Loading
ماہرین قانون نے کہا ہے کہ عدالتی کارکردگی اور اصلاحات پر عملدرآمد کے جائزہ کیلیے جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کا اجلاس آج ہورہا ہے جس میں تمام چیف جسٹس صاحبان شریک ہونگے۔
ماہرین قانون کے مطابق یہ اجلاس تسلسل کیساتھ ہو رہے مگر عدلیہ میں انتظامی مداخلت جیسے بڑے چیلنج کے خاتمے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔
ماہرین کے مطابق 26 ویں ترمیم کے بعد انتظامیہ عدلیہ کی داخلی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کر رہی، مختلف ہائیکورٹس میں بیشتر ججوں کے تقرر و تبادلوں حکومت کی ایما پر ہوئے۔
سخت مخالف کے باوجود چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا مختلف ہائیکورٹس میں تبادلہ نہ روک سکے،اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی موجودہ حکومت کوئی پاسداری نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ سال مئی میں سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنیوالے شہریوں کوہائیکورٹ میں اپیل کا حق دینے کی ہدایت کی، انتظامیہ نے اس حکم پر عملدرآمد کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے، جس پرعدلیہ میں بھی مکمل خاموشی ہے۔
سیاسی قیدیوں کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ جیل اصلاحات ایکشن پلان ایک مثبت قدم، لیکن قیدیوں کی ضمانت، سزا معطلی کی درخواستوں اور اپیلوں کی سماعت کی تاریخ مقرر کئے بغیر اصلاحات کی باتیں بے معنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملکی جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی ہیں، قابل ضمانت جرائم میں قیدیوں کو ضمانت پر رہا کرکے تعداد میں کمی لائی جا سکتی ہے، عمر یا طبی بنیادوں پر سزا معطلی کے اہل قیدیوں کو رہا کرکے بھی جیلوں پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعجاز چوہدری میں گردوں کے مرض کی تشخیص کے باوجود ان کی سزا معطلی اپیل کی سماعت کی تاریخ تاحال مقرر نہیں کی گئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل