Thursday, June 11, 2026
 

ایران کیساتھ معاہدہ طے پا گیا؛ اب حملے نہیں کریں گے؛ صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ تقریباً طے پا گیا ہے جس کے باعث آج رات ہونے والے فضائی حملے منسوخ کر دیے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدے کے بنیادی نکات پر امریکا، ایران اور خطے کے متعدد ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے۔ اس لیے اب حملے نہیں کریں گے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران بحریہ کی ناکہ بندی امریکی فوج اُس وقت تک برقرار رکھے گی جب تک معاہدے پر باقاعدہ دستخط نہیں ہو جاتے۔ انھوں نے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ دوسری جانب ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال صدر ٹرمپ کے معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق رائے کے دعوے کی تصدیق یا ترید نہیں کی گئی ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عبوری سمجھوتے پر بات چیت جاری ہے۔ اس مجوزہ سمجھوتے میں جنگ بندی کو مضبوط بنانا، بعض منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات بعد میں جاری رہیں گے۔ دوسری جانب خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان محدود حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ امریکا ایران کی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کا دعویٰ کر چکے ہیں لیکن مذاکرات مختلف نکات پر تعطل کا شکار ہی ہوتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا آج دعویٰ اس لیے بھی چونکا دینے والا ہے کہ انھوں نے کچھ دیر قبل ہی کہا تھا کہ آج رات سے ایران پر سخت حملے شروع کریں گے اور ان کے پیٹرول و گیس کے ذخائر پر قبضہ کرلیں گے۔   

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل