Loading
حکومت اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے درمیان نئے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں معاشی اہداف اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی پر مشتمل خصوصی پیکج پر اتفاق ہوگیا ہے اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اپنی بجٹ تقریر میں ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بڑی کمی کا اعلان کریں گے اور تنخواہ دار ملازمین کے لیے بھی ٹیکس میں ریلیف کا اعلان متوقع ہے۔
ایکسپریس نیوز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے سینئر افسر نے بتایا کہ طویل گفت و شنید اور تبادلہ خیال کے بعد آئی ایم ایف نے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں کمی کے حکومتی منصوبے سے اصولی اتفاق کر لیا ہے، جس سے جائیداد اور تعمیراتی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے مجوزہ ٹیکس ریلیف پر تحفظات کا اظہار کیا تھا کیونکہ اس سے حکومتی محصولات متاثر ہونے کا خدشہ تھا تاہم بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے متعدد راونڈز کے بعد اس معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ 27-2026 کی تیاری کے دوران جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی تجویز پیش کی تھی۔
ایف بی آرحکام کا کہنا تھا کہ ٹرانزیکشن لاگت میں اضافے، تعمیراتی اخراجات میں مسلسل اضافے اور مارکیٹ میں سست روی کے باعث ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ دباؤ کا شکار ہے، ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف اس شعبے کو نئی زندگی مل سکتی ہے بلکہ اس شعبے سے جڑی درجنوں صنعتوں کا پہیہ بھی چلے گا اور اقتصادی سرگرمیان تیز ہوں گی جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکس ریونیو بھی بڑھے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ تجاویز کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236 کے تحت فائلرز کے لیے غیرمنقولہ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، اسی طرح شق 236 سی کے تحت فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ اس وقت ایف بی آر کے قواعد کے مطابق جائیداد خریدنے والوں سے شق 236 کے تحت اور فروخت کنندگان سے شق 236 سی کے تحت ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، یہ ٹیکس جائیداد کی منتقلی کے وقت وصول کیے جاتے ہیں جبکہ کیپٹل گینز ٹیکس اس سے الگ ہوتا ہے جو سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے وقت ادا کیا جاتا ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں میں کمی سے جائیداد کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوگا، تعمیراتی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور سیمنٹ، اسٹیل، پینٹ، ٹرانسپورٹ اور مالیاتی خدمات سمیت متعدد منسلک صنعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور حکام کو یہ امید بھی ہے کہ اس اقدام سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملکی پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ حتمی تفصیلات بجٹ 27-2026 کی دستاویزات میں سامنے آئیں گی جن سے یہ واضح ہوگا کہ مجوزہ ٹیکس ریلیف صرف فعال فائلرز تک محدود ہوگا یا لیٹ فائلرز اور نان فائلرز کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا، اس کے علاوہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار ملازمین کو بھی ٹیکس پر ریلیف کا امکان ہے جبکہ ملکی برآمدات بڑھانے کے لیےبجٹ میں ایکسپورٹ ایمرجنسی کے تحت بھی متعدد رعایتی اور ڈیوٹی ٹیکسوں میں ریلیف کے اعلانات متوقع ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل