Thursday, June 11, 2026
 

فواد چوہدری اور اسد عمر کی میڈیا سے گفتگو، حکومت پر سخت تنقید

 



سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر  نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت آبی جارحیت کررہا ہے جس کا حکومت نے جواب نہیں دیا ۔ ہمیں آبی جارحیت پر اقوام متحدہ کو شکایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں ہے، جو بندوق اٹھاتے ہیں، ان کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنی چاہیے ۔ جو اپنے حق کے لیے احتجاج کرتے ہیں ان سے مذاکرات کرنے چاہییں۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی پارٹی چل رہی ہے ۔ اس میں ملک سفر (Suffer) کررہا ہے اب یہ پارٹی ختم ہونی چاہیے ۔ شہباز شریف پہلے وزیراعظم ہیں جو پانچواں بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں ۔ شہباز شریف کی قسمت میں یہ لکھا تھا، اس کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے ۔ مگر پھر بھی شہباز شریف حکومت نہیں چل رہی ۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ 28 ویں آئینی ترمیم پاکستان کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کے اندر نئے صوبے نہیں بناتے تو دونوں خاندانوں نے ہمیں بیوقوف بنایا۔ بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہوگا ۔ اگر حکومت کے برے دن شروع ہوئے ہیں تو پھر پاکستان کے اچھے دن شروع ہوں گے۔ پی ٹی آئی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  یہ سوال ہونا چاہیے جو بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، ان کی کارکردگی کیا رہی ہے۔ اللہ کے فضل سے میاں شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے ذولفقار علی بھٹو کے بعد دوسرے شخص بننے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار سے کم ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس سے بدترین کارکردگی کبھی کسی حکومت کی نہیں ہوئی ۔ آج پاکستان میں سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے ۔ آج ہم انسداد دہشتگری عدالت میں کھڑے ہیں۔ جو پاکستان کے ساتھ حکومتیں دہشتگردی کر رہی ہیں کیا ان کو بھی یہاں پیش نہیں کرنا چاہیے؟۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اب کہا گیاآنے والا بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہو گا ۔ جب جہاز خریدے جاتے ہیں تو اس وقت آئی ایم ایف انہیں نہیں روکتا۔ اسکیمیں بنا کر جو لوگ امیر ہو گئے ہیں ان سے ٹیکس وصول کرنے سے بھی نہیں روکتا ۔ جو شخص بس میں سفر کرتا ہے اسے بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ اس بجٹ میں حکومت 1500 ارب کا ٹیکس وصول کرنے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاستدانوں کا کام ہی نہیں ہے کہ کس کو جیل میں ڈالے اور کس کو نہیں۔ یہ عدالتیں انصاف کے نظام کے لیے بنی ہوئی ہیں۔ اس وقت دنیا میں جنگ چھڑی ہے، اسرائیل دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے ۔ اسرائیل دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے ۔ امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اس میں پاکستان کا قصور تو نہیں ہے ۔ اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 113 روپے لیوی کردی ۔ پی ٹی آئی حکومت نے عوام پر  ٹیکس لیوی 0 کردی تھی ۔ جو آج حکومت میں بیٹھے ہیں انہوں نے آ کر کہا کہ حکومت نے آ کر ٹیکس صفر ہو جائے گا ۔ اب اس حکومت کو چاہیے کہ معافی مانگے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے اپنے کیسز بند کروانے تھے وہ کروا لیے ہیں ۔ پاکستان کے عوام کو فیصلہ کرنے دیں، جس سے ملک بہتر ہوگا۔ دریں اثنا انسداد دہشت گردی عدالت  میں 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات  میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان،عظمی خان ،اسد عمر سمیت دیگر کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اس موقع پر عظمیٰ خان اور علمیہ خان ،اسدعمر ،فواد چوہدری اور اعظم سواتی عدالت میں پیش  ہوئے، جہاں عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر 9 جولائی تک توسیع کردی ۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پراسکیوشن اور وکلا سے دلائل طلب کرلیے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل