Loading
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) برآمدات 4.5 پانچ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے کیونکہ گزشتہ ایک سال میں 10 لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
پارلیمنٹ میں مالی سال 27-2026 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، یہ شعبہ ملکی ترقی اور ایکسپورٹس بڑھانے میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے، گزشتہ ایک سال میں اس شعبے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات 20 فیصد سے زائد کی سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہی ہیں، اس سال یہ برآمدات 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، اس طرح یہ شعبہ برآمدات میں اضافے کے اعتبار سے سب سے تیزی سے بڑھنے والے شعبوں میں سے ایک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں 5 فائیو جی اسپیکٹرم کی کامیابی سے نیلامی کی گئی جس سے دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، اس کے ذریعے پانچ شہروں میں فائیو جی سروس شروع ہو چکی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے رائٹ آف وے چارجز ختم کیا جس کے نتیجے میں 2024 کے 20 لاکھ گھروں کے مقابلے میں 50 لاکھ گھروں میں فائبر لائنز دستیاب ہیں اور ٹیلی کام ٹاورز کی فائبرائزیشن 14 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاکستان کی پہلی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی کی منظوری دی ہے، گزشتہ ایک سال میں 10 لاکھ کے قریب پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں تربیت دی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ ٹرانسفارمیشن کے تحت ہم نے ملک میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی قانونی بنیاد رکھ دی ہے، اس کے تحت نیشنل ڈیجیٹل آئی ڈی، نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر اور اوپن ڈیٹا ایکوسسٹم جیسے منصوبے شروع ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت، عدالتی نظام اور پارلیمنٹ بھی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر پر گامزن ہیں، یہ صرف ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان رشتے کو شفاف اور فعال تر بنانے کی سعی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل