Loading
روزنامہ ایکسپریس کی 2 خبروں کے مطابق کے ڈی اے اور کے پی کے نگراں دور میں قانون کے خلاف بھرتیوں اور خلاف ضابطہ تعیناتیوں کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں۔
غیر قانونی و خلاف ضابطہ سرکاری اقدامات یوں تو ملک بھر میں عروج پر ہیں مگر سندھ میں ایسے اقدامات کا نیا ریکارڈ قائم ہونا کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سب سرکاری اقدامات 2008 میں سندھ میں پی پی کی حکومت کے قیام سے ہی شروع ہو گئے تھے جن کی انتہا یہ سامنے آئی ہے کہ ٹنڈو الٰہ یار میں محکمہ صحت کی طرف سے ایک ایسے مفرور شخص کی تعیناتی سترہ گریڈ میں کی گئی ہے جو غیر قانونی اقدامات کی منفرد مثال ہے۔
خبر کے مطابق سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پورے شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایس سی یو جی سروسز سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں بلدیاتی کونسل ملازمین کے ساتھ ساتھ نامعلوم محکموں کے مشکوک ملازمین اور زیر تربیت ملازمین کو بھی ڈیپوٹیشن پر اہم عہدوں پر تعینات کرنے کا سلسلہ بند کرنے کی بجائے مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈیڑھ درجن سے زائد افسران اور ملازمین کی کے ڈی اے میں مبینہ طور پر خلاف ضابطہ تعیناتیاں کی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کے ڈی اے میں ان خلاف ضابطہ تعیناتیوں پر کے ڈی اے کے مستقل ملازمین کا مستقبل داؤ پر اور کے ڈی اے میں انتظامی بحران پیدا کر دیا گیا ہے جس پر کے ڈی اے میں ان افسران کی غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف احتجاج بھی ہوا مگر محکمہ بلدیات اپنے غیر قانونی احکامات واپس لینے کو تیار نہیں ہے۔
واضح رہے کہ ہر صوبے میں محکمہ بلدیات کے کنٹرول میں جتنے بلدیاتی ادارے ہوتے ہیں وہاں عملے کا تقرر ہر ادارے کے مالی بجٹ کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ ان بلدیاتی اداروں میں سرکاری تعیناتیاں مقرر ہیں جنھیں ہر بلدیاتی ادارہ اپنی آمدنی کے مطابق تنخواہیں اور مراعات دیتا ہے اور یہ ادائیگی غیر ترقیاتی اخراجات شمار ہوتی ہے۔
ملک بھر میں بڑے شہروں میں میٹرو پولیٹن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، ٹاؤن اور یونین کمیٹیاں اور ضلع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کونسلیں قائم ہیں اور ملک کے سب سے بڑے شہر کے سب سے بڑے بلدیاتی ادارے کو سندھ حکومت نے کم تر درجے پر رکھا ہوا ہے جو بلدیہ عظمیٰ تو کہلاتا ہے مگر وہ لاہور کی طرح میٹرو پولیٹن کارپوریشن نہیں ہے جہاں کا سربراہ لارڈ میئر اور کراچی کا صرف میئر کہلاتا ہے۔
پہلے سندھ میں صرف تین میونسپل کارپوریشنیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں ہوتی تھیں مگر سندھ حکومت نے لاڑکانہ، میرپورخاص اور نوابشاہ کی میونسپل کمیٹیوں کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دے دیا تھا تاکہ وہاں اپنے جیالوں کو ملازمتیں دے سکے۔
سندھ کے ہر بلدیاتی ادارے میں اضافی ملازمین کی بھرمار کی وجہ سے ان کی آمدنی ان ملازمین کی تنخواہ پر خرچ ہو جاتی ہے جس سے بعض بلدیاتی اداروں کے پاس ترقیاتی کیا تعمیری کاموں کے لیے بھی رقم نہیں بچتی اور وہاں کے ملازمین کو وقت پر تنخواہیں ملتی ہیں نہ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن اور زیادہ تر بلدیاتی ادارے مالی بحران کا شکار ہیں اور حکومتی گرانٹس کے محتاج ہیں۔
یونین کونسلوں کے جو اختیارات پہلے جنرل پرویز کے ضلعی حکومتوں کے نظام میں تھے وہ بہت کم کر دیے گئے ہیں اور یوسیز کو ماہانہ پانچ لاکھ روپے حکومت گرانٹ دیتی ہے جو ضلعی حکومتوں کے نظام میں صرف دو لاکھ روپے ماہانہ تھی۔
محکمہ بلدیات واحد محکمہ ہے جہاں ہنرمند ہونا ضروری نہیں ہوتا اور وہاں ان پڑھ، ناتجربہ کار اور غیر تعلیم یافتہ سب ہی کو نوازنے کے وسیع مواقع موجود ہوتے ہیں۔ بڑے بلدیاتی اداروں میں خاکروبوں اور مالیوں کی جگہیں بڑی تعداد میں ہوتی ہیں جہاں اپنوں کو بھرتی کرکے اپنے گھروں میں انھیں ملازمین کے طور پر رکھا جاتا ہے جن کی تنخواہیں بلدیاتی ادارے دیتے ہیں اور دیگر آسامیوں کے مقابلے میں خاکروبوں اور مالیوں کی آسامیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
خاکروبوں کی نسل اب اپنے بڑوں کی جگہ ملازمت اختیار نہیں کرتی جب کہ مالیوں کا کام بھی ہر کسی کا کام نہیں ہے۔ بلدیاتی اداروں کے علاوہ سب سے کمائی کے محکمے ایس بی سی اے، تمام ترقیاتی ادارے جن میں کے ڈی اے سب سے اہم ہے اور فراہمی و نکاسی آب کا بڑا ادارہ بھی کراچی میں ہے جہاں سارے کام زیر زمین ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے کرپشن بھی یہاں زیادہ ہوتی ہے۔
ایس بی سی اے اور کے ڈی اے کراچی میں ملازموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس لیے محکمہ بلدیات میں سفارشوں کے ذریعے ان محکموں میں تقرریوں اور من پسند جگہوں پر تعیناتی حاصل کرنے کے لیے سیاسی اثر و رسوخ استعمال ہوتا ہے اور یہی کے ڈی اے میں ہوا جہاں خلاف ضابطہ و غیر قانونی تقرریاں افسروں کی ہوئی ہیں اور دیگر محکموں کے افسر کے ڈی اے پر مسلط کیے گئے ہیں جس پر احتجاج بڑھ رہا ہے۔
اطلاع کے مطابق کراچی میں نئی ملازمتوں کے پروانے چار مختلف جگہوں سے ان کے مقررہ کوٹے کے مطابق جاری ہوتے ہیں اور کیسے ہوتے ہیں اس کا سب کو پتا ہے اور اسی وجہ سے الزامات لگتے آ رہے ہیں جن کی نا تردید ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے غیر قانونی اور خلاف ضابطہ اقدامات رک رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل