Thursday, June 11, 2026
 

حکومت کا اشرافیہ کو ٹیکس، ڈیوٹی کی مد میں کھربوں روپے کا استثنیٰ و مراعات دینے کا انکشاف

 



وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 26-2025 میں بھی اشرافیہ سمیت مختلف طبقات کو ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں مجموعی طور پر 2352ارب 81 کروڑ روپے کے استثنٰی، رعایات و مراعات دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکس استثنیٰ و رعایات پچھلے مالی سال میں دی جانے والی 2434 ارب 73 کروڑ روپے کی مراعات و رعایات سے کم ہیں مگر جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اربوں روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہو اور آئی ایم ایف بھی ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں رعایات و استثنٰی واپس لینے کا مطالبہ کررہا ہو تو ایسے میں کھربوں روپے کے ٹیکس استثنٰی و رعایات ریونیو کلیکشن کے حوالے سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس میں کچھ استثنٰی و رعایات درست ہیں مگر استثنٰی و رعایات لینے والوں کی اس وقت بھی بڑی تعداد ایسی ہے جن سے اگر یہ استثنٰی واپس لے لیا جائے تو ان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اقتصادی سروے کے ساتھ جاری کردہ ٹیکس اخراجات کے اعدادوشمار کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے لیے مجموعی ٹیکس رعایت، استثنیٰ اور مراعات کا حجم 2,352.81 ارب روپے (تقریباً 2.35 کھرب روپے) تک پہنچ گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کی مختلف مدات میں دی جانے والی رعایت کے باعث قومی خزانے کو یہ مالی اثرات برداشت کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025 کے دوران انکم ٹیکس سے متعلق ٹیکس اخراجات کا مجموعی حجم 579.7 ارب روپے رہا ہے، اس میں ٹیکس کریڈٹس، قابل کٹوتی الاؤنسز، کل آمدنی سے استثنیٰ، ٹیکس کی شرح میں کمی اور ٹیکس واجبات میں رعایت سمیت دیگر مراعات شامل ہیں، انکم ٹیکس کے شعبے میں سب سے بڑی مد کل آمدنی سے استثنیٰ رہی، جس کا حجم 437.99 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ سیلز ٹیکس کی مد میں ٹیکس اخراجات 1,273.98 ارب روپے رہے، جو تینوں بڑے ٹیکس شعبوں میں سب سے زیادہ ہیں، ان میں آٹھویں شیڈول کے تحت کم شرح پر عائد سیلز ٹیکس کی وجہ سے 635.84 ارب روپے، جبکہ چھٹے شیڈول کے تحت مقامی فراہمی اور درآمدات پر دی گئی رعایت کے باعث بالترتیب 305.63 ارب روپے اور 261.32 ارب روپے کے ٹیکس اخراجات سامنے آئے۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق ٹیکس اخراجات کا مجموعی حجم 499.14 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عمومی رعایت جن میں آٹوموبائل سیکٹر، ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی)، سی پیک اور دیگر مراعات شامل ہیں، جن کی مالیت 275.77 ارب روپے رہی جبکہ پانچویں شیڈول کے تحت دی گئی رعایت کا حجم 205.66 ارب روپے رہا۔ مزید بتایا گیا کہ مجموعی طور پر مالی سال 2025 کے لیے انکم ٹیکس میں 579.7 ارب روپے، سیلز ٹیکس میں 1,273.98 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی میں 499.14 ارب روپے کے ٹیکس اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس اخراجات 2,352.81 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل