Loading
محرم الحرام وہ تاریخی اسلامی مقدس مہینہ ہے جو اپنے دامن میں عظیم الشان قربانیاں، لامتناہی صبر اور حق وباطل کے معرکے کی لازوال داستان سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ مہینہ محض ایک نئے سال کا آغاز نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے فکری بیداری، ایمانی تجدید اور امن وسلامتی کے آفاقی پیغام کا سرچشمہ ہے۔ خلیفہ المسلمین سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت اور نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے میدانِ کربلا میں ظلم، جبر اور آمریت کے خلاف جو لازوال قربانی پیش کی، اس کا اصل مقصد انسانیت کی فلاح، عدل و انصاف کا قیام اور امنِ عامہ کی بحالی تھا۔
کربلا کا یہ عظیم پیغام کسی ایک مکتبہ فکر، نسل یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت کا وہ منارہ ہے جو ظلم کے اندھیروں میں حق کی شمع روشن کرنا سکھاتا ہے۔ عصرحاضر میں پاکستان کے جید علماء کرام اور ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے تیار کردہ تاریخی بیانیہ یعنی ’’پیغام پاکستان‘‘ دراصل کربلا کے اسی امن پسندانہ اور اصلاحی فلسفے کی معاصر اور عملی شکل ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک پرامن اور روادار معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
آج عالمی منظرنامے پر نظر دوڑاتے ہیں تو مسلم امہ کو تاریخ کے نازک ترین دور سے گزرتا ہوا پاتے ہیں، ایک طرف بیرونی استعماری طاقتیں اپنے مفادات کے لیے مسلم ممالک کو عدم استحکام کا شکار کر رہی ہیں تو دوسری طرف ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو بنیاد بنا کر امت مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی ایک گہری عالمی سازش تیار کی جا چکی ہے۔
اس بھیانک سازش کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران امریکا تنازع کو خالصتاً ایک سیاسی یا تزویراتی جنگ کے بجائے عرب عجم کی فرقہ وارانہ جنگ کا رنگ دے دیا جائے تاکہ مسلم دنیا کی توجہ اپنے اصل اور دیرینہ مسائل جیسے کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی سے ہٹ جائے اور مسلمان آپس میں لڑ کر اپنی ہی طاقت ختم کر بیٹھیں۔ اس انتہائی نازک اور پُرآشوب دور میں پاکستان کے جید علماء کرام نے جس غیرمعمولی تدبر و حکمت، بے مثال دوراندیشی اور فقید المثال اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک سنہرا باب ہے۔ پاکستانی علماء نے اس بیرونی سازش کی گہرائی کو بروقت بھانپ لیا اور تمام تر مسلکی وفروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہو کر دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی بیرونی جنگ کی چنگاری کو پاکستان کی دھرتی پر نہیں پہنچنے دیں گے۔
دینِ اسلام کی بنیادیں امن، سلامتی، اخوت اور باہمی احترام پر استوار ہیں، یہاں تک کہ لفظ اسلام خود سلامتی سے نکلا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع انسانی حقوق اور عالمی امن کا سب سے پہلا اور جامع ترین منشور ہے، جس میں تقویٰ کے سوا کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دی گئی اور تمام مسلمانوں کے خون، مال اور عزت کو ایک دوسرے پر حرام قرار دیا گیا۔ حضرت امام حسینؓ نے بھی جب مدینہ منورہ سے سفر کا آغاز فرمایا تھا تو واشگاف الفاظ میں اعلان فرمایا تھا کہ ان کا مقصد کوئی اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح ہے۔
معرکہ کربلا دراصل دو نظریات کی جنگ تھا، ایک طرف وہ نظریہ تھا جو طاقت کے زور پر انسانی حقوق سلب کرنا اور معاشرے میں خوف پھیلانا چاہتا تھا اور دوسری طرف حسینی نظریہ تھا جو عدل، حریت اور انسانی وقار کی بحالی کا علمبردار تھا۔ امام حسین عالی مقام نے اپنی اور اپنے جانثاروں کی قربانی دے کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کے راستے میں امن اور اصولوں کی خاطر سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے لیکن باطل کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی پیغام ہر دور کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ وہ اپنے اندر دلیری، استقامت اور اتحاد پیدا کریں اور معاشرے کے امن کو غارت کرنے والی کسی بھی طاقت کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ جب پاکستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ نفرتوں نے اپنی لپیٹ میں لے کر مادر وطن کو کمزور کرنے کی کوششیں انتہا تک پہنچ گئی تو ملک کے ہزاروں جید علماء نے اسلام کے اصل پرامن اور سلامتی والے چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور اندرونی محاذ پر انتشار روکنے کے لیے ’’پیغام پاکستان‘‘ کا تاریخی بیانیہ تشکیل دیا۔
یہ دستاویز پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر بشمول علماء اہل سنت، اہل تشیع، اہل حدیث، بریلوی اور دیوبندی کے مابین ایک مقدس اور تاریخی معاہدہ ہے، جس پر ہزاروں جید مفتیان کرام اور علماء کے دستخط موجود ہیں۔ اس بیانیے میں اصولی اور واضح مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ریاست کے اندر اپنی مرضی کی عدالت قائم کرے، لوگوں پر کفر کے فتوے لگائے یا شریعت کے نفاذ کے نام پر ہتھیار اٹھا کر معصوم شہریوں اور ریاستی اداروں پر حملے کرے۔
پیغام پاکستان نے تکفیر کی سختی سے ممانعت کی اور واضح کیا کہ تمام مسالک کے مقدسات بشمول صحابہ کرام، اہل بیت اطہار اور امہات المومنین کی توہین ایک سنگین جرم ہے کیونکہ فرقہ وارانہ فسادات کی بڑی وجہ یہی توہین اور نفرت انگیز تقاریر ہوتی ہیں۔ اس بیانیے کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں ’’اپنا مسلک چھوڑنا نہیں اور دوسرے کا مسلک چھیڑنا نہیں‘‘ ہے، یعنی اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کا احترام کرنا ہی بقائے باہمی کا واحد راستہ ہے۔
عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان تزویراتی اور سیاسی تنازع کئی دہائیوں پر محیط ہے لیکن استعماری طاقتوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ مسلم ممالک کو ایک دوسرے کا حریف بنا کر پیش کیا جائے تاکہ خطے میں ان کے اپنے معاشی وسیاسی ایجنڈے پورے ہو سکیں۔ عالمی میڈیا اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے یہ زہریلا پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ یہ لڑائی صرف دو ممالک کی نہیں بلکہ عرب و عجم کی جنگ ہے، تاکہ پوری مسلم دنیا ایک ہولناک فرقہ وارانہ تصادم کا شکار ہو کر بارود کا ڈھیر بن جائے اور ان کے قیمتی معاشی وسائل تعلیم، صحت اور ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے ہتھیاروں کی خریداری اور آپس کی جنگوں میں ضایع ہو جائیں۔ اس مصنوعی کشیدگی کی وجہ سے مظلوم فلسطینی عوام پر ٹوٹنے والی قیامت اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر مسلم امہ کا ایک متحد مؤقف سامنے نہیں آپاتا، کیونکہ مسلمان خود اندرونی خلفشار کا شکار ہو چکے ہیں۔
دشمن یہی چاہتا ہے کہ محرم الحرام کے دوران کہ جب دونوں مسالک کے جذبات بیدار ہوتے ہیں، اس ماحول کا فائدہ اٹھا کر کوئی ایسا فتنہ کھڑا کیا جائے جس سے پاکستان کے شہروں اور گلی کوچوں میں تشدد پھوٹ پڑے اور ملک کا امن و سکون برباد ہو جائے۔ ان حالات میں پاکستان کی مذہبی قیادت نے جس بے نظیر دوراندیشی اور ایمانی بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ نوے کی دہائی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان اپنے ہزاروں بے گناہ شہری اور جید علماء کھو چکا تھا لہٰذا علماء نے یہ پختہ عزم کیا کہ وہ تاریخ کے اس تلخ سبق کو دہرانے نہیں دیں گے۔
ایران امریکا تنازع کے دوران سوشل میڈیا پر فتنہ انگیز مواد پھیلایا جانے لگا تو پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ تنازعہ نہیں ہے۔ علماء نے منبر و محراب کا استعمال نفرتیں پھیلانے کے بجائے محبت، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے جس کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور اس کی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی کسی بیرونی طاقت کی جنگ یہاں لڑی جائے گی۔ اب جب کہ محرم الحرام کی آمد آمد ہے، اس سلسلے میں صوبائی، قومی اور علاقائی سطح پر تمام امن کمیٹیاں مکمل طور پر فعال اور متحرک ہو چکی ہیں اور علماء کرام پیغامِ امن لے کر قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں جا رہے ہیں۔
ہر شہر اور ضلع میں قائم ضلعی امن کمیٹیاں کسی بھی چھوٹی موٹی غلط فہمی یا اشتعال انگیزی کے واقعے پر حکومت اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر فوری طور پر معاملے کو سلجھاتی ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ علماء کی اس حکمت عملی نے عوام کے اندر یہ شعور پیدا کر دیا ہے کہ ملک کا امن برقرار رکھنا صرف فوج یا پولیس کا کام نہیں بلکہ ہر شہری کی مذہبی اور اخلاقی ذمے داری ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے لیے دشمن کے قائم کردہ تمام نیٹ ورکس اور سرمایہ کاری ناکام ہو گئی کیونکہ جب عوام اور علماء کے دل آپس میں جڑے ہوں تو کوئی بھی بیرونی سازش اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل