Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو پُرامن اور سویلین مقاصد کے لیے جوہری پروگرام برقرار رکھنے کی اجازت دے گا لیکن اس کے عسکری استعمال پر سخت اور مستقل پابندیاں عائد ہوں گی۔
صدر ٹرمپ کے بقول مذاکرات میں ایران کی یورینیئم افزودگی کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ ان میں 15 سالہ پابندی سے لے کر 20 سال تک کی طویل مدت کے فریز کی تجاویز شامل ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اس میں سے 15 سالہ انتظام کو قبول کرسکتے ہیں بشرطیکہ ایران صرف اتنی کم سطح کی افزودگی تک محدود رہے جو کبھی بھی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی مکمل آزادی اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس، ٹول یا پابندی عائد نہ ہونے کی یقین دہانی کرانا ہے۔
دریں اثنا صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں جنگ بندی معاہدے کے تمام فریقین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکا کا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہوچکا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی دہائیوں کی کشیدگی کے بعد ایک نئے سفارتی فریم ورک پر پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم یورینیم افزودگی کی حد، منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کے معاوضے اور آبنائے ہرمز کی آئندہ حیثیت جیسے اہم معاملات پر ابھی مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل