Friday, June 19, 2026
 

افغان طالبان کا پاکستانی سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کا گمراہ کن دعویٰ مسترد

 



وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ”آئی ایس کے پی“ کے ٹھکانوں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کے دعووٴں کو مسترد کردیا۔ اپنے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا، افغان طالبان کی حکومت، اپنے مختلف پروپیگنڈے کرنے والے افراد اور سرکاری بیانات کے ذریعے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں داعش کے کچھ مبینہ کیمپوں کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے، یہ دعوے ہمیشہ کی طرح جھوٹے ہیں۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت مختلف سرکاری بیانات اور پروپیگنڈا ذرائع کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے سرحدی علاقوں میں بعض مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو سادہ نوعیت کے ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا، تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ان کی کوئی قابلِ اعتبار شہادت موجود نہیں۔ فیکٹ چیک ونگ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ڈرون حملوں سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد خطے اور پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کی سرپرستی سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ داعش سمیت دو درجن سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے درحقیقت افغان طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود ہیں، جہاں سے ان کی سرگرمیاں اور مبینہ سرپرستی جاری ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں افغان طالبان کے دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات زمینی حقائق کے منافی ہیں اور خطے میں دہشت گردی کے اصل چیلنجز سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔   *???????????????? ???????????????????? | ???????????????????????????????? ???????? ???????????????????????????????????????????? & ????????????????????????????????????????????????* ◼️The Afghan Taliban regime through their various propaganda mouthpieces and official statements are claiming to have targeted some alleged ISKP camps in border areas of Khyber… pic.twitter.com/xyzutM6O3A — Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) June 19, 2026  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل