Loading
وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اقتصادی سروے کی اشاعت اور اس کے فوراً بعد نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری دراصل ایک ایسے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں محض اعداد و شمار کا جائزہ لینا کافی نہیں رہتا بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ معیشت کی حقیقی سمت کیا ہے، عوامی زندگی پر اس کے اثرات کس نوعیت کے ہیں اور مستقبل کے لیے کون سے امکانات یا خطرات موجود ہیں۔
پاکستان میں ہر سال اقتصادی سروے کے موقع پر حکومتی حلقوں کی جانب سے معیشت کے بارے میں نسبتاً مثبت تصویر پیش کی جاتی ہے، جب کہ اپوزیشن، آزاد ماہرین اور کاروباری حلقے اس تصویر کے دوسرے رخ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رواں سال بھی کچھ ایسا ہی منظر سامنے آیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے، مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور شرح نمو گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں بہتر سطح پر پہنچی ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ بہتری اتنی مضبوط اور پائیدار ہے کہ اسے حقیقی معاشی بحالی قرار دیا جا سکے یا ابھی یہ سفر ابتدائی مرحلے میں ہے؟
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جب کہ حکومت نے چار فیصد کا ہدف مقرر کیا تھا۔ بظاہر یہ معمولی فرق محسوس ہوتا ہے، لیکن معاشی منصوبہ بندی میں اعشاریے کے یہ فرق بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
حکومت نے اس ہدف کے پورا نہ ہونے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات یقینا دنیا بھر کی معیشتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مضبوط معاشی ڈھانچے رکھنے والے ممالک بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ نسبتاً بہتر انداز میں کر لیتے ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی معیشت طویل عرصے سے اندرونی کمزوریوں، ناقص مالیاتی نظم و نسق، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور کمزور پیداواری صلاحیت کے باعث بیرونی عوامل کے سامنے زیادہ حساس رہی ہے۔ چنانچہ ہر بحران کو صرف عالمی حالات کے کھاتے میں ڈال دینا حقیقت کا مکمل اظہار نہیں۔
درحقیقت پاکستان جیسی بڑی آبادی اور وسیع معاشی ضروریات رکھنے والی ریاست کے لیے تین یا چار فیصد شرح نمو کو مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ معاشی ماہرین کا عمومی اتفاق ہے کہ پاکستان کو غربت میں کمی، روزگار کے مواقع میں اضافے، صنعتی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور قرضوں کے دباؤ سے نکلنے کے لیے کم از کم سات فیصد سالانہ شرح نمو درکار ہے۔
یہی وہ سطح ہے جہاں معیشت محض زندہ رہنے کے مرحلے سے نکل کر ترقی کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔ موجودہ شرح نمو اگرچہ ماضی کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ملک کی ضروریات سے بہت کم ہے۔ آبادی میں تیز رفتار اضافے کے تناظر میں دیکھا جائے تو فی کس آمدنی میں بہتری کی رفتار اس سے بھی زیادہ محدود ہو جاتی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کے فوائد وسیع پیمانے پر عوام تک منتقل نہیں ہو پا رہے۔
معاشی استحکام کے دعوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے سب سے اہم مسئلہ قومی قرضوں کا سامنے آتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایسے مرحلے میں کھڑا ہے جہاں قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سود کی ادائیگی حکومتی مالیات کا سب سے بڑا بوجھ بن چکی ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لینا ناگزیر ہو گیا ہے۔ یہ کسی بھی معیشت کے لیے ایک خطرناک رجحان سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے ترقیاتی اخراجات محدود ہو جاتے ہیں اور ریاست کی مالی خودمختاری متاثر ہوتی ہے۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو جائے تو تعلیم، صحت، پینے کے پانی، ٹرانسپورٹ اور سماجی بہبود جیسے شعبے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ بعض معاشی اشاریے بہتری ظاہر کر رہے ہیں، لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس بہتری کے واضح آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ملکی مالیاتی مشکلات کی ایک بڑی وجہ محصولات کی کمزور وصولی بھی ہے۔
ہر حکومت محصولات بڑھانے کے دعوے کرتی ہے اور ہر سال نئے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اکثر مختلف ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس نیٹ کا دائرہ محدود ہے اور ٹیکس نظام کا بوجھ بڑی حد تک انھی طبقات پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عام صارفین سے مسلسل زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے جب کہ معیشت کے بعض طاقتور شعبے مناسب حصہ ادا کرنے سے بچ نکلتے ہیں۔ اس صورتحال میں محصولات کا ہدف پورا نہ ہونا حیران کن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکس نظام کو وسعت دی جائے، دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جائے اور ایسی اصلاحات نافذ کی جائیں جو محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ معاشی انصاف کو بھی یقینی بنائیں۔
اقتصادی سروے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی کو حکومت کی اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ اشاریے کسی بھی معیشت کی بیرونی صحت کا اہم پیمانہ ہوتے ہیں۔ ذخائر میں اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے اعتماد پیدا کرتا ہے جب کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی مالیاتی دباؤ کم کرتی ہے، تاہم ان اشاریوں کے پس منظر کو بھی سمجھنا ضروری ہے، اگر درآمدات میں کمی صنعتی سرگرمیوں کی سست روی یا کاروباری مشکلات کے باعث ہوئی ہو تو اسے مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پائیدار بہتری اس وقت کہلائے گی جب برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو، صنعتی پیداوار وسعت اختیار کرے اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر ہو۔
ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ یقینا خوش آئند خبر ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی ایک مرتبہ پھر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں۔ ان کی محنت اور وطن سے وابستگی نے زرمبادلہ کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کوئی بھی ملک صرف ترسیلات زر کے سہارے مضبوط معاشی بنیادیں قائم نہیں کر سکتا۔ ترسیلات زر معاونت فراہم کرتی ہیں، لیکن مستقل ترقی کے لیے مقامی پیداوار، سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی توسیع ناگزیر ہوتی ہے، اگر معیشت کا انحصار مسلسل بیرونی کمائی پر رہے تو داخلی پیداواری صلاحیت کی کمزوریاں برقرار رہتی ہیں۔
زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے، لیکن یہ شعبہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق کارکردگی دکھانے سے قاصر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی قلت، جدید زرعی تحقیق کے محدود استعمال اور پیداواری لاگت میں اضافے نے کسانوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہو، اس شعبے کی کمزوری مجموعی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زراعت کو محض روایتی شعبہ سمجھنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، پانی کے بہتر انتظام اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
اسی طرح صنعتی شعبے کی صورتحال بھی اطمینان بخش نہیں کہی جا سکتی۔ توانائی کی بلند قیمتیں، خام مال کی لاگت میں اضافہ اور مالیاتی سہولتوں تک محدود رسائی نے صنعتکاروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ صنعتی ترقی کے بغیر نہ تو برآمدات میں مطلوبہ اضافہ ممکن ہے اور نہ ہی بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک قیمتی اثاثہ ہے، لیکن اگر اسے روزگار فراہم نہ کیا جا سکے تو یہی اثاثہ معاشی اور سماجی مسائل میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ چنانچہ روزگار پیدا کرنے والی صنعتوں کی حوصلہ افزائی آئندہ بجٹ کی اہم ترجیح ہونی چاہیے۔
حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کو بھی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ بلاشبہ گزشتہ دو برسوں کے مقابلے میں افراط زر کی رفتار کم ہوئی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیمتیں سابقہ سطح پر واپس آ گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اشیائے ضروریہ، بجلی، گیس، تعلیم اور علاج کے اخراجات اب بھی عوام کی قوت خرید پر بھاری بوجھ ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں کمی اور قیمتوں میں کمی دو الگ چیزیں ہیں۔ عوام کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا ہو، اور یہ مقصد صرف اعداد و شمار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
قومی اقتصادی سروے کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ معیشت مکمل بحران سے نکل کر نسبتاً بہتر سمت میں حرکت کر رہی ہے، لیکن اسے کامیاب معاشی تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب قومی آمدنی میں اضافے کے اثرات عام شہری کی زندگی میں محسوس ہوں، جب قرضوں پر انحصار کم ہو، جب حکومت سود کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینے پر مجبور نہ ہو، جب صنعت اور زراعت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوں، جب نوجوانوں کے لیے وسیع پیمانے پر روزگار پیدا ہو اور جب شرح نمو مستقل بنیادوں پر سات فیصد یا اس کے قریب پہنچ جائے۔ آنے والا بجٹ اور آئندہ مالی سال اسی تناظر میں فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ حکومت کے لیے چیلنج صرف اعداد و شمار بہتر بنانا نہیں بلکہ معیشت کو ایسی بنیاد فراہم کرنا ہے جو پائیدار، خود کفیل اور عوامی فلاح پر مبنی ہو۔ یہی وہ معیار ہے جس پر اقتصادی سروے کے دعوؤں اور بجٹ کے وعدوں کی اصل جانچ ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل