Loading
پاکستان کا سیاست کا نظام بنیادی طور پر غیر معمولی تبدیلیاں چاہتا ہے ۔ایسی تبدیلیاں جو حکمرانی کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرسکے ۔ اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو روائتی طرز کی سیاست سے کچھ بھی ممکن نہیں ہوگا اور یہ کھیل جو ہم نے اقتدار اور طاقت کی بنیاد پر سجایا ہوا ہے وہ کچھ بڑا نہیں کرسکے گا۔ جب ہم نظام کو انفرادی بنیادوں پر چلانے کی کوشش کریں گے تو اجتماعی ترقی کا ماڈل بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔
ہماری سیاست کا المیہ یہ ہی ہے کہ اس کا کھیل ادارہ جاتی نظام کے مقابلے میں شخصیات کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔اصل بحث کا نقطہ یہ ہے کہ اس ملک میں جاری سیاست یا اقتدار کے کھیل کو کیسے عوام کے مفادات کے ساتھ جوڑ کر چلایا جائے ۔ایک ایسی ریاست جس کی بنیاد عوامی مفادات ہو وہ کیسے ہماری سیاسی اور ریاستی ترجیحات کا حصہ بن سکتی ہے۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانی کے نظام پر دباو ڈالنے والا سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی کا کردار تواتر کے ساتھ محدود ہو رہا ہے یا ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اس کو کمزور کیا جارہا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حکمرانی کے نظام پر سوالات کرنے والی قوتیں کمزور ہو رہی ہیں یا ان کو کمزور کیا جارہا ہے تاکہ طاقت کی حکمرانی کے نظام پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھا جا سکے۔
یہ سب کچھ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے اور اس میں سب طاقت ور قوتیں شامل ہیں جو عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور طبقات کے مفادات کا تحفظ چاہتی ہیں۔ اسی طرح عوامی سطح پر موجود عوامی مفادات سے جڑے افراد بھی طاقت ور حکمرانی کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اس نظام کو طاقت فراہم کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ عام آدمی کے مسائل پر مبنی پالیسیاں اور منصوبے ہمیں اب محض تقریروں تک دیکھنے کو ملتے ہیں ۔اس نظام پر طاقت ور اشرافیہ اور اس کے خاندان یا اس کی نئی نسل کا قبضہ ہے ۔ جو لوگ بھی اس طاقت کے نظام کے خلاف آواز اٹھاتے یا مزاحمت کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو طاقت کی بنیاد پر دبایا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر حکمرانی کا نظام کمزور اور غریب لوگوں کے لیے ایک امید کا نظام ہوتا ہے کہ یہ نظام اس کی سیاسی اور معاشی طاقت بنے گا ۔کیونکہ کمزور طبقات کو ہی منصفانہ نظام کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک بنیادی سوال یہ بھی موجود ہے کیا اس سیاسی نظام میں جو سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہیں ان کے پاس اگلے بیس برس کا کوئی ایسا ترقی کا منصوبہ ہے کہ ہم اس نظام کو کیسے لے کر چلنا چاہتے ہیں یا اس نظام کی سیاسی ترجیحات کیا ہونگی ، تو سوال کا جواب مایوسی کی صورت میں نظر آتا ہے۔
جب ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی یا اداروں کی کمزوری سمیت عدلیہ کا کمزور نظام ہوگا تو وہاں ہم انصاف کا نظام کیسے دیکھ سکیں گے۔ طاقت کی حکمرانی کا نظام وہیں مضبوط جڑیں پکڑتا ہے جہاں پہلے ان سب اداروں کو کمزور کرکے ہم افراد کی حکمرانی کے نظام کو مضبوط کرتے ہیں ۔اس لیے جب لوگ انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف جاتے ہیں تو وہاں بھی ان کا استحصال ہوتا ہے ۔جب ملک میں احتساب کا نظام ہی نہیں ہوگا تو ان طاقت ور طبقات کو کون کیسے لگام دے سکے گا۔یہاں جس کے پاس طاقت ہے اسی کے پاس قانون کی طاقت بھی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ ان حالات میں کسی بھی سطح پر جوابدہ نہیں ہے۔
یہ جو ہم سمجھتے ہیں کہ نظام میں تبدیلی ممکن نہیں اور نظام ایسا ہی چلے گا ،ممکن ہے کہ ان کا جواب موجودہ وقت میں درست ہو ۔ ہمارا حکمرانی کا ڈھانچہ بری طرح بگاڑ کا شکار ہوگیا ہے اور اب اس کو چلانے کے لیے پرانی مشین نہیں چل سکے گی۔ ہمیں نئی مشین بھی درکار ہیں اور نئی سیاسی ،سماجی اور معاشی حکمت عملیوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا ۔
لوگوں کی سوچ میں اب بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور لوگ نظام کو کسی نہ کسی سطح پر چاہے کمزور بنیادوں پر ہی چیلنج کر رہے ہیں۔لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کے مسائل کا حل بند گلی میں داخل ہوگیا ہے اور ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے کچھ نیا سوچنا ہوگا اور نظام ایسے نہیں چل سکے گا۔ حکمرانی کے نظام میں موجود فیصلہ سازوں کو بھی اندازہ ہے کہ حالات پر ان کی گرفت کمزور ہورہی ہے۔لیکن کیونکہ حکمرانی کا نظام طاقت کی بنیاد پر چلایا جارہا ہے تو وہ اسی حکمت عملی کے تحت نظام کو دھکا دے رہے ہیں ۔لیکن یہ کب تک چل سکے گا اس پر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔البتہ اس طرز کا نظام لوگوں کے مسائل میں مزید محرومی کو پیدا کرے گا ۔
اس لیے فیصلہ سازوںکو سوچنا ہوگا کہ وہ نظام کو کیسے چلارہے ہیں اور کس جانب لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔کیونکہ ہمارا حکمرانی کا نظام پہلے ہی داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مسائل کا شکار ہے اور ہمارے اعداد وشمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ترقی کے عمل میں بہت پیچھے کھڑے ہیں۔اس لیے ہمیں ایک نئی سوچ وفکر کے ساتھ حکمرانی کے نظام میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ایسی تبدیلی کا عمل جو لوگوں کو حکمرانی کے نظام کے ساتھ جوڑ سکے۔کیونکہ اس وقت ملک میں لوگوں کو جوڑ کر ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے اور یہ جو خلیج کا پہلو ہے اس کو کم سے کم کیا جاسکے ۔
بنیادی مسئلہ لوگوںکے بنیادی حقوق کا تحفظ اور ان کو یقینی بنانا ہے ۔لوگوں کے حق کو ہر سطح پر تسلیم کیا جائے۔طبقاتی بنیادوں پر چلایا جانے والا نظام معاشرے میں اور زیادہ تفریق کو جنم دیتا ہے ۔جب لوگوں کے بنیادی نوعیت کے مسائل حل ہونگے اور لوگوں کو احساس ہوگا کہ حکمرانی کا نظام ان کے مسائل پر توجہ دے رہا ہے تووہ خود کو حکمرانی کے نظام کے ساتھ ہی کھڑا رکھیں گے ۔جب ریاستی سطح پر سوچ ابھرتی ہے کہ لوگ حقوق کی آوازیں کیوں اٹھاتے ہیں تو اس کا براہ راست تعلق بھی لوگوں کے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی سے جڑا ہوتا ہے۔لیکن کیا ہمارا حکمرانی کا نظام طاقت کی حکمرانی کے نظام کو عوامی مفادات کے ساتھ جوڑ کر عام لوگوں کے ساتھ خود کو کھڑا کرسکے گا،اس کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل