Loading
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اہم سفارتی رابطوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک نئے رابطہ نظام پر اتفاق سامنے آیا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق مذاکراتی نشست میں شریک فریقین نے نہ صرف جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا بلکہ لبنان کی صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے بھی قابلِ عمل تجاویز زیر غور آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تسلسل اور استحکام کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی۔
امریکی سفارتی حلقوں کے مطابق واشنگٹن نے مذاکرات کے دوران اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبنائے ہرمز ہر صورت کھلی رہنی چاہیے۔
اسی تناظر میں سیاسی نمائندوں اور تکنیکی ماہرین کے درمیان مستقبل میں رابطوں کے طریقہ کار اور شیڈول پر بھی اتفاق رائے حاصل کر لیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں شامل تمام فریق مجموعی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے نظر آئے اور بات چیت کے ماحول کو مثبت قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جن میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور قطر کے وزیراعظم کی موجودگی نے اس سفارتی عمل کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو عالمی امن کے لیے امید افزا قرار دیتے ہوئے مثبت نتائج کی توقع ظاہر کی جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے اور امریکا تہران کے ساتھ تعلقات میں نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ قطر کے وزیراعظم نے بھی مذاکرات کو خطے اور عالمی معیشت دونوں کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل