Monday, June 15, 2026
 

معاشی حقائق کی دنیا

 



حکومت کی معاشی کہانی ،کارکردگی،دعوے اورحقایق عوامی توقعات یا ان کے سچ کے بالکل برعکس ہوتی ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم حکمران طبقات اور عوام کے درمیان معاشی ترقی یا اعدادوشمار میں نہ صرف تضاد دیکھتے ہیں بلکہ ان میں ایک ٹکراؤ کا پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے جو ان میں خلیج کی لکیر کو مزید کھینچتا ہے۔ آج کل ہماری حکومتوں کی ترقی کی کہانی کا کاروبار اشتہارات کی مدد سے چل رہا ہے جہاں لوگوں کو بڑے بڑے اشتہارات کی مدد سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ ہماری معیشت ترقی کررہی ہے اور اس کے لیے اعداد وشمار کی بنیاد پر سیاسی و معاشی دعوے کیے جاتے ہیں ۔ یہ مسئلہ کسی ایک حکومت کا نہیں بلکہ مجموعی حکمرانی کے نظام کا ہے جس کے پاس کوئی معیشت کا مضبوط،مربوط روڈ میپ لانگ ٹرم،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم بنیادوں پر موجود نہیں ۔ جب حکمرانی کا نظام خود ہی مختلف تضادات اور ڈھانچوں کی بنیاد پرکام کررہا ہوگا تو پھر معاشی ترقی یا معاشی ناہمواری کے کم ہونے کے امکانات اور زیادہ محدود ہوجاتے ہیں۔اصل میں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارا حکمران طبقہ یا اس سے جڑے معاشی ماہرین معیشت کو سیاسی تنہائی میں دیکھتے ہیں اور اس معیشت کو براہ راست عوامی مفاد کی بنیاد یا محروم طبقات یا سیاسی معیشت کی بنیاد پر نہیں دیکھتے جو معاشی محرومی کو برقرار رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ اکنامک سروے نے جو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے وہ کافی تلخ ہے اور اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہم معاشی ترقی یا معاشی عمل میں کہاں کھڑے ہیں۔ یہ اعداد وشمار ہمارے سیاسی ،سماجی ،علمی اور فکری یا معاشی ماہرین کو بھی جنجھوڑتے ہیں جو عملا پالیسی سازی یا قانون سازی کا حصہ ہیں اور ان کی ترجیحات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ کہاں غلط کھڑے ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہم معاشی ترقی سے جڑے مجموعی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ملک کی معیشت،سماجی حالات اور ماحولیاتی صورتحال کی بنیاد پرانتہائی تشویشناک اور جامع تصویر پیش کرتی ہے۔ جس میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ،تعلیم اور انسانی ترقی پر کم سرمایہ کاری کا ہونا بڑھتا ہوا سرکاری قرضہ،قرضوں پر کھڑی معیشت،ماحولیاتی بحران،موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات،ہر تیسر ا بچہ اسکول جانے سے محروم اور غربت کی شرح21.09فیصد سے بڑھ کر 28.09فیصد بڑھ گئی ہے ،ہر پاکستانی تین لاکھ تیس ہزار کا مقروض،59لاکھ افراد بے روزگار، سات کروڑ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی خلیج،آمدنی اور اخراجات کی سطح پر بڑھتا ہوا عدم توازن،پچھلے ایک برس میں 8لاکھ افراد ملک چھوڑ گئے،افراط زر میں کمی ،زرعی و صنعتی نمو کے اہداف کے حصول میں ناکامی اور برآمدات کا نہ بڑھنا،جی ڈی پی کی نمو کا کم ہونا جیسے امور سرفہرست ہیں۔ اب کوئی اس ملک کے حکومتی معاشی یا سیاسی ماہرین سے پوچھے کہ ان کی اصل معیشت کہاں کھڑی ہے اور کیونکر وہ لوگوں کو معاشی بنیادوں پر گمراہ کرتے ہیں ۔ان کو ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اب لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوگیا ہے کہ اس حکمران طبقات اور اس نظام کے پاس ان کے معاشی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔ لوگ اب جذباتی نعروں سے مستفید نہیں ہوتے بلکہ وہ اب حکومت کے سیاسی اور معاشی نظام سے ہی لاتعلق ہوتے جا رہے ہیں یا ان کا  حکومت کے نظام پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے ۔یہ جو حکومت کے ترقی کے نام پر بڑے بڑے منصوبے ہیں اور وہ بھی عوامی ترجیحات کے برعکس، اس سے لوگوںکا پیٹ نہیں بھرتا اور نہ ہی ان کو معاشی طور پر خود مختاری کی طرف لے کر جاتا ہے۔ بنیادی مسئلہ اس معاشی نظام کا یہ ہے کہ یہ معاشی خود مختاری سے محروم ہے ۔جب ہماری معیشت غیرملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوگی تو ہم معاشی طور پر کیسے خود کفیل ہوسکیں گے ۔بڑی اور چھوٹی صنعتوں سے محرومی کے سبب ہم نہ تو نیا روزگار پیدا کررہے ہیں اور نہ ہی ان کو باعزت روزگار دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم نے طے کرلیا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کرنا بلکہ اپنی معیشت کو غیر ممالک کی امداد سے ہی چلانا ہے یا معاشی خود انحصاری کسی بھی سطح پر ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہے ۔اسی طرح جب تک ہم غیر ترقیاتی اخراجات میں مجموعی طور پر کمی نہیں کریں گے اور سیکیورٹی کے مقابلے میں انسانی ترقی یا محروم طبقات کے تحفظ پر مالی سرمایہ کاری نہیں کریں گے تومعیشت کی کہانی میں کچھ بہتری پیدا نہیں ہوسکے گی ۔ ہمیں معیشت کی بحالی کے لیے انفراسٹرکچراصلاحات درکار ہیں مگر اس کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔پرانے خیالات کی بنیاد پر معیشت کی ترقی ممکن نہیں اور موجودہ غیر معمولی حالات میں ہماری معیشت غیر معمولی اقدامات کا تقاضہ کرتی ہے لیکن اس ملک کی طاقت ور اشرافیہ ان بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کے لیے تیار نہیں ہے۔ اصل جنگ معاشیات کے تناظر میں طاقت ور یا خوشحال اور کمزور طبقات کے درمیان ہے ۔یہ جنگ سیاسی اور معاشی نوعیت کی ہے ۔عمومی طور پر یہ جنگ ملک کا سیاسی نظام،سیاسی جماعتیں اور ان کی سیاسی قیادت معاشرے کے دیگر مضبوط طبقات کی بنیاد پر لڑ جاتی ہیں۔ لیکن جب ملک کا مجموعی سیاسی نظام اور سول سوسائٹی سیاسی بانجھ پن کا شکار ہو تووہاں عام آدمی کی معاشی جنگ کون لڑے گا۔عام آدمی جو پہلے ہی معاشی سطح پر کمزور ہے وہ خود کیسے یہ جنگ لڑسکتا ہے خود بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ اس بجٹ کا بھی براہ راست اثر عام آدمی پر مزید نئے معاشی بوجھ کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی موجودگی اور ان کے لیے کہیں بھی روزگار کا نہ ہونا یا معاشی عدم تحفظ ریاستی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جب تک ہماری معیشت کا فریم ورک محروم طبقات کو بنیاد بنا کر کام نہیں کرے گا ہم معاشی ترقی کے عمل کو نچلی سطح پر نہیں لے کر جاسکیں گے اور نہ ہی اس معاشی نظام کی کوئی مضبوط ساکھ قائم ہوسکے گی، اس لیے اس سوچ اور فکر میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے کہ ہم طاقت ور طبقات کے مفادات کی معیشت سے باہر نکلیں اور لوگوں کوغربت، بے روزگاری،خط غربت سے باہر نکالیں اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ حکومت کی سطح پر اپنی ترجیحات کی تبدیلی اور ٹھوس اقدامات،نگرانی ،شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ لیکن یہ کام آسان نہیںاور بغیر کسی بڑی سیاسی تحریک کے ہم اس عمل میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ یہ مزاحمت ڈیجیٹل دنیا تک ہی محدود ہے اور اس کا کوئی بڑا اثر سیاسی زمین میں دیکھنے کو نہیں مل رہا۔یہ زیادہ خطرناک رجحان ہے جب لوگوں کے بنیادی سطح کے سیاسی ،سماجی اور معاشی مسائل پر سیاسی جماعتیں لاتعلق رہیں گی تو اس کے دو نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں اول یہ سیاسی جماعتیں لوگوں میں غیر اہم ہوجاتی ہیں اور دوئم پھر لوگ اپنی مرضی کی بنیاد پر سخت ردعمل دیتے ہیں جو ایک سطح پر ٹکراؤ کی سیاست کو بھی پیدا کرتا ہے ۔ اس لیے ہمیں فیصلہ سازی کی سطح پر خود کو ماضی اور حال کے مقابلے میں بہت زیادہ تبدیل کرنا ہے اور اس کو اختیار کیے بغیر ہم معاشی سطح پر کوئی بہتر منصوبہ بندی نہیں کرسکیں گے اور نہ لوگوںکو موجودہ معاشی نظام سے مطمئن رکھ سکیں گے۔ لیکن کیا حکمرانی کا نظام اپنے موجودہ کردار کو تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے اور کیا وہ خود کو عوامی ترجیحات کے ساتھ ہی جوڑ کر آگے بڑھ سکے گا ۔یہ وہ سوالات ہیں جو ہماری حکمرانی کے نظام میں موجود سیاسی اور معاشی ماہرین کے تناظر میں لوگوںکو درکار ہیںکہ یہ طاقت ور طبقہ کس کے ساتھ کھڑا ہے اورکیاان کی ترجیحات میں کمزور طبقہ شامل ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل