Monday, June 15, 2026
 

امن معاہدہ اوردنیا کا مستقبل

 



امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت اور معاہدہ طے پانے کی خبریں ایک ایسے خطے میں سامنے آئی ہیں جو گزشتہایک عرصے سے مسلسل کشیدگی، پراکسی جنگوں، اقتصادی پابندیوں اور جغرافیائی سیاسی رقابتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ اگر یہ معاہدہ اپنی مجوزہ صورت میں عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اسے صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا واقعہ قرار دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت سمجھا جائے گا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف علاقائی طاقتوں بلکہ عالمی سیاسی و اقتصادی حلقوں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے، کیونکہ اس کے اثرات تیل کی عالمی منڈیوں سے لے کر سلامتی کے بین الاقوامی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عسکری دباؤ کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ گزشتہ برسوں میں ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں نافذ کی گئیں، مالیاتی نظام تک اس کی رسائی محدود کی گئی، تیل کی برآمدات کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف سطحوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے باوجود مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ دوسری طرف ایران نے بھی یہ محسوس کیا کہ مسلسل محاذ آرائی کے باعث اس کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، عوامی توقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور علاقائی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ چنانچہ دونوں فریق اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ مذاکرات کا راستہ تصادم سے کہیں زیادہ سودمند ہو سکتا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اقتصادی معاملات مذاکرات کے مرکز میں ہیں۔ ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی محض مالی اقدامات نہیں بلکہ اعتماد سازی کے اہم ذرائع ہیں۔ ایران گزشتہ کئی برسوں سے شدید مہنگائی، بیروزگاری، کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور سرمایہ کاری کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے، اگر اربوں ڈالر مالیت کے اثاثے بحال ہوتے ہیں تو اس سے ایرانی معیشت کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جو طویل المدت اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ عالمی معیشت کے تناظر میں بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ماضی میں جب بھی اس علاقے میں کشیدگی بڑھی، توانائی کی عالمی منڈیاں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئیں اور تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا،  اگر معاہدے کے نتیجے میں سمندری راستوں کی سلامتی بہتر ہوتی ہے اور بحری نقل و حمل بلا تعطل جاری رہتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ توانائی درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچے گا جب کہ عالمی تجارتی سرگرمیوں میں بھی استحکام پیدا ہوگا۔ اس معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری کے نئے رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں خطے کی کئی ریاستوں نے محاذ آرائی کی پالیسیوں کے بجائے مفاہمت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری، خلیجی تعاون کونسل کے اندر اختلافات کا خاتمہ اور مختلف علاقائی تنازعات کے سیاسی حل کی کوششیں اسی بدلتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ موجودہ پیش رفت اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی معلوم ہوتی ہے، جس میں طاقت کے توازن کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ ترکیہ، قطر اور دیگر علاقائی طاقتوں کا فعال کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ کی ریاستیں اب اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ خودمختار سفارتی کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب خطے کے بیشتر تنازعات کے حل کے لیے مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر انحصار کیا جاتا تھا، مگر اب علاقائی ممالک خود ثالثی، مفاہمت اور مذاکراتی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ تبدیلی مستقبل میں ایک زیادہ متوازن اور خودمختار علاقائی نظام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان جغرافیائی، مذہبی اور سیاسی اعتبار سے ایک ایسی پوزیشن میں موجود ہے جہاں اسے بیک وقت ایران، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا ہوتا ہے، اسلام آباد نے سفارتی رابطوں میں انتہائی اہم تعمیری کردار ادا کیا ہے، یہ حقیقت ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کی کاوشوںکا ثمر ہے، جو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہوئی ہے،یہ اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم ترین کامیابی ہے۔ مزید برآں، خطے میں استحکام پاکستان کے اقتصادی مفادات کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ امن کی فضا تجارتی راہداریوں، توانائی منصوبوں اور علاقائی رابطوں کو فروغ دیتی ہے۔  تاہم اس پورے عمل کا سب سے حساس پہلو اسرائیل کا ردعمل ہے۔ اسرائیلی سیاسی اور عسکری قیادت طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا تزویراتی خطرہ قرار دیتی رہی ہے۔ اسرائیل کی متعدد حکومتوں نے عالمی برادری کو ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ایسے میں اگر واشنگٹن اور تہران کسی مفاہمت پر پہنچتے ہیں تو اسرائیل کے لیے یہ ایک غیر معمولی سفارتی دھچکا تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین اس پیش رفت کو نیتن یاہو کے سیاسی منصوبے کی ناکامی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل سمجھتا ہے۔ اگرچہ مجوزہ معاہدے میں جوہری سرگرمیوں پر نگرانی اور بعض پابندیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی حلقوں کو خدشہ ہے کہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی سے ایران کی مالی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ہوگا، یہی وہ نکتہ ہے جو مستقبل میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان بھی بعض اختلافات کو جنم دے سکتا ہے۔  لبنان کا معاملہ اس پورے منظرنامے میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے اقدامات کو لبنان سمیت مختلف محاذوں تک وسعت دی جا رہی ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، مگر زمینی حقائق کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ جنوبی لبنان میں سلامتی کی صورتحال، مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی اور اسرائیلی فوجی سرگرمیاں ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی وقت کشیدگی کو دوبارہ جنم دے سکتے ہیں۔ اس لیے محض اعلانات کو حتمی کامیابی تصور کرنا قبل از وقت ہوگا۔  ایرانی قیادت کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مفاہمت کو کمزوری کے اظہار کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا۔ ایرانی حکام بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات قومی مفادات اور خودمختاری کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔ یہ مؤقف داخلی سیاسی ضرورت بھی ہے، کیونکہ ایرانی عوام اور سیاسی حلقوں کا ایک طبقہ مغربی طاقتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسی طرح امریکی قیادت کو بھی داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جہاں بعض حلقے ایران کے ساتھ کسی قسم کی نرمی کے مخالف ہیں۔  اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معاہدے پر دستخط کسی عمل کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہوں گے۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب طے شدہ نکات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی جائے گی۔ جوہری نگرانی کے طریقہ کار، پابندیوں میں نرمی کی رفتار، مالیاتی لین دین کی شرائط اور علاقائی سلامتی کے معاملات ایسے موضوعات ہیں جن پر اختلافات دوبارہ سر اٹھا سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کی کمی کئی معاہدوں کو کمزور کر چکی ہے۔  موجودہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ فریق کتنی سنجیدگی، مستقل مزاجی اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہیں، اگر اعتماد سازی کے اقدامات تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، علاقائی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رہتی ہے اور فریقین اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرتے ہیں تو یہ پیش رفت ایک نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ بھی ماضی کی ان کوششوں میں شامل ہو جائے گی جو بلند توقعات کے باوجود عملی نتائج دینے میں ناکام رہیں۔  فی الوقت اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ آنے والے ہفتے اور مہینے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ معاہدہ خطے کو استحکام، ترقی اور تعاون کی نئی سمت عطا کرتا ہے یا پھر بداعتمادی اور تنازع کے پرانے دائرے دوبارہ غالب آ جاتے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ اس بار سیاسی دانش، علاقائی ضرورتوں اور اقتصادی حقائق کا امتزاج جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دے گا، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام کو ایک زیادہ محفوظ، خوشحال اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل