Friday, June 12, 2026
 

اصل بادشاہ کے کندھے!

 



ہارون الرشید کا سنہری دور تھا۔ خلیفہ وقت ‘دنیا کے امیر ترین آدمی تھے ۔ ان کی حکومت کی وسعت کا تعین کرنا بہت مشکل تھا۔ بغداد میں سائنس ‘ نت نئے تجربات ‘ صنعت و حرفت اور یونانی فلسفے کے تراجم جاری و ساری تھے ۔ حکومت کا سب سے طاقتور ستون برامکہ تھے۔ یہ ایرانی نسل کے لوگ تھے ۔ جو ہجرت کر کے بغداد آئے تھے ۔ اپنے ساتھ وسیع انتظامی تجربہ اور فلاح و بہبود کے منفرد پروگرام لے کر اس علاقے میں وارد ہوئے۔ اس خاندان کو عباسی دور خلافت میں اتنا عروج ملا کہ لوگ انھیں ہی بادشاہِ وقت سمجھتے تھے۔یحییٰ برمکی اور خلیفہ کی طاقت میں انیس بیس کا فرق تھا۔ برامکہ کے محلات خلیفہ وقت سے زیادہ خوبصورت اور سطوت کے نشان نظر آتے تھے ۔ اہل برامکہ عملی طور پر حکومت کر رہے تھے ۔ ایک دن محمد ابن خالد بن برمک اپنے بھائی کو تلاش کرتے کرتے ہارون الرشید کے محل میں پہنچا ۔ بذات خود گورنر کے عہدے کا حامل تھا۔ ساتھ ساتھ خلیفہ کے محل کی تمام ذمے داریاں اس کے کندھوں پر تھیں۔چوب داروں نے بتایا کہ آپ کا بھائی جو بذات خود وزیر بھی تھا ‘اور ہارون الرشید سے حد درجے خوشگوار مراسم کا حامل تھا ۔ محل کے پیچھے پائیں باغ میں موجود ہے۔ محمد ابن خالد بغیر کسی روک ٹوک کے محل کے خصوصی حصے میں چلا گیا ۔ جیسے ہی وہ باغ میں داخل ہوا تو ذہنی طور پر بہت بڑا جھٹکا لگا۔ معلوم پڑتا تھا کہ کسی بلا کو دیکھ لیا ہو۔ پسینے میں ڈوبا ہوا گورنر الٹے پاؤں خلیفہ ہارون الرشید کے محل سے نکلا۔ کانپتا ہوا اپنے خوبصورت محل کی طرف دوڑنے لگا۔ لگتا تھاجیسے موت کا فرشتہ اس کے تعاقب میں ہے۔دو دن تک اپنی خواب گاہ میں لیٹا رہا ۔ کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔تیسرے دن خلیفہ وقت کے دربار میں پہنچا تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا۔ یہ کاغذ دراصل امان نامہ تھا۔ اس پر درج تھا کہ خلیفہ‘ خالد برمکی اور اس کے پورے خاندان کو نقصان نہیں پہنچائے گا اور انھیں امان دی جاتی ہے۔ ہارون الرشید نے جب یہ کاغذ پڑھا تو ششدر رہ گیا ۔ برامکہ اس کے سب سے اعتماد والے وزراء تھے وہ ان کی ذہانت اور کام سے بہت مرعوب تھا۔ اس نے غیر یقینی حالت میں خالد برمکی سے استفسار کیا کہ یہ کاغذ کیا ہے ۔ خالد برمکی سر جھکا کر کھڑا رہا ۔ درخواست کی کہ اے خلیفہ وقت اس پر دستخط فرما دیجیے ۔ بہرحال ہارون الرشید نے اس عجیب و غریب معاہدے پر دستخط کیے اور شاہی مہر ثبت کر دی ۔ تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا۔ ہارون الرشید کو اس کے درباریوں نے بتانا شروع کیا کہ اصل حکمرانی تو برامکہ کے پاس ہے ۔ آپ صرف اور صرف نام کے بادشاہ ہیں۔ الفضل ابن الرابی ‘ خلیفہ کے بہت نزدیک تھا اور برامکہ کا جانی دشمن تھا۔ الفضل نے انتہائی شاطر طریقے سے ایک سازش کا تانا بانا بنا ۔ خلیفہ اور اس کی ملکہ کو یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ برامکہ خلیفہ کے اقتدار کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ یہ سازش اتنی منظم اور گہری تھی کہ مشیر خاص اور دیگر درباریوں کو اس کی بھنک بھی نہیں پڑی۔ خلیفہ وقت بھیس بدل کر برامکہ کے محلوں کے سامنے سے گزرا تو اسے وہاں ان گنت غریب لوگ ملے جو برامکہ کی سخاوت پر قصیدے پڑھ رہے تھے ۔ فوج پر بھی اس خاندان کا بہت زیادہ اثر تھا۔ان کے محلات خلیفہ وقت کے محل سے زیادہ روشن اور پروقار نظر آئے۔ محلوں کے اندر سیکڑوں غلام اور کنیزیں خدمت کے لیے ہر دم موجود تھے۔ ہارون الرشید کے ذہن میں الفضل کا کہا ہوا فقرہ منجمد ہو گیا کہ اصل حکومت اور اقتدار اس کا نہیں بلکہ برمکی خاندان کا ہے۔ خاموشی سے اپنے شاہی محل میں واپس آیا ۔ اپنے سب سے قریبی غلام مسرور الخادم کو طلب کیا ۔ بادشاہ نے غلام سے سوال کیا کہ تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو۔ مسرور نے خنجر نکالا اور اپنی گردن پر رکھ لیا اور کہا کہ اے خلیفہ وقت اگر حکم دیں تو میں اپنی گردن خود کاٹ کے آپ کے سامنے رکھ دوں گا۔ہارون الرشید نے مسرور کو کہا کہ مجھے تمہاری جان نہیں چاہیے ۔ مجھے جعفر ابن یحییٰ کا سر لا کر دینا ہو گا۔ جعفر ‘ خلیفہ وقت کا وزیراعظم تھا۔ مسرور کا خنجر زمین پر گر گیا ۔ اس نے کانپنا شرو ع کر دیا۔ اسے قطعاً یقین نہ آیا کہ بادشاہ کیسا حکم دے رہا ہے۔ برامکہ کے جاہ و جلال کو مسرور سمجھتا تھا اور ان کی اہمیت کا بھرپور اندازہ تھا۔ اسے کانپتا دیکھ کرہارون الرشید نے دوبارہ کہا کہ جاؤ اور جعفر برمکی کا کٹا ہوا سر میرے سامنے پیش کرو۔ مسرور کو جب یقین آگیا کہ خلیفہ وقت واقعی جعفر کو قتل کروانا چاہتا ہے تو اس نے اپنے ساتھ چند غلام لیے اور وزیراعظم کے گھر پہنچ گیا ۔ جعفر نے انھیں خوش آمدید کہا کہ اس کے ذہن کے ہزارویں حصے میں بھی نہیں تھا کہ موت سامنے کھڑی ہے۔ پیغام خاص سنانے کا بہانا کر کے وزیراعظم کو محل کے آخری حصے میں لے گیا اور اس کی گردن یک دم کاٹ ڈالی۔ جعفر کے سر سے خون ٹپک رہا تھا ۔ مسرور نے کٹا ہوا سر بالوں سے پکڑا اور تیزی سے چلتا ہوا‘ ہارون الرشید کے سامنے جا پہنچا ۔ بادشاہ ابھی غصے میں تھا اس نے حکم دیا کہ برامکہ کے تمام مرد اور بچے فوری طور پر قتل کر دیے جائیں۔ ان کے محلات کو مسمار کر دیا جائے۔ ان کی خواتین کو سربازار رسوا کیا جائے اور انھیں بھیک مانگنے کے کام پر لگا دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ برامکہ کی ساری دولت یک دم خلیفہ وقت کے خزانے میں جمع کروا دی گئی اور ان کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ روایت ہے کہ یحییٰ برمکی کی بیوی بغداد کی گلیوں میں بھیک مانگتی نظر آتی تھی اور وہ رو رو کر اندھی ہو چکی تھی۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ہارون الرشید نے محمد ابن خالد کو طلب کیا اور کہا کہ تمہیں کیسے اندازہ ہوا کہ میں تمہارے پورے خاندان کو نیست و نابود کر دوں گا۔ اس پوری تباہی میں صرف محمد ابن خالد ‘ امان کے معاہدے کی وجہ سے محفوظ رہا تھا۔ اس نے نظریں نیچے کر کے بادشاہ کو گزارش کی کہ اے خلیفہ وقت ‘ جب میں اپنے بھائی کو ڈھونڈتا ہوا آپ کے باغ میں داخل ہوا تو میرا بھائی آپ کے کندھوں پر سوار تھا اور درخت سے لگے ہوئے پھل اتار رہا تھا۔ آپ دونوں قہقہے اور ٹھٹھے لگا رہے تھے ۔ اردگرد آپ کا اور میرے بھائی کا خاندان موجود تھا۔ اس دن مجھے ایسے لگا جیسے ہمارا دور ختم ہونے والاہے۔ کیونکہ خلیفہ وقت کے کندھوں پر بیٹھ کر پھل توڑنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔ یہ قربت کی انتہا ‘ ابتری کی طرف لے جانے کا اشارہ کر رہی تھی۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ بادشاہ سے اتنے نزدیک ہونے کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ہارون الرشید ‘ اس کا جواب سن کر حیران ہو گیا ۔ اس کی دور اندیشی کی داد دی کہ تم ایک ذہین اور حد درجہ منظم آدمی ہو ۔ تمہارا خاندان اور دولت پہلے کی طرح محفوظ ہے۔  تاریخ کا یہ سچا واقعہ ہمارے ملک کے ابتر اصول حکمرانی کی یاد دلاتا ہے۔ ماضی میں زیادہ نہیں جانا چاہتا۔ ہمارے ملک کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ کون ہے اور وہ کچھ بھی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد ان طاقت ور کندھوں پر بیٹھ کر کئی سیاست دانوںنے مسند شاہی حاصل کر لی۔ گورنر جنرل غلام محمد اور سکندر مرزا کے زمانے سے شروع ہوا کھیل آج بھی جاری و ساری ہے۔ صرف چہرے بدلے ہیں ۔ درباری سازشیں بھی وہی ہیں اور بادشاہ کے کندھوں پر آنے جانے کی رسم بھی پختہ سے پختہ تر ہوتی چلی گئی ہے۔ ذمے داری سے عرض کر رہا ہوں کہ ہمارا ایک بھی ایسا سیاستدان نہیں ہے جس نے اقتدار اعلیٰ اپنے بل بوتے پر حاصل کیا ہو۔ دربار میں سب سے اونچی مسند پر بیٹھنے والا سیاستدان جو آپ کو بہت طاقتور نظر آئے گا۔ غور سے دیکھیں تو اس شاہی کرسی کے سونے کے بنے ہوئے پائے کسی طاقتور ادارے کے کندھوں پر ہوں گے۔ آج کی بات نہیں۔ یہ کھیل 1947ء سے شروع ہوا اور آج بھی پنپ رہا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو برامکہ کی تاریخ غور سے پڑھنی چاہیے ۔ انھیں اندازہ ہونا چاہیے کہ جس غیبی طاقت کے بل بوتے پر وہ حق حکمرانی ثابت کر رہے ہیں‘ وہ کندھے کسی بھی وقت اور کسی بھی مصلحت کے تحت یکسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ مگر کمال یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں میں ایک شخص بھی محمد ابن خالد جیسا دوراندیش نہیں ۔ جو موت کی آندھی کو دور سے آتا ہوا دیکھ لے ۔ مقتدر حلقے کے شانوں پر بیٹھ کر آنے والے لوگ جب دربدر ہو جاتے ہیں تو اس وقت انھیں محمد ابن خالد کی سچی کہانی یاد آ جاتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل