوں کے باوجود سسٹم مطمئن نہیں تھا اور ان دونوں اہم شاہراہوں کے اطراف میں جو فارم ہاؤس، ریسٹورنٹس تھے ان کے خاتمے اور قبضے کا کام شروع ہوا تھا اور بے شمار لوگوں کو تجاوزات کے نام پر وہاں سے یہ کہہ کے بے دخل کر دیا تھا کہ انھوں نے سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے کاروبار شروع کر رکھے تھے اور دونوں شاہراہوں پر کراچی سے باہر دور دور تک پھیلے ہوئے تھے اور نیشنل ہائی وے کے مقابلے میں سپرہائی وے پر کراچی سے جانے والی شاہراہ پر ایک سے ایک خوبصورت، وسیع ریسٹورنٹس بڑی تعداد میں بننے لگے تھے اور کراچی کی آلودہ فضا سے بے زار امیر فیملیز آؤٹنگ اور تازہ ہوا میں وقت گزارنے اور مہنگے کھانے کھانے جانا شروع ہوئیں جہاں ان کے چھوٹے بچوں کی تفریح کے بھی لوازمات ہوتے تھے۔
سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے مختلف کاروبار کرنے والوں کے خلاف تو یہ کارروائی قانون کے مطابق جائز تھی مگر یہ شکایتیں بھی شروع ہوئیں کہ خالی کرائی گئی سرکاری زمینیں سسٹم سے منسلک افراد کے پاس چلی گئیں اور وہاں نئے مالکان آ گئے اور بعض ایسے حقیقی افراد بھی متاثر ہوئے جنھوں نے وہ جگہیں قانونی طور پر لیز پر لی ہوئی تھیں مگر وہ بھی اس نئے سسٹم کی زد میں آ کر اپنے کاروبار سے محروم کر دیے گئے تھے جن کی بعد میں کہیں شنوائی بھی نہیں ہوئی۔
کراچی میں تجاوزات عشروں سے اہم مسئلہ رہا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ جب سٹی حکومت کراچی تھی اس وقت خاص کر سٹی ناظم کراچی نعمت اللہ خان کے دور میں پہلی بار اندرون شہر تجاوزات اور غیر قانونی طور پر بڑھائی گئی عمارتوں اور دکانوں کے خلاف دکھاوے کی نہیں بلکہ حقیقی کارروائی ہوئی تھی اور کراچی شہر میں سٹی حکومت اور الخدمت کے ٹاؤن ناظمین نے کسی اثر و رسوخ اور اپنے سیاسی نقصان کی بھی پرواہ نہیں کی تھی اور مصروف شاہراہ گولیمار میں خاص کر اور دیگر شہری علاقوں میں ہزاروں تجاوزات منہدم کرکے بغیر امتیاز و غیر جانبدارانہ انہدامی کارروائی پہلی بار عمل میں آئی تھی۔ایم کیو ایم پر تجاوزات اندرون شہر اور پیپلز پارٹی پر بیرون شہر چائنا کٹنگ اور غیر قانونی گوٹھ اور کچی آبادیاں قائم کرانے کے الزامات لگے تھے حالانکہ اس وقت سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں تھی۔
اب 18 سالوں سے قائم سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں ایک نیا مضبوط سسٹم سامنے آیا تھا جو قبضوں سے شروع ہوا تھا اور اب یہ سسٹم کراچی میں خاص کر اپنے پنجے گاڑھ کر ہر جگہ پہنچ چکا ہے مگر اندرون سندھ اس سسٹم کی من مانی اس لیے نہیں چل سکی کہ وہاں بڑے وڈیروں، سجادہ نشینوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے جو خود حکومت میں ہیں جب کہ کراچی جنرل پرویز مشرف دور کے بعد لاوارث چلا آ رہا ہے۔ ایم کیو ایم 2025 کے بعد تو کمزور ہو چکی تھی جس کو پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت میں شمولیت کے بھی قابل نہیں سمجھا اور وفاق میں کمزور وزارتوں پر ہوتے ہوئے ایم کیو ایم کی سیاسی طاقت کمزور اور اب بلدیہ عظمیٰ پر بھی پی پی کی اجارہ داری ہے۔
کچھ ہفتہ قبل فریال تالپور نے منشیات کے تشویش ناک ناسور کے خاتمے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد کیا تھا جس میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے سختی سے منشیات فروشوں سے نمٹنے کی ہدایت کی تھی اور واضح کیا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی سفارش قبول نہ کی جائے اور کسی مداخلت پر انھیں بتایا جائے مگر چند روز بعد کی پنکی کی گرفتاری اور اس کا عدالت میں کیٹ واک اور وی آئی پی سلوک دنیا نے دیکھا جس پر اعلیٰ افسروں کو تو کسی نے نہ پوچھا اور نچلے افسروں کو ناحق معطل کیا گیا جنھوں نے اپنے اعلیٰ افسروں کی ہدایت پر پہلا کوکین کیس ہی کمزور بنایا تھا اور دکھاوے کے لیے پنکی کے بقول اس پر جھوٹے مقدمے ڈالے جا رہے ہیں۔
زیادہ اثر و رسوخ کے حامل اس مضبوط سسٹم نے اعلیٰ افسروں کو کہہ کر پنکی کا پہلا مضبوط کیس ہی کمزور کر دیا جس کی سزا نچلے افسروں کو فوراً ہٹا اور معطلی سے دے دی گئی مگر سسٹم کے کہنے پر نچلے افسروں پر دباؤ ڈال کر جان بوجھ کر پنکی کیس میں کمزوریوں کرانے والے اعلیٰ افسروں کا کچھ اس لیے نہ بگاڑا جا سکا کہ انھیں سسٹم کی حمایت حاصل تھی ۔
نئی تقرریاں، تبادلے، کمائی والے عہدوں پر پوسٹنگ پبلک سروس کمیشن سے مرضی کے نتائج کا حصول سمیت سندھ میں کوئی ایسا کام نہیں جہاں سسٹم کی مداخلت اور من مانی نہ چلتی ہو۔ پورے ملک کو سندھ میں اس سسٹم کے احکامات کا علم ہے مگر اس سسٹم کو کنٹرول یا بے اثر کرنے کی جرأت سندھ حکومت کو بھی نہیں ہے اور منشیات، تجاوزات کے خاتمے کی کوششیں ناکام رہیں۔ اب حکومت کے طاقتور افراد جن کا تعلق خود سندھ سے ہے اور ان سے امید رکھی جا سکتی ہے اور وہی اس سسٹم سے جان چھڑا سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل